لے پالک

ندیم تابانی
کچھ چیزیں بہت معمولی اور عام سی لگتی ہیں لیکن ان کے ہونے اور نہ ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے اور دونوں طرف کے لوگ بہت حساس ہوتے، لڑنے بھڑنے کٹ مرنے کو تیار رہتے ہیں۔ پاکستان کا پورا نام ’’ اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ ہے۔ اس میں لفظ ’’اسلامی‘‘ کس کس حلقے کے کن کن لوگوں کے حلق میں کتنا چبھ رہا اور اندر تک دھنسا ہوا، پھنسا ہوا ہے۔یہ بات وہی جانتے ہیں، عام لوگوں کو اس اہمیت کا اندازہ، اس کے ہونے، نہ ہونے میں فرق ایک نظریہ بن گیا ہے گو اسلامی لگا کر بھی من مرضی سے بہت کچھ کیا جا رہا ہے لیکن پھر بھی اس کا ہونا ملک کے لیے رحمت اور نہ ماننے والوں کے لیے ہر لمحے کی مصیبت ہے۔

***

توہین رسالت اسلا م مخالفین کا من پسند مشغلہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو اپنے اس گھناؤنے اور ناپاک مشغلے سے نشانہ بنانے کی دن رات کوشش اور جنون میں مصروف رہتے ہیں۔ مغرب کی کاسہ لیسی کرنے والی سول سوسائٹی پل پل کے لیے ہدایات لینے میں مصروف ہے، اس وقت اس کی کوشش ہے کہ کسی بھی طرح توہین رسالت کے خلاف قانون کی شق میں من مانی تبدیلی وضاحت اور صراحت کے نام پر کی جائے یہ قانون موم کی ناک بن جائے۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مغرب کی آوازپر پی پی پی، تحریک انصاف اور ن لیگ اس بات پر ایکا کر سکتی ہیں۔

***

بجلی کے وزیر خواجہ آصف کہتے ہیں: اس سال کے آخر تک چھ ہزار میگا واٹ سسٹم میں داخل نہ ہوئی تو میرا گریبان حاضر ہے۔شاید خواجہ صاحب نے بجلی گریبان میں چھپا رکھی ہے، ذرا سا گریبان ہلایا اور بجلی حاضر۔ ارے سر جی ! عوام کو بجلی چاہیے ! گریبان نہ آپ کی جان۔ رہی بات سسٹم میں داخل ہونے کی تو جیسے آپ کی حکومت ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالنے کے اصول پر قائم و دائم ہے، اسی طرح آپ کی بجلی ایک طرف سے داخل ہو کر دوسری طرف سے نکلنے پر یقین رکھتی ہے۔ سسٹم8 میں آنے کا عوام کو کیا فائدہ ! اصل مسئلہ تو لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہے جو بتدریج ہی ممکن ہے، لیکن جب کمی ہی کارآمد اور دیر پا نہ رہے، خاتمہ کیسے ممکن ہے !

***

ڈان لیکس نامہ معاملہ بھی بار بار تازہ ہوتا، دبتا سوتا اور پھر ابھرتا ہے۔ کچھ لوگ اس کے ابھرنے سے بڑھ کر بپھرنے پریقین رکھتے ہیں، لیکن شایدبوٹوں والی سرکار معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہتی ہے۔ حکومت نے اپنے ترجمان اور وزیراطلاعات کی قربانی پیش کی، جو قبول کر لی گئی لیکن ھل من مزید کی فرمائش بھی کی گئی، سوچ و بچار کے بعد ایک نیا دنبہ تیار کرنے کی اطلاعات آرہی ہیں۔ موصوف خارجہ امور کے بین الاقومی ماہر ہیں، ممکن ہے نہ صرف پاکستان کی میاں حکومت ان کی اس مہارت سے محروم ہوجائے۔بلکہ امریکا سمیت دنیا بھر میں خارجہ امور کے ماہرین ان سے مزید استفادہ نہ کر سکیں۔کہا جا رہا ہے پاناما فیصلے کا اثر ڈان لیکس پر بھی پڑے گا۔

***

جناب زرداری فل جلال میں ہیں اور اگلا وزیراعظم بننے کے دعوے کر رہے ہیں، میاں صاحب کی بد دیانتی کا رونا روتے ہیں، آئندہ اعتبار نہ کرنے بلکہ بات ہی نہ کرنے کے لیے پُر عزم ہیں۔کہتے ہیں مینار پاکستان پر خود بیٹھیں اور اپنے منے کو مزار قائد پر بٹھائیں گے۔ پتا نہیں یہ بیٹھکیں قبضے کے لیے ہوں گی، باپ بیٹا مجاوری کریں گے یا کیا کریں گے، کچھ تو کرنا ہی ہو گا، سیاست میں زندہ رہنا تو کچھ دلیرانہ فیصلے کرنا ہو گا، اگر چی یہ دلیری پی پی کو مزید پیچھے لے جائے گزشتہ کئی سال سے یہی ہو رہا ہے۔

***

را کے لاڈلے لے پالک مسٹر کل بھوشن کو پاکستانی چنگل سے چھڑانے کے لیے مودی سرکار کے پاس جو راستے ہیں، ان میں ایک راستہ منت سماجت کا ہے۔ ہاتھ پاؤں جوڑ کر اعتراف کیا جائے کہ ہمارا ہی پٹھا بچہ ہے، جذبات میں آپ کی طرف نکل آیا۔ واپس کر دیں تاقیامت یہ اس جیسا کوئی آپ کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ انڈیا سرکار ٹرمپ سرکار سے مدد لے اور اپنے بندر کو پاکستان سے حاصل کرے۔ تیسرا وہ کوئی قانونی راستہ اختیار کرے جس کے لیے انہیں سردست کوئی بہانہ یا پہلو ہاتھ نہیں لگ رہا۔ ویسے سیدھا سادا راستہ تو یہی ہے کہ بندر کو لٹکنے دیا جائے۔ پھر اس پر سیاست کی جائے۔ ہندو سرکار بھی خوش عوام بھی حق میں، بندر لٹکنے کا جو شوق رکھتے ہیں وہ بھی پورا ہو جائے گا۔ بندر کے نام پر کئی سال سیاست کی جا سکتی ہے۔