سود کے خلاف مقدمے کی سماعت

حافظ عاکف سعید
وفاقی شرعی عدالت میں سود کے خلاف پٹیشن کی پچھلے دنوں سماعت ہوئی اور مزید سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔ سماعت کے دوران جو ریمارکس دیے گئے ہیں اس کے خلاف دینی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل آیا ہے۔ اللہ کرے کہ ردعمل تک ہی محدود نہ رہے بلکہ اس کا اگلا مرحلہ بھی آئے جو اس کا لازمی منطقی نتیجہ ہے کہ وہ متحد ہوکر اٹھ کھڑی ہوں کیونکہ ان ریمارکس سے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہماری حکومت سود کی لعنت سے آزاد ہونے کے لیے آمادہ ہی نہیں۔ گویا کہ اس کے نزدیک ملکی وقار کا سب سے بڑا ذریعہ یہ سودی نظام ہے۔ ہماری پوری حکومتی مشنری اسی انداز سے سوچ رہی ہے اور بدقسمتی سے جو کچھ عدالتوں میں ہورہا ہے وہ بھی شرمناک ہے۔

وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس ریاض احمد خان نے دوران سماعت جو ریمارکس دیے ہیں کہ جس وقت سود کی مما نعت کا حکم ہوا اس وقت کی معیشت آج کی معیشت سے مختلف تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اس دور کے نظام کو آج کس طرح نافذ کیا جاسکتا ہے؟چار رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو عدالتی معاون ڈاکٹر انور شاہ نے قرآنی آیات اور مفسرین کی طرف سے ربا، انٹرسٹ اور سود کے الفاظ کے تاریخی حوالے دیے۔ چونکہ یہ بحث دوبارہ چھیڑ دی گئی ہے کہ یہ درست ہے کہ قرآن میں ربا کو بہت بڑا جرم قرار دیا گیا لیکن بینک انٹرسٹ ربا نہیں ہے۔ یہ ایک مختلف شے ہے۔ یہ بہت پرانی بحث ہے اور اس پر 1991ء میں بھی وفاقی شرعی عدالت میں بحث دو ماہ سے زاید عرصے تک ہوچکی ہے۔ ساری دنیا سے ماہرین کو بلایا گیا اور سب کے دلائل سنے گئے جس کے بعد اسی سال عدالت نے یہ فیصلہ دے دیا کہ بینک انٹرسٹ بھی ربا ہے۔ آج پھر وہی بحث چھیڑ دی گئی ہے۔ حکومت نے بدنیتی کی بنیاد پر اس فیصلے کے خلاف اسٹے آرڈر لے لیا اور یہ معاملہ سپریم کورٹ کے اپیلیٹ بنچ تک نظر ثانی کے لیے پہنچ گیا۔ حالانکہ 1991ء کے فیصلے میں سودی نظام کے خاتمے کے بعد متبادل میکانزم بھی دے دیا گیا تھا۔ یہ معاملہ 8سال تک سرد خانے میں پڑا رہا جس کے بعد سماعت شروع کی گئی جو چھ ماہ تک جاری رہی۔ اس مسئلے پر ددوبارہ بحث ہوتی رہی۔ پوری دنیا کے ماہرین کے موقف کو دوبارہ سنا گیا جس کے بعد اپیلیٹ بنچ نے فیصلہ دیا کہ 1991ء کا فیصلہ درست تھا اورلہٰذا سے upholdرکھا۔ اب یہ بحث کہ سود اور ہے اور بینک انٹرسٹ اور ہے، چھیڑدیا گیا ہے۔ اس بہت بڑے المیہ پر سر ہی پیٹا جاسکتا ہے۔ یہ بھی ریمارکس دیے گئے کہ افراط زر کی وجہ سے کرنسی devalue ہوجاتی ہے۔ یہ ساری باتیں پہلے ہی زیر بحث آچکی ہیں۔ اپیلیٹ کے فیصلے کے بعد دوبارہ ریویو کے لئے وفاقی شرعی عدالت کو مقدمہ بھیجنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ تمام ماہرین کا کہنا یہ کہنا تھا کہ یہ سب کچھ بڑی بددیانتی کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس سے ہماری جوڈیشری کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ سوالات اٹھاکر سوائے پہلے فیصلوں کے بارے میں ابہام پیدا کرنا، اس کیس کو موخر کرنا اور بالآخر اس کے ساتھ کیا کچھ کرنا ہے، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سودی نظام کے ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

وفاقی شرعی عدالت میں بھی اکثر وہ جج بیٹھے ہیں جو سرے سے شریعت کے تقاضوں سے واقف ہی نہیں۔ 2002ء سے س مقدمے کو سردخانے میں ڈالا ہوا تھا۔ کچھ لوگوں نے بڑی کاوشوں کے بعد اسے سرد خانے سے باہر نکلوایالیکن اب اس کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے وہ سب پر عیاں ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کی کوشش ہی کہی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کسی انجام بد سے بچائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خطہ معجزانہ طور پر عطا کیا تھا۔ اس خطے میں ہر طرح کے وسائل بھی ہیں اور اللہ کی دیگر نعمتیں بھی موجود ہیں۔ ہم نے یہ ملک ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ ‘‘ کے نعرے پرصل کیا تھا۔ یہاں کیا ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے 1960کی دہائی میں یہ واضح کردیا تھا کہ بینک انٹرسٹ ربا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے یہی فیصلہ 1991میں دیا۔ تاخیر اس لیے ہوئی کہ ضیاء الحق کی حکومت نے یہ پابندی لگائی تھی کہ معاشی معاملا ت کے بارے میں دس سال کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے دائرۂ اختیارسے باہر ہوں گے۔ صرف یہی نہیں، پاکستان کے دستوراور انگریزوں کے چھوڑے گئے عدالتی نظام اور عائلی قوانین کوبھی اس کے دائرہ کار سے بھی باہر کردیا گیا تھا جبکہ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام زندگی کے ہر گوشے پر محیط ہے۔ دین کے ساتھ یہ مذاق جاری ہے۔ بہرحال جب دس سال کا عرصہ گزرگیا تو وفاقی شرعی عدالت نے سو د کے بارے میں فیصلہ صادر کیا۔ آج بھی ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں اور عدالت وہ ریمارکس دے رہی ہے جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا ہے۔ ہم یہ فریب کسے دے رہے ہیں؟اگر ہمارے دینی اور سیاسی قائدین یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتے کہ یہاں اسلام کا نظام عدل اجتماعی قائم ہو تو یقینی طور پر مجرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اللہ کی ناراضگی کے نتیجے میں کسی انجام بد سے بچائے، ہمیں دین کا صحیح فہم عطا کرے اور اس کے انفرادی اور اجتماعی تقاضوں کو پور ا کرنے کی ہمت و قوت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔