امریکا نے افغانستان میں سب سے بڑا غیر جوہری بم گرادیا

کابل: امریکی فوج نے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں سب سے بڑا غیرجوہری بم ’جی بی یو 43‘ گرادیا۔

امریکی فوج کی جانب سے یہ بم 13 اپریل کو گرایا گیا، اس بم کو تمام بموں کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔

ننگرہار صوبے میں گرائے گئے بم میں 21 ہزار 600 پاؤنڈ دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔

اس بم کو ٹارگیٹڈ جگہ کو نشانہ بنانے اور دیگر نقصان کم سے کم کیے جانے کی منصوبہ بندی کے وقت استعمال کیا جاتا ہے۔

امریکی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس بم کو عراق جنگ کے دوران بنایا گیا تھا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق سب سے بڑے غیر جوہری بم کو داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

نشریاتی ادارے نے امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ انتہائی وزنی بم کو ایم سی 130 جہاز کے ذریعے گرایا گیا، جس کا انتظام امریکی فضائیہ کے اہلکاروں کے پاس تھا۔

رپورٹ کے مطابق غیر جوہری بم کو مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے ٹارگیٹڈ جگہ پر گرایا گیا، فوری طور پر اس بم کے گرائے جانے سے ہونے والے نقصانات کا پتہ نہیں چل سکا۔

امریکی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سب سے بڑے جوہری بم کو گرائے جانے کے کاغذات پر افغانستان میں امریکا اور اتحادی فوج کے سربراہ جنرل جان نکولسن نے دستخط کیے، جبکہ اس کی حتمی منظوری امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل سے لی گئی۔