الیکٹرونک چپ لگنے سے معذور شخص پیروں پر کھڑا ہوگیا

واشنگٹن: ایک عرصے سے چلنے پھرنے سے معذور شخص کے بدن میں برقی پیوند لگایا گیا جس کے بعد وہ نہ صرف اپنے پیروں کھڑا ہوگیا بلکہ انہیں حرکت بھی دینے لگا ہے۔

یہ تجربہ امریکا کے مشہور اسپتال میو کلینک میں انجام دیا گیا اور ایسے تجربات پہلے ہوتے رہے ہیں تاہم اس تجربے سے مریض 15 دن کی تربیت کے بعد ہی شعوری طور پر اپنے پاؤں ہلانے لگا اور اپنے وزن پر کھڑا ہونے لگا۔ تین سال قبل یہ شخص کمر سے نیچے تک کے حصے سے معذور ہوگیا تھا اور اب ماہرین نے اس کے جسم کے اندر ایک الیکٹرونک چپ لگائی ہے جو دماغ کے پچھلے حصے یعنی حرام مغز (اسپائنل کورڈ) تک بجلی کے سگنل پہنچاتی ہے جس سے اس کے پیروں کو تحریک ملی اور وہ اپنے دونوں پاؤں پر پہلی مرتبہ کھڑا ہوا ہے۔

28 سالہ معذور شخص سخت فزیوتھراپی کے بعد اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونے اور پاؤں ہلانے کے قابل ہوا ہے۔ یہ آلہ دماغ کو سگنل بھیج کر موٹر نیورون کو سرگرم کرتا ہے جو بدن میں حرکت کنٹرول کرنے والے اعصابی خلیات ہوتے ہیں۔

اس کے لیے مریض کو 22 ہفتے ورزش اور تربیت کرائی گئی اور ہفتے میں 3 دن تک ٹریننگ دی گئی تھی تاکہ پٹھے (مسلز) اس کا بوجھ سنبھال سکیں۔ پہلے مریض کی کمر کے نچلے حصے میں آلہ لگایا گیا جو الیکٹریکل سگنل خارج کرتا ہے اس کے بعد حرام مغز کے متاثرہ حصے کے نیچے ایک برقیرہ (الیکٹروڈ) لگایا گیا۔ تربیت اور مسلسل مشق کے بعد مریض اپنے پیر ہلانے لگا اور چلنے پھرنے وغیرہ کے قابل ہوگیا۔

کیٹاگری میں : صحت