ماہرین تجرباتی طورپر ذیابیطس مکمل ختم کرنے میں کامیاب

کیلیفورنیا: ذیابیطس کا مرض پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے لیکن اب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہرین نے ایک ایسی دوا کی آزمائش کی ہے جس سے تجرباتی طور پر ذیابیطس کو ختم کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ اس سے کم ازکم چوہوں میں انسولین سگنلنگ کے عمل کو بحال کردیا گیا ہے اور ان کے خون میں شکر کی مقدار کسی دوا کے بغیر معمول پر آگئی ہے۔

پاکستان کی مانند دنیا بھر کے ممالک کی آبادی کے ایک واضح حصہ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا ہے اور روزانہ انسولین اپنے جسم میں اتارنے پر مجبور ہے۔ جامعہ کیلیفورنیا کی اسٹیفینی اسٹینفرڈ نے ایک خاص دوا ذیابیطس کے شکار چوہوں کو کھلائی جس سے ان کے جسم کے اندر انسولین سگنلنگ کا عمل بحال ہوگیا اور ان کا جسم قدرتی طور پر خون میں شکر کی مقدار قابو کرنے کے قابل ہوگیا۔

یہ دوا چوہوں کو روزانہ کی بنیاد پر کھلائی گئی اور اس سے کسی قسم کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس سامنے نہیں آئے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہےکہ اس گولی سے ذیابیطس کے علاج کا نیا طریقہ سامنے آیا ہے اوراگر مزید کامیابی مل گئی تو اس دوا کو انسولین کی حساسیت بحال کرنے میں اہم تصور کیا جائے گا۔ لیکن اس سے قبل انسانوں پر اس کی بھرپور آزمائش کی جانی ضروری ہے۔

یہ دوا ایک طرح کے اینزائم کو روکتی ہے جس کا مشکل سا نام ’’لومالیکیولر ویٹ پروٹن ٹائروسائن فاسفیٹیس‘‘ یعنی ایل ایم پی ٹی پی ہے۔ یہ خامرہ خلیاتی سطح پر بگاڑ پیدا کرتا ہے اور وہ انسولین کے اثر کو بے اثر کردیتے ہیں۔ ایل ایم پی ٹی پی کو ناکارہ بنانے کے بعد یہ دوا خلوی سطح پر انسولین ریسپٹر کو دوبارہ بحال کردیتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جگر کے خلیات کو بھی دوبارہ اپنا کام کرنے کے قابل بناتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایل ایم پی ٹی پی کے علاوہ بھی دیگر اینزائم شوگر کی وجہ بن سکتے ہیں جن پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

کیٹاگری میں : صحت