پی آئی اے کے سی ای او نے اپنے اوپرلگنے والے بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کردیا

اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر برنڈ ہلڈن برانڈ نے اپنے اوپر لگنے والے طیارے کی لیز میں بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طیاروں کی لیزنگ سے متعلق سب کچھ سمجھانے کو تیار ہوں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو کے دوران برنڈ ہلڈن برانڈ کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ پی آئی اے کے اخراجات پر نظر رکھے اور اگر انہیں میری دیانتداری پرکسی بھی قسم کا شک ہے تو وہ پوچھ گچھ کریں لیکن اس سے پہلے کسی بھی قسم کا اقدام بدنامی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کی تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں طیاروں کی لیزنگ سے متعلق بالکل بھی علم نہیں اس لئے میڈیا ٹرائل کے بجائے اداروں کو بیٹھ کر ہربات سمجھائی جاسکتی ہے۔

پی آئی اے کے سی ای او نے کہا کہ گزشتہ سال عالمی مارکیٹ میں طیاروں کی مانگ بڑھنے کی وجہ سے طیاروں کی لیز کے ریٹ بہت مہنگے تھے جب کہ پی آئی اے ایسی کمپنی نہیں جس کے ساتھ تمام لیزنگ کمپنیاں کام کرنا پسند کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے لئے مناسب طیارہ تلاش کرنا آسان کام نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی مانگ یہ تھی کہ اسے نیا یا تقریباً نیا طیارہ ملے جس میں وہ تمام سہولیات موجود ہوں جو جدید طیاروں میں ہوتی ہیں جیسے وائی فائی، فلیٹ بیڈ سیٹیں، انٹرنیٹ وغیرہ تو یقیناً اس طرح کے طیارے کی لیز کی قیمت ایسے طیارے کے مقابلے میں زیادہ ہوگی جو کہ 10 سال پرانا ہو اور اس میں یہ سب سہولیات نہ ہوں۔

برنڈ ہلڈن سے سوال کیا گیا کہ تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ پی آئی اے نے ایک طیارہ 8 ہزار ڈالر فی گھنٹہ سے زیادہ پر سری لنکن ایئرلائنز سے حاصل کیا جبکہ ایک مقامی فضائی کمپنی نے وہی طیارہ 4 ہزار ڈالر فی گھنٹہ لیز پر حاصل کیا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے برنڈ ہلڈن کا کہنا تھا کہ لیزنگ کے حوالے سے تحقیقاتی ادارے کی معلومات کس قدر ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ موازنہ سیب کا کیلے کے ساتھ کرنے کے مترداف ہے۔