چین اپنے بحری راستوں کی حفاظت کے لئے بحری افواج میں اضافہ کرے گا

بیجنگ: چین کی افواج ، پیپلز لبریشن آرمی ( پی ایل اے) اہم تجارتی پانیوں پر مرینز کی تعداد بڑھا کر ایک لاکھ تک کرے گی جنہیں ہارن آف افریقا کے ساحلی ملک جیبوتی اور پاکستانی ساحلی شہر گوادر سے گزرنے والے بحری تجارتی راستوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چین اپنے بحری تجارتی راستوں اور اثاثوں کی حفاظت کی سنجیدہ کوشش کررہا ہے اور اس ضمن میں کئی ایک اہلکار جیبوتی اور گوادر میں اپنے فرائض سر انجام دیں گے۔ آن لائن نیوز ویب سائٹ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ ( ایس سی ایم پی) کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی فوج پی ایل اے کی جانب سے انتہائی خصوصی مہارت کے یہ اہلکار چینی آبی تجارتی رہ گزرکی حفاظت کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان بحری اڈوں میں جیبوتی سے گزرنے والا بحری راستہ بہت اہم ہے جو ایشیا، افریقا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کو باہم ملاتا ہے، چینی عسکری ذرائع کے مطابق بری افواج سے اسپیشل کومبیٹ سولجرز کی دو بریگیڈ پہلے ہی مرینز میں شامل ہوچکے ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق پی ایل اے مرینز کی تعداد بڑھا کر ایک لاکھ کی جائے گی اور ساتھ ہی بحریہ سےوابستہ فوجیوں کی تعداد میں بھی 15 فیصد کا اضافہ کیا جائے گا۔

عام طور پر چینی مرینز چینی پانیوں میں ہی اپنی خدمات سر انجام دیتے ہیں تاہم اب بڑی کور کے بعد انہیں دوردراز بحری علاقوں اور بندرگاہوں میں تعینات کیا جائے گا۔ مشرقی اور جنوبی چائنا سی کی حفاظت، تائیوان سے کشیدگی اور دیگر چیلنجز کی بنا پر چین تیزی سے بحری افواج کی تعداد اور صلاحیت میں اضافہ کررہا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق گوادربندرگاہ خصوصی اہمیت کی حامل ہے جو آبنائے ہرمز کے بعد گہرے پانی کی دوسری اہم بندرگاہ ہے تاہم اس پر چینی افواج کی کوئی تنصیبات تعمیر نہیں کی جائیں گی البتہ مستقبل قریب میں یہاں بحری جہازوں کی آمد متوقع ہے۔