فیس بک نے’’ڈس لائیک‘‘بٹن کی آزمائش شروع کردی

سان فرانسسكو: سوشل میڈیا کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک نے اپنے میسنجر میں ناپسندیدگی یعنی ’’ڈس لائک‘‘ کا بٹن متعارف کرادیا لیکن اس کی فی الحال آزمائش کی جارہی ہے۔

گزشتہ سال جولائی تک فیس بک میسنجر پر ایک ارب افراد موجود تھے جب کہ پورے فیس بک سسٹم کو 2 ارب افراد استعمال کررہے تھے۔ فیس بک کی جانب سے اس میسنجر کو 2011 میں متعارف کرایا گیا تھا جس کے ذریعے صارفین اپنے دوستوں کو ذاتی پیغامات، چیٹ، مفت کالز اور گروپ چیٹ کرسکتے ہیں۔

پھر میسنجر میں دھیرے دھیرے احساسات بیان کرنے والی تصاویر اور ایموجی پیش کیے گئے جس میں پیار، غصہ اور اداسی وغیرہ سمیت 6 احساسات شامل ہیں۔ لیکن ان میں لوو یعنی محبت کا ایموجی سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اور اب تک 300 ارب افراد اسے استعمال کرچکے ہیں۔

فیس بک کے نزدیک ’’ڈس لائک‘‘ کا بٹن کسی گفتگو سے عدم اتفاق کو ظاہر کرے گا۔ فیس بک چاہتا ہے کہ ڈس لائیک کو کسی گروپ چیٹنگ یا معاملے پر ووٹ کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکے گا۔ اس سے قبل بھی فیس بک پر تھمبرڈاؤن بٹن کا مطالبہ کیا جاتا رہا تھا لیکن فیس بک کسی منفی جذبے کو پروان چڑھانے سے کترارہا تھا۔

فیس بک کے ایک آفیشل کے مطابق اس کی آزمائش جاری ہے اور ان کا کہنا ہےکہ وہ فیس بک میسنجر کو ہمیشہ دلچسپ اور متاثر کن بنانے کے خواہاں رہے ہیں، توقع ہےکہ کامیابی کی صورت میں اسے باقاعدہ طور پر فیس بک کا حصہ بنادیا جائے گا۔