‘کلبھوشن یادیو کو بھارت کے حوالے کرنے کا کوئی امکان نہیں’

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کے خلاف ناکافی ثبوت ہونے کی بات نہیں کی بلکہ اس کے خلاف کیس تیار کیا جارہا ہے۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی جانب سے سینیٹ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی حکومت نے بھارت کو کلبھوشن یادیو اور اس کی سرگرمیوں سے متعلق باضابطہ آگاہ کردیا ہے جبکہ داخلی معاملات میں بھارتی مداخلت کے واقعات میں ملوث ہونے سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھی آگاہ کیا جاچکا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال مارچ میں حساس اداروں نے بلوچستان سے بھارتی جاسوس اور نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا تھا۔

‘را’ ایجنٹ کی گرفتاری کے چند روز بعد اس کی ویڈیو بھی سامنے لائی گئی، جس میں کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا تھا کہ اسے 2013 میں خفیہ ایجنسی ‘را’ میں شامل کیا گیا اور وہ اس وقت بھی ہندوستانی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی صدارت میں ہونے والے سینیٹ اجلاس میں جمع کرائے گئے اس جواب میں مزید کہا گیا کہ دیگر ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو بھی بھارتی مداخلت کے حوالے سے آگاہ کرنے پرغورجاری ہے۔

سینیٹ کے وقفہ سوالات میں سینیٹر طلحہ کی جانب سے کیے گئے اس سوال پر کہ ‘کیاریمنڈ ڈیوس کی طرح کلبھوشن یادیو کو بھی ریڈ کارپٹ پر واپس بھجوایا جاسکتا ہے؟’ مشیر خارجہ کا کہنا تھا کلبھوشن یادیو کو بھارت کے حوالے کرنے کا کوئی امکان نہیں اورنہ ہی کوئی ایسی تجویززیرغور ہے۔