ٹرمپ کا صحافیوں کے سالانہ ڈنرمیں شرکت کرنے سےانکار

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 29 اپریل کو میڈیا اور مشہورشخصیات کیلیے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے خصوصی عشائیے میں شامل نہیں ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی یہ سالانہ تقریب اپنی رونق کیلیے مشہور ہے جس میں مشہور شخصیات، نامورصحافی اور سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ عموماً امریکی صدر بھی شریک ہوتے ہیں۔ امریکی صدر نیایک ٹویٹ میں کہاکہ براہ کرم ایک دوسرے کو مبارک باد دپیش کریں اور ایک بہترین شام گزاریں تاہم وائٹ ہاؤس میں کورسپانڈنٹ ایسوسی ایشن نے ایک بیان میں کہا صدر کے اعلان کا نوٹس لیا ہے لیکن ڈنر پہلے کی طرح اب بھی اظہاررائے کی آزادی اورصحت مند جمہوریت میں میڈیا کے اہم کردار کو سراہنے کیلئے بطور جشن منایا جائے گا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق 1924 سے لے کر آج تک امریکہ کے تقریباً سبھی صدور نے اس خاص ڈنرمیں کم سے کم ایک بار ضرور شرکت کی ہے۔ ادھرٹرمپ نے بیوروکریسی میں تحفیف کاحکمنامہ جاری کردیا جس کے مطابق وفاقی اداروں کوریگولیشن ریفارم ڈیوٹی فورسزتشکیل دینے کا حکم دیاگیا ہے۔ مذکورہ خدماتی ٹیم روزگار، فرموں، اقتصادیات کیلئے غیرضروری، نقصان دہ اورزخمت طلب ضوابط کا تعین کرتے ہوئے صدرکوسفارشات پیش کرے گی۔

دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کے نئے مشیرلیفٹیننٹ جنرل ایچ ارمک ماسٹر نے کہا ہے کہ دہشتگرد کارروائیاں کر نے والے مسلمان اسلام کا نام خراب کر رہے ہیں جبکہ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ایچ ارمک ماسٹر نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اپنے اسٹاف سے پہلی ملاقات میں کہا کہ انتہاپسند اسلامی دہشتگردی کی اصطلاح غیرنفع بخش رہی ہے کیونکہ دہشتگرد کارروائیاں غیر اسلامی ہوتی ہیں۔

امریکا کے محکمہ اندرونی سلامتی کے تجزیہ نگاروں کے جائزے کے مطابق امریکی اہلکار ٹرمپ کی تارکین وطن مخالف پالیسیوں کے حق میںقابل قبول شواہد تلاش کرنے میں ناکام ہو گئے، 7 اسلامی ملکوں کے تارکین وطن کے دہشتگرد ہونے کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا دعوی بے بنیاد ہے۔

رپورٹ میں کہا گیاکہ ایسے 82 افراد جن کے بارے میں دعوی کیا گیا تھاکہ وہ غیر ملکی دہشتگرد گروہوں سے متاثر ہوکر دہشتگردی میں ملوث رہے ہیں،کی آدھی سے زیادہ تعداد، امریکی شہری اور امریکا ہی میں پیدا ہوئی۔

دوسری جانب امریکی وزارتِ خارجہ نے شمالی کوریا کے خصوصی سفیرکو امریکی ویزا دینے سے انکارکر دیا۔ خصوصی سفیر چو سون ہوئی یکم اور دو مارچ کونیویارک میں سابق امریکی اہلکاروں سے میٹنگ کرنے والے تھے۔