پاکستانی پرچم لہرانے والوں کوغدارتسلیم کیا جائے گا،بھارتی آرمی چیف

نئی دلی: مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے متوالوں اور قابض فوج کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کرگئیں جس کے بعد بھارتی آرمی چیف کا کہنا ہے کہ وادی میں پاکستان کا پرچم لہرانے اور فورسز کے آپریشن میں رکاوٹ بننے والوں کو غدار تسلیم کیا جائے گا۔

مقبوضہ کشمیر کے علاقے ہندواڑا اور باندی پور میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی آخری رسومات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف بیپن راوت کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کو مقبوضہ کشمیر میں شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور مقامی افراد کے تعاون نہ کرنے کے باعث بھاری تعداد میں جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تاہم اب وادی میں پاکستان کا پرچم لہرانے والے کو دہشت گرد تصور کیا جائے گا اور فوجی آپریشن کے دوران اس میں رکاوٹ ڈالنے اور کارروائیاں کرنے والوں کو پناہ دینے والوں سے بھی سختی سے نمٹا جائے گا۔

بھارتی آرمی چیف نے بھڑک مارتے ہوئے کہا کہ فوجیوں پر حملہ کرنے والے آج بچ سکتے ہیں لیکن انہیں کل ضرور پکڑا جائے گا اور ان کے خلاف بے رحم آپریشن جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تخریبی کارروائیوں میں معاونت کرنے والوں کو موقع دیا جارہا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں ختم کریں بصورت دیگر ان کے خلاف فورسز کی جانب سے سخت رویہ اختیار کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ضلع باندی پورہ کے علاقے ہاجن میں مزاحمت کاروں کے حملے میں بھارتی فوج کے میجر ستش داہیا سمیت 4 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔