بھارت کو سب سے مہنگے دفاعی منصوبے میں پھر ناکامی کا سامنا

دنئی دلی: بھارتی بحریہ نے مقامی طور پر بنائے گئے لڑاکا طیارے ’’ایل سی اے تیجاز‘‘ کو مسترد کرتے ہوئے غیر ملکی لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کرلیا اور اس طرح بھارتی تاریخ کے طویل ترین اور سب سے مہنگے دفاعی تحقیقی منصوبے کو ایک بار پھر بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس وقت بھارتی بحریہ کو اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں کےلیے 57 نئے لڑاکا طیاروں کی ضرورت ہے جنہیں ٹیک آف اور لینڈنگ کے لیے کم فاصلے کی ضرورت ہو۔ اگرچہ یہ تقاضے پورے کرنے کے لیے ’’ایل سی اے تیجاز‘‘ میں کئی تبدیلیاں کی گئیں لیکن پھر بھی وہ اب تک اس قابل نہیں ہوسکا ہے کہ کسی طیارہ بردار بحری جہاز سے اُڑان بھر سکے۔

دسمبر 2016 میں بھارتی بحریہ کے سربراہ سنیل لانبا نے کہا تھا کہ ایل سی اے تیجاز کا بحری ڈیزائن ’’تقاضوں پر پورا نہیں اُترتا‘‘ کیونکہ اس میں ہتھیاروں سے لیس ہوکر طیارہ بردار بحری جہاز کے 200 میٹر لمبے رن وے سے اُڑان بھرنے کی صلاحیت نہیں۔ اس بیان کے فوراً بعد بھارتی بحریہ نے لڑاکا طیارے بنانے والی غیرملکی کمپنیوں سے رابطے شروع کردیئے اور اب تک انہیں امریکا کی بوئنگ سے ’ایف/ اے 18 اور سویڈن کی ’ساب‘ سے ’گریپن‘ کے بحری ورژن کی پیشکشیں موصول ہوچکی ہیں۔ توقع ہے کہ ایسا کوئی بھی سودا کئی ارب امریکی ڈالر کے مساوی ہوگا۔

بھارت نے 1983 میں مکمل مقامی ساختہ ہلکے لڑاکا طیارے (ایل سی اے) کا منصوبہ بڑی دھوم دھام سے شروع کیا تھا جسے بعد ازاں ’’ایل سی اے تیجاز‘‘ کا نام دے دیا گیا۔ اگرچہ اس منصوبے کو 1995 تک مکمل ہونا تھا، ان گنت انتظامی اور تکنیکی امور کی بناء پر یہ آج 33 سال گزر جانے کے بعد بھی پورا نہیں ہوسکا۔ اپنی مختلف خرابیوں کی بناء پراسے بھارت کے اندرونی ذرائع اور بین الاقوامی ماہرین کی جانب سے شدید اعتراضات کا سامنا ہے۔

ایل سی اے تیجاز منصوبے کا مجموعی بجٹ 74 ارب روپے (ایک ارب امریکی ڈالر) مقرر کیا گیا تھا لیکن اب تک اس پر کہیں زیادہ رقم خرچ ہوچکی ہے۔ بھارتی حکومت نے اپنی عزت بچانے کے لیے یہ 16 طیارے بھارتی فضائیہ کے سپرد ضرور کردیئے ہیں مگر ان کی حیثیت بھی محض نمائشی ہے۔

عالمی دفاعی حلقوں نے ایل سی اے تیجاز کو ’’بھارتی فضائیہ کا سفید ہاتھی‘‘ کا لقب دے رکھا ہے جب کہ بھارتی بحریہ نے بھی اس میں اپنی عدم دلچسپی سے عالمی دفاعی ماہرین کی رائے درست ثابت کردی ہے۔