کیا ہندوانہ سیاست پر اعتماد کیا جاسکتا ہے؟

محمد اسماعیل ریحان
پاک بھارت تعلقات میں نشیب وفراز آتے رہے ہیں۔ اکثر کشیدگی رہی ہے اور چارجنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ پاکستان کے دوٹکڑے بھی بھارتی نیتاؤں کی مہربانی سے ہوئے۔ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس کے باوجود ایک طبقۂ صحافیاں کااصرار ہے کہ ہندو بہت بھلی قوم ہے، ان میں کیسے کیسے ادیب، شاعر، مسلم دوست اور معتدل مزاج لوگ پیدا ہوئے۔ شرافت، ملنساری، شائستگی میں وہ کسی طرح ہم سے کم نہیں، مسئلہ پاک بھارت کا نہیں، ہندوؤں سے ہماری بدگمانی کاہے۔ اس لیے پہل بھی ہمیں کرنی ہوگی اور ہندوؤں سے ثقافتی، سماجی، فلاحی، تعلیمی اور تحقیقی منصوبوں کے عنوانات سے قربت اختیار کرناہوگی، یہاں تک کہ سیاسی طورپر بھی غلط فہمیاں دورہوں اور آخر کارپاک وہند چاہے الگ الگ ملک رہیں مگر بیرونی دنیا کے لیے ایک یونٹ بن کرکرۂ ارض کی عظیم ترین طاقت بن کرابھریں۔

یہ خیالات بڑے خوش نما ہیں جو ایک روشن مستقبل کاسپنا دکھاکر باربارڈسی ہوئی قوم کو چشمۂ آبِ حیات کی طرف بڑھنے سے روک کر پھر سے سرابوں میں لے جاناچاہتے ہیں۔ اس سے کس کوانکار ہے کہ شریف الطبع لوگ ہر قوم میں ہوتے ہیں۔ ہندؤوں میں بھی یقیناًہیں۔ جب’’یہود‘‘جیسی بدترین قوم کے بارے میں قرآن مجید کہتاہے :’’منہم امۃ مقتصدۃ‘‘ (ان میں ایک گروہ اعتدال پسند بھی ہے) توکسی بھی قوم کے بارے میں یہ بات مانی جاسکتی ہے۔ اس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ ہمیں اپنی ترقی اور استحکام کے لیے ہمسایہ ممالک سے اچھے روابط رکھنے چاہئیں۔ برابری کی سطح پر معاہدے کسی بھی کافر قوم سے ہوسکتے ہیں اور بھارت سے بھی ہوتے رہے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہندومجموعی حیثیت سے ایک قابلِ اعتماد قوم ہے؟ اور کیا تاریخ اس دعوے کاساتھ دیتی ہے؟

متحدہ ہندوستان کی تاریخ کو دیکھیے تومعلوم ہوگاکہ ہندوؤں نے شروع شروع میں مسلمانوں سے سخت ترین مزاحمت کی مگر رفتہ رفتہ ان کی قوت مزاحمت دم توڑتی گئی، شہاب الدین غوری کے حملوں اور قطب الدین ایبک کی دہلی میں خودمختاری کے بعد بارہویں صدی عیسوی کے آغاز میں یہاں مسلمانوں کی عظیم حکومت قائم ہوگئی جوخاندانِ غلاماں سے خلجیوں، تغلقوں، لودھیوں اور مغلوں میں تومنتقل ہوتی رہی مگر اقتدار بہر صورت مسلمانوں کے پاس تھا۔ ہندوؤں کی فطرت ہے ہَوا کارُخ دیکھ کر چلنے کی، اس لیے وہ مسلمانوں کے تابع ہوگئے۔ مسلمانوں نے انہیں پورے حقوق یہاں تک کہ اعلیٰ عہدے بھی دیے۔ ایک عام ہندو شخص مسلمانوں کی حکومت میں آرام وسکون سے تھا اور اسے حکمرانوں سے کوئی گلہ نہیں تھا مگر یہ بھی سچ ہے کہ برہمن اور پنڈت چھوڑیے، جاہل اور پست درجے کے ہندوبھی اپنے مذہب میں اتنے کٹر تھے کہ شاید ہی کوئی اور غیرمسلم ہو۔ ایک ہزار سال تک مسلم حکومت میں رہ کر بھی اس ملک کی اکثریت نہ سہی، نصف نہ سہی، تہائی آبادی بھی کلمہ گونہ بن سکی۔ چینی ترکستان سے بوسنیاتک ایسی کوئی مثال نہیں مل سکتی۔ اکثر ممالک میں جہاں مسلمانوں کی ایک دوصدی بھی حکومت رہی ہے، وہاں مسلم اکثریت ہوگئی۔ تاتاریوں جیسے اجڈ اور خوں خوار کروڑوں مسلمانوں کو قتل کرکے بھی آخر کارخود مشرف بااسلام ہوگئے، مگر ہندوؤں کی بات ساری دنیاسے نرالی ہے۔

ہاں اس کٹرپن کے باوجود مسلم دور میں ہندو کاشت کارہوں یاتاجر، وہ اپنے حقوق سے مطلب رکھتے تھے جیساکہ عوام کی فطرت ہے، انہیں مسلم حکمرانوں سے کوئی شکایت نہ تھی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوؤں کے شمشیر زنوں (راجوں مہاراجوں) اور مذہبی اجارہ داروں(برہمنوں، پنڈتوں) کی اکثریت دل ہی دل میں مسلمانوں کی حکومت کو نیست ونابود کردینے کے خواب دیکھتی رہی اور جب بھی اس طبقے کو کہیں آزادانہ حکومت بنانے کاموقع ملا، چاہے وہ چند سالوں ہی کے لیے سہی، اس نے ذرابھی دیر نہ لگائی اور اپنی چھوٹی سی مختصر مدت کی باغیانہ عمل داری میں مسلمانوں پر بھی جو ممکن ہوا، زیادتیاں کیں۔ زیادہ مثالیں دی جائیں توایک کتاب بن جائے مگرایک ہی مثال لے لیں، شیرشاہ سوری کے دور کی جومسلم سلطنت کاعہدِ عروج تھا، مگر اس وقت بھی راجستھان کے راجاپورن مل نے دو ہزار مسلمان لڑکیاں جن میں سادات گھرانے کی بہو بیٹیاں بھی تھیں اغواء کرکے اپنی خواب گاہ میں داخل کرلیں۔ کچھ مسلمان عورتیں کسی طرح شیرشاہ کے پاس پہنچیں اور بپتاسنائی، تب شیرشاہ نے اس ظالم کو کیفرکردارتک پہنچایا۔ التمش، جلال الدین خلجی، علاؤالدین خلجی، غیاث الدین تغلق، بابر، ہمایوں کون ہے جسے ہندو نیتاؤں کے زخم نہیں سہنا پڑے۔ معمولی بات کو شوشہ بنانا ان کی عادت تھی۔

سلطان فیروزشاہ تغلق کی کرم گستری اور فیاضی ومہربانی پر مسلم وغیرمسلم مؤرخین متفق ہیں، جس نے جون پور اور فیروز پور جیسے شہر بسائے۔ نہروں، سڑکوں، پلوں اور شفاخانوں کی تعمیر سمیت رفاہی خدمات اور تعمیر و ترقی کا کوئی شعبہ اس کی توجہ سے محروم نہ تھا۔ اس کے 40سالہ دورمیں کبھی کوئی چیز مہنگی نہیں ہوئی۔ اسی کے درباری علماء میں سے ایک نے فتاویٰ تاتارخانیہ مرتب کیے۔ غریبوں مسکینوں کے لیے بیس ارب روپے کا بجٹ الگ سے تھا۔ تمام ٹیکس ختم کردیے گئے تھے۔ اس کے باوجود برہمنوں نے اس کے دروا ز ے پر تادم مرگ بھوک ہڑتال کی۔ بادشاہ کاقصور فقط یہ تھاکہ وہ شرعی طریقے سے جزیہ لینے لگاتھا جس سے برہمن بھی مستثنیٰ نہ تھے۔ پنڈت صاحبان مرنے کے قریب ہوگئے تب ان کے چیلے منت کرکے انہیںیہ یقین دلاکرساتھ اٹھالے گئے کہ ان کا جزیہ وہ اداکردیاکریں گے۔ (تاریخ ہندوستان، مولوی ذکاء اللہ دہلوی :ج۲ص۲۲۲)

بہت کم مسلمان بادشاہ ہوں گے جن کا دور ہندو سیاست دانوں، ان کے گروبرہمنوں اور ان کے اندھے غلام راجپوتوں اور مرہٹہ شمشیر زنوں کی نیش زنی سے محفوظ رہاہو۔ اکبر کے دور کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس دوران ہندوؤں کی وفاداریاں دربارِ مغلیہ سے نسبتاً مستحکم نظر آتی تھیں مگر کس قیمت پر ؟سب کو معلوم ہے کہ اکبر کوا س کے بدلے اسلام سے دورہوناپڑا۔ ایک لبرل بادشاہ کی حیثیت سے سفر شروع کرکے وہ اسلام کوخیرباد کہنے تک جاپہنچا۔ دینِ الٰہی تک ایجاد کر ڈالا۔ ہندوؤں کے آداب و اطوار ہی نہیں بلکہ بعض عقائد ونظریات تک کو اپنایا۔ اسی لیے سینکڑوں مسلمان بادشاہوں میں سے ہندوؤں کوآج بھی فقط اکبر ’’آئیڈیل حکمران‘‘نظرآتاہے۔ مغلوں میں سب سے بڑی سلطنت اور نگ زیب عالمگیر کی تھی جو فقط بادشاہ نہیں، عالم دین اور ولی اللہ تھے، ان کے عدل وانصاف کی گواہی انگریز مؤرخ بھی دیتے ہیں مگر اس بندۂ خدا کوبھی ہندوؤں نے چین نہ لینے دیا۔ ان کی زندگی کے پورے 25سال پایۂ تخت سے دورجنوبی علاقے میں مرہٹوں کا زور توڑنے میں گزرگئے۔ آج تک ہندو صحافی اور نام نہادمؤرخ عالمگیر کے پیچھے لٹھ لے کرپڑے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ متشرع مسلمان تھے۔

پھر اور نگ زیب کی وفات کے چند سالوں بعد مرہٹوں کے سیلاب نے جنوب سے شمال اور مشرق کا رُخ کرلیا۔ پچاس سال تک یہ حملہ آور تختِ دہلی کو یکے بعد دیگرے اپنے حملو ں سے متواتر ہچکولے دیتے رہے۔ باجی راؤ مرہٹہ جسے آج بھارت میں قومی ہیرو مانا جاتا ہے، تقریباً نصف ہندوستان مسلمانوں سے چھین چکاتھا۔ مسلمانوں کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاکرفرنگیوں نے جنگ پلاسی میں سراج الدولہ کو شکست دی اور بنگال پر قبضہ کیا۔
(جاری ہے)