’’سوانح حیات‘‘

ڈاکٹرعبد القدوس ہاشمی
گزشتہ دنوں عاقل خان صاحب نے ایک ادبی شخصیت کی سوانح حیات پڑھی۔ اس بات کا علم ہمیں اتفاقاً ہوگیا۔ وہ ایسے کہ خان صاحب نے ہم سے کہا ڈاکٹر صاحب کیا بچپن میں آپ بھی دوستوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ ہم نے جواب دیا کہ ہمارے زمانے میں تو چھ سال کی عمر تک بچوں کو اسکول نہیں بھیجا جاتا تھا بلکہ کھیلنے کودنے کی مکمل آزادی ہوا کرتی تھی، ہم بھی اپنے دوستوں کے ساتھ گاؤں کی گلیوں میں کھیلا کرتے تھے۔ خان صاحب کا اگلا سوال تھا اپنے بچپن کے دوستوں کے نام بتائیے۔ ہم نے کہا گلّو، پھتا، اچھو، اجی اور پیجا وغیرہ۔ خان صاحب نے برا سا منہ بناکر کہا اب میں سمجھا کہ آپ بڑے آدمی کیوں نہیں بن سکتے۔ ہم نے مسکراکر کہا چھ سال کا بچہ اب بڑا ہوکر ترپن سال کا ہوگیا، آپ کے نزدیک ’’بڑا آدمی‘‘ کون ہوتا ہے؟ خان صاحب نے فرمایا بڑے آدمیوں کی سوانح حیات شایع ہوا کرتی ہے، میں نے سوچا تھا کہ اپ کی سوانح حیات لکھوں گا مگر آپ نے مجھے بہت مایوس کیا ہے۔ خان صاحب کی یہ بات سن کر ہم بھی کچھ پریشان ہوگئے، کیونکہ ’’بڑا آدمی‘‘ بننے کا سنہری موقع ہمیں ہاتھ سے نکلتا نظر آرہاتھا۔ ہم نے خان صاحب سے پوچھا کہ کس کوتاہی کی بنا پر وہ ہماری ’’بڑائی‘‘ کے بارے میں تردد کا شکار ہوگئے ہیں؟ خان صاحب بولے دراصل بڑے آدمی کے بچپن کے دوستوں میں اس طرح کے ’’پینڈو اسٹائل‘‘ کے نام نہیں ہوسکتے، پڑھنے والے آخر کیا تاثر لیں گے۔ ہم نے معاملے کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے یکدم سنجیدہ ہوکر عرض کیا خان صاحب ہم معذرت خواہ ہیں کہ ایک صاحب قلم آدمی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے غیرسنجیدہ ہوگئے، اب آپ کی وضاحت سن کر ہمیں آپ کے پاکیزہ عزائم کا علم ہوا، لہٰذا ہم سنجیدہ ہوکر جواب دیتے ہیں۔ ہمارے بچپن کے دوستوں کے ناموں میں آپ گل خان، فتح محمد، ارشد، اظہر اور پرویز کے نام لکھ سکتے ہیں۔ خان صاحب کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا، کہنے لگے یہ ہوئی نا بات۔ اب یہ بتائیں کہ بچپن میں جب آپ کھیلتے تھے تو کون جیتا کرتا تھا؟ ہم نے اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ذرا توقف کیا اور سوچا کہ جواب کہیں ایسا نہ دے بیٹھیں کہ خان صاحب دل برداشتہ ہوکر دوبارہ ہماری سوانح حیات لکھنے کا ارادہ ترک کردیں، چنانچہ ہم نے اس کے جواب میں سینہ تان کر کہا جب کبھی مقابلے کی نوبت آئی تو ہمیشہ جیت ہماری ہی ہوئی۔ خان صاحب کے چہرے پر اطمینان دیکھ کر ہمیں خوشی ہوئی۔

قارئین چونکہ ’’عاقل‘‘ نہیں ہیں، اس لیے عین ممکن ہے کہ ان کے ذہنوں میں ہماری اس بات کی سچائی میں شکوک وشبہات پیدا ہوئے ہوں، خاص طور پر ہمارے بچپن کے دوستوں سے ہمیں یہ توقع ہے کہ وہ ہماری یہ بات سن کر ہنسیں گے۔ خاص طور پر ’’نورا‘‘ تو ضرور ہنسے گا۔ اوہ معاف کیجیے گا ’’نورا‘‘ نہیں، بلکہ ’’نورمحمد خان‘‘ وہ ہمارا ہم عمر ضرور تھا مگر ’’ہم وزن‘‘ ہرگز نہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ ہمارے گھر میں فقط ایک بکری تھی اور اس کے گھر میں ایک گائے اور دو بھینسیں۔ ظالم کو دودھ پینے کا شوق بھی بہت تھا۔ ہمارے خیال میں بھینس کا ہر بچہ اس کو اپنا جڑواں بھائی سمجھتا ہوگا، رنگت کی وجہ سے نہیں بلکہ بھینس کے دودھ میں برابر کے شریک ہونے کے باعث۔ یوں تو ہماری پوری کوشش ہوتی تھی کہ کبھی اس کے ساتھ کشتی نہ کریں، مگر کئی دفعہ پرچیوں پر نام لکھ کر جب قرعہ نکالا جاتا تو ہمارے مقابلے میں اس کا نام نکل آتا۔ چنانچہ ہم نے بچپن میں کئی بار اس کے ساتھ کشتی کا مقابلہ کیا اور یہ سارے مقابلے بہت ہی یادگار رہے۔۔۔ اس کے لیے نہیں بلکہ ہمارے لیے۔ اس کے لیے یادگار تو تب ہوتے جب نتیجہ ’’مختلف‘‘ ہوتا، وہ تو جس کے ساتھ بھی کشتی کرتا نتیجہ ہمیشہ ایک جیسا ہی رہتا۔ ہمارے لیے یادگار اس لیے ثابت ہوئے کہ کافی عرصہ بعد بھی جسم کے کسی حصے میں جب درد اٹھتا تو ہم اس مقابلے کو یاد کرتے۔

بہرحال وہ اگر ہماری یہ بات سن لے کہ بچپن میں ہم کسی بھی مقابلے میں نہیں ہارے تو ضرور اختلافات کرے گا، مگر ہم قارئین کی اطلاع کے لیے واضح کردینا چاہتے ہیں کہ یہ اس کی پرانی عادت ہے، بچپن میں اس سے مقابلہ کرنے کے بعد جب ہم اپنے جیتنے کا اعلان کرتے تو اس وقت بھی وہ ہم سے اختلاف ہی کیا کرتا تھا اور چونکہ وہ موٹا اور طاقتور تھا، لہٰذا سارے تماشائی دوست بھی اس سے ڈرتے ہوئے اسی کے ہم خیال بن جاتے۔ حقیقت یہی ہے کہ ہم نے کبھی بھی اس سے ہار نہیں مانی اور ہارتا وہی ہے جو ہار مان لے۔ ہماری جیت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہم نے کبھی ہار نہیں مانی۔ ویسے آپس کی بات ہے، ہم نے اپنے سے کمزور لڑکوں کے ساتھ بھی جب کشتی کی تو تماشائی دوستوں نے کمزور فریق کی دل جوئی کے لیے اسی کو فتح مند قرار دیا، آخرکار تنگ آکر ہم نے کشتی کے مقابلوں میں حصہ لینا ہی چھوڑ دیا۔

تفنن برطرف، عاقل خان صاحب نے ہماری سوانح عمری لکھنے کے لیے کئی اور سوالات بھی کیے، جن کے ہم نے (ان کی) مرضی کے مطابق جواب دیے، مثلاً یہ بتایا کہ ہم بیگمات سے بالکل نہیں ڈرتے اور سیاست میں حصہ نہ لینے کی وجہ یہ ہے کہ ہماری سند اصلی ہے اور یہ کہ ٹرمپ کی کامیابی کی پیشین گوئی ہمارے محلے کے کتے نے کردی تھی، جسے پاگل ہونے پر گولی مار دی گئی۔ قارئین! آپ کو ہم اپنی سوانح عمری کی اشاعت کے بعد اسے ’’خرید‘‘ کر پڑھنے کا مشورہ بھی ضرور دیتے مگر خان صاحب نے آخر میں ہم سے ایک ایسا سوال کردیا جس کا جواب ہم نہ دے پائے، خان صاحب کا سوال یہ تھا ’’ڈاکٹر صاحب آپ کا انتقال پرملال کس سن میں ہوا اور آپ کا مقبرہ کہاں ہے؟؟‘‘