افغان پارلیمنٹ نے ہلمند میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی مخالفت کردی

کابل: افغان سیکیورٹی فورسز نے آپریشن اور جھڑپوں کے دوران ایک پاکستانی سمیت59 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان نیشنل فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں انسداد دہشت گردی آپریشنز کیے ہیں جن میں51 شدت پسند مارے گئے جن میں 3مقامی کمانڈر بھی شامل ہیں۔آپریشن کے دوران 28 شدت پسند زخمی بھی ہوئے۔

ادھر مغربی صوبہ فراہ میں افغان فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ایک پاکستانی سمیت 8 شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ صوبہ بدخشاں میں ایک مسجد کے قریب ہونے والے دھماکے میں 4پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔ صدر اشرف غنی نے اپنی جانیں قربان کرنے والے فوجیوں کے خاندانوںکو اگلے3 برسوں میں اپارٹمنٹس دینے کی ایک اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے ایک تقریب کے دوران جانیں قربان کرنے والے14فوجیوں کے خاندانوں کو اپارٹمنٹس کی چابیاں بھی دیں۔ افغانستان کی قومی اتحاد حکومت میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے وزیر ویس احمد برمک نے اعلان کیا ہے کہ 55 ہزار سے زائد خاندان جنگ اور بدامنی کے نتیجے میں بدستور بے گھر ہیں اور فوری مدد کی ضرورت ہے۔

ویس احمد برمک نے کابل میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایک لاکھ 63 ہزارخاندان جو بے گھر ہوگئے تھے، ان میں سے ایک لاکھ8 ہزار گھرانوں کے افراد اپنے علاقوں میں واپس آ گئے ہیں اور تقریباً 55 ہزار خاندان بدستور بے گھر ہیں۔ علاوہ ازیں افغان پارلیمنٹ نے ہلمند میں 300 امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی مخالفت کردی ہے۔

پارلیمان کی ایوان بالا مشرانو جرگہ کے کئی ارکان نے ہلمند میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہارکیا ہے اور اس ضمن میں افغان حکومت سے وضاحت پیش کرنے کے لیے کہا ہے۔ دریں اثنا افغانستان میں تعینات نیٹوکے فوجی مشن نے مغربی صوبہ فرح میں 200 نیٹو فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیاہے۔