صنعتکاروں کا سی پیک روٹ پرچینی صنعتوں کے قیام پراعتراض

جرات: پنجاب کے تین شہروں گجرات، گجرانوالہ اور سیالکوٹ کے تین چیمبرز آف کامرس جنہیں ‘گولڈن انڈسٹریل ٹرائی اینگل’ بھی قرار دیا جاتا ہے، نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے روٹ پر چین کی جانب سے صنعتی مراکز اور گودام تیار کرنے کے منصوبے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

تینوں چیمبرز کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چین کی جانب سے صنعتی مراکز کے منصوبوں کے پلان پر ان صنعتی شہروں کی کاروباری کمیونٹی کو بھی اعتماد میں لیں۔

وفاقی حکومت کو مقامی صنعتوں پر ہونے والے منفی اثرات سے بھی خبردار کیا گیا کہ ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان مکمل طور پر ایک صارفی مارکیٹ میں تبدیل ہوجائے گا جس سے مصنوعات سازی کا شعبہ مزید کمزور پڑے گا۔

گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (جی ٹی سی سی آئی) میں ہونے والے اجلاس میں تینوں شہروں کے چیمبرز کے صدور نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مقامی صنعتی مراکز پر مارے جانے والے چھاپوں اور کاروباری برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے بینک اکاؤنٹس سیل کرنے پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے ایف بی آر اُن کاروباری افراد کے لیے مسائل پیدا کررہا ہے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

اجلاس کی میزبانی گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ ابرار سعید شیخ نے کی، جس میں سیالکوٹ چیمبر(ایس سی سی آئی) کے صدر ماجد رضا بھٹہ اور گجرانوالہ چیمبر آف کامرس (جی سی سی آئی) کے صدر سعید احمد تاج بھی شریک تھے۔

اجلاس میں مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے جس کے تحت تینوں چیمبرز ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کریں جبکہ سالانہ 4 مشترکہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے، اس موقع پر تینوں چیمبرز سے تعلق رکھنے والے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔