حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی

مولانا زاہد الراشدی

گزشتہ سے پیوستہ:
ایک بار مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ان کا بیان تھا، حسب روایت بہت سے علماء اور کارکنوں کی دستار بندی کی پھر مجھے آواز دی۔ مگر جب میں پہنچا تو دستاریں اور رومال ختم ہو چکے تھے۔ سردیوں کا موسم تھا، انہوں نے اپنے سر پر گرم ٹوپی پہن رکھی تھی جس پر رومال بندھا تھا، وہ رومال کھول کر ٹوپی اتاری اور میرے سر پر رکھ دی۔ یہ ٹوپی اب بھی میرے پاس محفوظ ہے اور کبھی کبھی تبرک کے لیے پہنا کرتا ہوں۔ بعد میں کئی مواقع پر انہوں نے اس کا تذکرہ کیا اور مختلف مجالس میں یوں کہا کہ ’’میں نے راشدی والوں کو اپنی ٹوپی پہنا دی ہے اور اب اڑا پھرتا ہے۔ ‘‘

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میں اس وقت جو کچھ بھی ہوں چند بزرگوں کی دعاؤں اور شفقتوں کے باعث ہوں۔ ورنہ اپنے دامن اعمال کی طرف دیکھتا ہوں تو اس میں شرمندگی اور حسرت کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

نفاذ شریعت اور تحفظ ختم نبوت کے لیے کلمہ حق بلند کرنے اور علماء اور کارکنوں کو اس کی خاطر تیار کرتے رہنے کے علاوہ قدرت نے جو خصوصی ذوق حضرت درخواستیؒ کو ودیعت کیا تھا وہ دینی مدارس کا قیام تھا۔ جس علاقے میں جاتے دینی مدارس کی امداد کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے۔ مدارس کے سالانہ اجتماعات میں خود اپیل کر کے چندہ کراتے، جہاں گنجائش ہوتی اپنی جیب سے بھی دیتے۔ اپنے عقیدت مندوں کا نام لے لے کر انہیں جلسے میں کھڑا کرتے اور ان سے مدرسے کے لیے چندے کی اپیل کرتے۔ جہاں مدرسہ نہ ہوتا وہاں دینی درسگاہ قائم کرنے کی ترغیب دیتے اور کوشش کرتے کہ ان کی موجودگی میں ہی مدرسے کے قیام کی طرف عملی پیش رفت ہو جائے۔

ان کے ایک رفیق سفر میاں محمد عارف مرحوم واقعہ سناتے ہیں کہ قبائلی علاقہ کے سفر میں وہ ایک جگہ رکے تو لوگ ان کا نام سن کر جمع ہوئے۔ ایک صاحب حیثیت شخص نے انہیں اپنے گھر چلنے اور چائے پینے کی دعوت دی۔ اس سے پوچھا کہ یہاں کوئی دینی مدرسہ ہے؟ جواب ملا کہ نہیں۔ اس پر کہا کہ پہلے مدرسہ قائم کرنے کا وعدہ کرو پھر تمہارے گھر چلیں گے۔ اس نے وعدہ کر لیا۔ گھر پہنچے تو کہا کہ نیکی کے کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے، اس لیے مدرسہ کے لیے جگہ مخصوص کر دو۔ اس نے اپنے گھر کے ساتھ اپنی زمین میں ایک ٹکڑا مخصوص کر دیا۔ حضرت درخواستیؒ نے کہا کہ اب مزید دیر کس بات کی ہے؟ دو چار اینٹیں لاؤ کہ مدرسہ کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائے۔ وہ اینٹیں لایا اور مدرسہ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔ اس طرح وہ دوران سفر اس جگہ تھوڑی دیر آرام کے لیے رکے تھے کہ وہاں ایک دینی مدرسے کا آغاز کر کے آگے بڑھ گئے۔

افغانستان میں روس کی مسلح افواج کی آمد کے بعد جہاد افغانستان کا آغاز ہوا تو حضرت درخواستیؒ نے افغانستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقہ کا طوفانی دورہ کیا جہاں ان کے مرید اور شاگردوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ جہاد افغانستان کی حمایت میں پرجوش بیانات جاری کر کے پورے علاقہ میں جہاد کے حق میں فضا گرم کر دی، جس کے اثرات مدت تک محسوس کیے جاتے رہے۔ افغان مجاہدین کے ایک سرگرم راہنما مولوی نصر اللہ منصور شہیدؒ ایک بار شیرانوالہ لاہور میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی اجلاس کے موقع پر آئے اور کہا کہ میں حضرت درخواستیؒ کی زیارت کے لیے آیا ہوں جنہوں نے قبائلی علماء اور عوام کو جہاد افغانستان کی حمایت کے لیے تیار کر کے ہمارا راستہ صاف کر دیا ہے۔ حضرت درخواستیؒ آخر وقت تک علالت، ضعف، اور نقاہت کے باوجود جہاد افغانستان کے لیے فکرمند رہے اور اس سلسلہ میں بہت سے اجتماعات میں شریک ہو کر خطاب کیا۔

ایک موقع پر اسلام آباد میں افغان مجاہدین کی سات بڑی جماعتوں کے سربراہوں کو جمع کر کے انہیں آپس میں متحد رہنے اور دشمن کی سازشوں سے خبردار رہنے کی تلقین کی۔ ساتوں بڑے افغان لیڈر حضرت درخواستیؒ کے سامنے سر جھکائے بیٹھے تھے۔ لیکن جنہیں خانہ کعبہ کے اندر کیا ہوا معاہدہ متحد نہ رکھ سکا حضرت درخواستیؒ کی تلقین ان پر کیا اثر کر سکتی تھی؟
*۔۔۔*۔۔۔*