حصے بخرے

ندیم تابانی

اب تک کی سیاسی صورت حال کے مطابق عام انتخابات 2018ء کی دوسری سہ ماہی میں ہوں گے، اب سے تب تک کے لیے کس پارٹی نے کیا پالیسی اختیار کرنی ہے، کس نے کس کو ساتھ ملانا ہے، کس سے الگ ہونا ہے، کس کو گلے لگانا اور کس کو دھکے دینا ہے، یہ طے کرنے کے لیے پارٹیوں میں سوچ و بچار اور غور و فکر شروع ہے۔ بلاول کی پی پی کو یقیناًوکٹ کے چاروں طرف کھیلنا پڑے گا، پلے کچھ بھی نہیں اور چیلنج بہت بڑا ہے، حکومت سے فاصلہ رکھنا بھی اس کی سیاسی مجبوری ہے لیکن اس ضمن میں زیادہ سخت پالیسی رکھنا بھی اس کے لیے مضر ہے، مسلم لیگ ن کے پاس ایک سال ہے، اس سال میں حکومت ترقی کے جتنے تیر چلا سکے اس کے لیے اگلی باری دلانے میں معاون ہوں گے۔ اگر 2017ء کی گرمیاں بجلی کی یومیہ چھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے ساتھ بھی گزرجاتی ہیں اور جن منصوبوں کا اعلان میاں حکومت کر چکی ہے ان پر کام بھی شروع ہو جائے اگر چہ مکمل نہ ہوں تو ن لیگ فائدے میں رہے گی۔

***

تحریک انصاف ایک معنی میں شاید سب سے زیادہ مشکل میں ہو، کیوں کہ پاناما کا جھگڑ اطے کیے بغیر اس کے پاس سیاسی قیادت نہیں رہے گی جو محنت کرسکے، خان صاحب صرف تقریروں کے بل بوتے پر وزیر اعظم نہیں بن سکتے، اسٹیبلیشمنٹ میاں صاحب کے مقابلے میں خان صاحب پر اعتمادکرنے کے موڈ میں نہیں، میاں کے ساتھیوں نے بے وفائی نہ کی تو ان کے لیے زیادہ مشکلات نہیں ہوں گی، البتہ قدرت نے اگر گرفت کا فیصلہ کر لیا تو پھر ساری قوتیں مل کر بھی میاں صاحب کے لیے کچھ نہیں کر سکتیں، سردست اسباب کی دنیا میں ان کے لیے کوئی بڑا چیلنج نہیں سوائے پاناما کے ! اس سے نکل گئے تو اگلے انتخابات کے لیے ان کا راستہ صاف ہوجائے گا۔

***

مذہبی جماعتیں ہمیشہ کی طرح ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچیں گی ؟ اپنا ووٹ بنک تقسیم رکھیں گی یا کچھ سمجھ بوجھ سے کام لینا چاہیں گی؟ مولانا فضل الرحمن کے لیے موقع اچھا ہے، دینی جماعتوں کے اتحاد خصوصا اپنے ہم مسلکوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا، ان کے ہم مسلکوں کے لیے بھی غنیمت ہو گا اگر سیاسی قیادت اور نمائندگی کے لیے سارے ہم مسلک جے یو آئی میں ضم ہو جائیں۔ دوسرے مسلک والے جے یو پی میں ضم ہو جائیں۔ جماعت اسلامی سے بھی پوچھ لیا جائے، اس کی پالیسی ٹیڑھی ٹوپی والی ہی رہے گی، یا ٹوپی سیدھی کرنے کا موڈ ارادہ ہے اس کا۔ حافظ سعیدبھی اپنے ہم مسلک لوگوں کو کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع کر لیں، بس یہ چار کافی ہیں، باقیوں کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں۔

طے کر لیا جائے ایک حلقے میں ایک ہی امید وار ہو، ماضی کے ریکارڈ کی روشنی میں جہاں جس کا ووٹ بنک زیادہ ہے وہاں اس کی حمایت سب مل کر کریں، اس حمایت میں ڈنڈی نہ ماریں۔ بلکہ جہاں جس جماعت کا امید وار نہ ہو وہاں اس کے قائدین ضرور جائیں اور وہاں کے امید وار کی کھل کر حمایت کریں، مہم چلائیں۔ اگر ایسا اتحاد ابھی سے بن جائے، اس کی مدت کم از کم چھے سال طے کر لی جائے اور فورا سے پہلے تیاری شرع کر دیں ،تو انتخابات میں زبردست نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے ورنہ انتخابات کے بعد مذہبی جماعتوں کے پاس شاید ایک بار پھر ماضی کے قصے سنانے اور دہرانے کے سوا کچھ نہ بچے۔

***

مذہبی جماعتیں اس پر ضرور غور کریں کہ لوگ ان کو ووٹ کیوں نہیں دیتے، اور یہ بھی ضرور غور کریں کہ جو لوگ ووٹ دیتے ہی نہیں، ان کو کیسے آمادہ کیا جائے اور ان کو باہر کیسے لایا جائے اور اپنے حق میں ووٹ دینے پر کیسے تیار کیا جائے۔ اگر اس کے پیچھے چھپے راز مذہبی جماعتیں جان لیں اور اس مشکل کا حل جان لیں جو بہت سادہ، سلیس اور قابل فہم ہے تو نتائج سے سیکولر جماعتیں سر پیٹ لیں۔ لیکن لگتا ہے مذہبی جماعتیں دوسروں کا دُم چھلا بننے کا مزہ چھوڑنا نہیں چاہتیں۔ ایسا ہے تو پھر ایسا ہی سہی، نتائج تسلیم کر لیں۔

***

صاحب زادہ بلاول زرداری +بھٹوفل موڈ میں ہیں پارٹی کو ترقی دینے کے لیے لیکن ان کے ابا حضور ایک بار پھر دانت دکھانے اور ٹانگ اڑانے آرہے ہیں، اگر وہ آگئے اور واقعی آگئے تو نتائج 2013ء والے ہی ہوں گے، ممکن ہے، کہیں کہیں نتائج کچھ بہتر ہو سکیں، لیکن حکومت شاید صرف سندھ تک ہی رہے۔ رہی متحدہ قومی مومنٹ وہ ابھی حصے بخروں میں مشغول ہے، جب تک اس عمل سے فارغ نہ ہو جائے تب تک کسی کو رائے نہیں دینی چاہیے!