ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات

ابراہیم خلیل

اطلاعات کے مطابق ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات تیار کرنے والی متعدد صنعتوں میں پیداواری سرگرمیاں محدود ہوگئی ہیں۔ ملک میں کاٹن یارن کی قلت بھی پیدا ہوئی ہے،اس کے ساتھ ہی تمام خام مال کی فہرست طلب کرلی گئی ہے جس کی درآمد پر ڈیوٹی وٹیکسز عاید ہیں جس سے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدگی سرگرمیوں کے بلارکاوٹ جاری رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ کشیدہ حالات کے باعث بھارتی روئی اور دھاگے کی برآمدات نہ ہونے کے باوجود، ملک سے کاٹن یارن کی برآمدی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر میں مجموعی برآمدات کا 10 فیصد حصہ کاٹن یارن کا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات تیار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ چونکہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کو بڑھانے کے لیے کاٹن یارن سمیت اس شعبے میں استعمال ہونے والی دیگر بنیادی خام مال کی برآمدات روک لی جائیں، کیونکہ برآمدات کے جاری وساری ہونے کے باعث مقامی ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری ایک بار پھر بحران کا شکار ہوکر رہ گئی ہے۔

ادھر ملک میں کپاس کی مجموعی پیداوار رواں سال ایک کروڑ 15 لاکھ گانٹھ ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر موسمیاتی پیش گوئیاں درست رہیں تو پیداوار ایک کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ سکتی ہیں۔ البتہ 30 نومبر 2016ء تک کپاس کی 97 لاکھ 78 ہزار گانٹھوں کی پیداوار ریکارڈ کی گئی۔ جننگ سیکٹر والوں نے ان خیالات کا اظہار کیا ہے کہ چونکہ پنجاب میں موسم موافق رہاجس سے پیداوار میں بہتری آئی ہے۔ کاٹن جنرز فورم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 2015-16ء کے دوران پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار صرف 97 لاکھ 68 ہزار گانٹھیں تھیں، جس میں سے پنجاب میں 60 لاکھ 2 ہزار گانٹھیں ہوئیں۔ جبکہ رواں سال صرف 30 نومبر تک پنجاب میں 61 لاکھ 59 ہزار روئی کی گانٹھوں کی پیداوار ہوچکی ہے جو70 فیصد سے زائد روئی کی گانٹھوں تک پہنچ سکتی ہے۔

پاکستانی کمپنیوں کو ٹیکسٹائل خصوصاً ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سے متعلق اپنی مصنوعات میں فوری بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں راستے میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنا بھی حکومت کا فرض ہے۔ پاکستان کی ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کی بیرون ملک مانگ ہے، اس میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ دنیابھر میں ٹیکسٹائل سے متعلق اشیاء مصنوعات کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ٹیکسٹائل سے متعلق دنیابھر میں مختلف ملکوں میں نمائشوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے، جن میں اکثر نمائشوں میں پاکستان کی جانب سے بھی نمایندگی ہوتی ہے۔ جنوری 2017ء میں جرمنی میں ٹیکسٹائل کی نمائش منعقد کی جارہی ہے،جو اپنی نوعیت کی بہت بڑی نمائش ہوتی ہے۔ جس میں پاکستان اپنی ٹیکسٹائل مصنوعات کو پیش کرسکتا ہے،لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ معیار پر کوئی سمجھوتا نہ کیاجائے۔

اس وقت ملک میں کاٹن اور ٹیکسٹائل سے متعلق سرگرمیوں میں اضافہ ہورہا ہے،ایسی صورت میں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کی صنعت میں مختلف مسائل کا پیدا ہونا اور ان کا دور نہ کیا جانا بھی تشویش ناک ہے۔ کپاس سے متعلق سرگرمیوں میں اضافے کے باعث کاٹن مارکیٹ میں روئی کی قیمت 6600 روپے فی من رہی، جبکہ کپاس کی قیمت 3500 روپے فی من رہی۔

ملک میں کاٹن سے بنی مصنوعات میں کبھی اضافہ اور کبھی کمی بھی واقع ہوتی رہی ہے۔ پاکستان کی کل ایکسپورٹ میں اب بھی کاٹن سے بنی مصنوعات کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ 2009-10 ء کے دوران یہ حصہ 50.6 فیصد تھا، جو اگلے سال بڑھ کر 52.9 فیصد ہوکر رہا۔ بعد کے سالوں میں اس میں کمی واقع ہوئی، جبکہ 2013-14 ء میں یہ حصہ بڑھ کر 53 فیصد ہوگیا تھا۔ اگلے سال اس میں مزید اضافہ ہوا اور یہ حصہ بڑھ کر 54.5 فیصد ہوکر رہا۔ جبکہ 2015-16 ء کے لیے تخمینہ لگایا گیا ہے کہ یہ حصہ 58 فیصد تک جا پہنچے گا۔ ان اعدادوشمار کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ملک کے لیے زرمبادلہ لانے کا اہم ترین صنعت ٹیکسٹائل کی صنعت ہے۔ جبکہ یہی صنعت کافی مشکلات سے دوچار ہے۔

اب ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کے صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ بحران سے گزر رہے ہیں۔ لہٰذا اس مشکل ترین صورت حال سے نمٹنے کے لیے حکومت کو کئی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ادھر ارجنٹائن کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹر کی مصنوعات کی طلب موجود ہے۔ پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں۔ اگر پاکستانی ٹیکسٹائل سے متعلق صنعت کار اس بات کی طرف بھرپور توجہ دیں تو وہ ارجنٹائن میں موجود اپنے اپنے مدمقابل ممالک جیسے چین، بھارت اور دیگر ملکوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں، لیکن اس کے لیے زبردست پلاننگ کی ضرورت ہے اور حکومت کی جانب سے بھی ہر قسم کی معاونت کی ضرورت ہے۔