سندھ اسمبلی کا خلافِ اسلام بل

حافظ عاکف سعید

سندھ اسمبلی نے ایک بل منظور کیا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم مسلمان ہونا چاہے تو اسے 18سال کی عمر سے قبل مسلمان نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی 18سال کی عمر سے قبل اسلام قبول کرنا چاہے تو اسے اس کی اجازت نہیں ہے۔ الحمد للہ! مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے اس کا فوری نوٹس لیا۔ وہ مفتی محمد شفیع مرحوم جنہیں سب سے پہلے سرکاری طور پر مفتی اعظم پاکستان قرار دیا گیا تھا، کے صاحبزادے ہیں۔ انہوں نے اس بل پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ سندھ اسمبلی نے اقلیتوں کے حقوق کے عنوان سے ایک بل منظور کیا ہے، جس کی رو سے غیر مسلم کے 18سال کی عمر سے پہلے اسلام لانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور اسے قابل تعزیر جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ 18سال کی عمر سے قبل اسلام قبول کرنے والا بھی مجرم اور جو اسے اسلام لانے پر آمادہ کرے، وہ بھی مجرم۔ اسلام قبول کرنے پر پابندی، قانون، شریعت اسلامیہ اور عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔

یہ درست ہے کہ قرآن کریم کی رو سے کسی کو زبردستی مسلمان بنانا جائز نہیں اور اس پر پابندی حق بجانب ہے، لیکن دوسری طرف کسی کے برضاو رغبت اسلام لانے پر پابندی لگاکر کسی کو دوسرے مذہب پر باقی رہنے پر مجبور کرنابدترین زبردستی ہے، جس کا نہ شریعت میں کوئی جواز ہے اور نہ عدل و انصاف کی رو سے اس کی کوئی گنجائش ہے۔ اسلام کی رو سے اگر کوئی سمجھدار بچہ جو مذہب کو سمجھتا ہو، اسلام لے آئے تو اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کیا جائے گا۔ نیز اسلامی شریعت کی رو سے بچہ 15سال کی عمر میں بلکہ بعض اوقات اس سے بھی پہلے بالغ ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں جبکہ و ہ بالغ ہوکر شرعی احکام کا مکلف ہوچکا ہے، اسے اسلام قبول کرنے سے تین سال تک روکنا سراسر ظلم اور بدترین زبردستی ہے۔ اس قسم کی زبردستی کا قانون غالباً کسی سیکولر ملک میں بھی موجود نہیں ہوگا، چہ جائے کہ ایک اسلامی جمہوریہ میں اس کو روا رکھا جائے۔ نیز 18 سال کے بعد اسلام قبول کرنے کے لیے 21دن کی مہلت دینا بھی ناقابل فہم ہے۔ کیا ا س کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس مدت میں اس کے اہل خاندان اسے دھمکا کر اسلام لانے سے روکنے میں کامیاب ہوجائیں۔

پھر سوال یہ ہے دو میاں بیوی قانون کے مطابق اسلام لے آئیں۔ تو کیا اس قانون کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ ان کے بچے 18سال کی عمر تک غیر مسلم ہی تصور کیے جائیں گے۔ کیونکہ اس عمر سے پہلے انہیں اسلام لانے کی اجازت ہی نہیں ہے۔ اس قانون کی رو سے اپنے چھوٹے بچوں کو بھی وہ اسلام نہیں سکھا سکتے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس قاانون کے تمام مضمرات پر غور کیے بغیر محض اقلیتوں کو خوش کرنے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے تمام مسلمانوں اور دینی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ اس شرمناک قانون کو ختم کروانے کے لیے اپنا دینی فریضہ ادا کریں۔ انہوں نے وفاقی شرعی عدالت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس کا از خود نوٹس لے کر اس قانون کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ لینے کے لیے جو اختیار انہیں حاصل ہے، اسے استعمال کرتے ہوئے اسے غیر مؤثر قرار دیں۔

اب میں اس پر کچھ اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔ غیرمسلموں کے لیے تو یہ پابندی لگادی گئی کہ وہ 18 سال کی عمر تک اپنا مذہب تبدیل نہیں کرسکتا، لیکن ہمارے معاشرے میں عیسائی اور قادیانی بھی بہت سرگرم ہیں اور وہ بڑے پیمانے پر مسلمانوں کو پٹری سے اتاررہے ہیں۔ ایسے اعداد و شمار بھی سامنے نہیں کہ سال میں کتنے لوگ عیسائی اور قادیانی ہوئے۔ یہ کام دین دشمنوں کی تبلیغی مشنریاں مسلسل کررہی ہے۔ انہیں کھلی چھٹی ہے اور کوئی قانون اس سے انہیں باز رکھنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ یہ اللہ کو غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اگرچہ ہم نے پہلے بھی کسر نہیں چھوڑی۔ اللہ کے دین کے ساتھ جو مذاق روا رکھا جارہا ہے، اس کا ایک مظہر سودی نظام کا جاری رہنا ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے کھلی جنگ ہے۔ ہم اللہ کو اپنا رب اور محمد ا کو اپنا رسول مانتے ہیں، لیکن ان کے خلاف بغاوت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اللہ کے حضور اپنی سرکشی سے تائب ہونے کے لیے تیار نہیں۔ سودی معیشت، ابلیسی نظام، بے حیا تہذیب کا فروغ جو شیطان معاشرے میں پھیلانے میں مصروف ہے، یہ سب ملک میں جاری ہے۔ یہاں اللہ کا دین تو پہلے ہی قائم نہیں ہے۔ شیطانی دجالی نظام ہم نے قائم رکھا ہوا ہے، جس پر اس بل کی صورت میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ پتہ نہیں اللہ ہمیں کب تک مہلت دیتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں توبہ کرنے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین