انسانی غلامی کا ماضی اور حال

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

گزشتہ سے پیوستہ:
مسلمانوں نے کم و بیش ایک ہزار سال تک دنیا میں مشرق سے مغرب تک حکومت کی، اس دوران غلامی کی زنجیریں کٹتی چلی گئیں اور اگر کہیں کٹ نہ سکیں تو اس قدر ڈھیلی پڑ گئیں کہ آقا اور غلام ایک ہی صف میں نظر آنے لگے۔ گویا آقا اور غلام کے معنی بدل گئے۔ ایک ہزار سال میں بڑی قوموں نے چھوٹی قوموں پر خواہ وہ غیر مذہب سے ہی متعلق تھیں، اپنا ناجائز تسلط نہیں جمایا، انہیں اپنا غلام نہیں بنایا، اپنی تہذیب و ثقافت ان پر مسلط نہیں کی، انہیں اپنی تعلیم و تکنیک کا محتاج نہیں کیا، انہیں اپنے حق دفاع سے محروم نہیں کیا۔ ایک ہزارسال میں کوئی جنگ عظیم نہیں ہوئی، باپ کے مرنے کے بعد پرامن انتقال اقتدار ہوتا اور اگلا بادشاہ تخت نشین ہو جاتا، کبھی انقلاب آئے بھی تو دو خاندانوں کے درمیان چند سوانسانوں کی قربانی سے راستہ صاف ہو گیا، اس دور کی تاریخ لاکھوں شہریوں کے قتل سے آنے والے کسی انقلاب سے خالی ہے۔ ایک ہزار سالہ دور میں مقتدر مسلم اقوام نے محکوم اقوام کے محروم طبقات کو حقوق کے نام پر باہم نہیں لڑایا، کمرشل ازم کے نام پر نوخیز بچیوں کی مسکراہٹ کو اپنے کاروبار کی وسعت کا ذریعہ نہیں بنایا، عورتوں کے حقوق کے نام پر ان کی شرم انگیزآزادی سے آلودہ معاشرہ اس دورانیے میں کہیں نظر نہیں آتا اور نہ ہی جانوروں، پرندوں، چوپایوں اور درختوں تک کی افزائش نسل کرنے والا انسان اس پورے دور میں کہیں اپنی نسل سے بیزار نظر آتا ہے۔

کم و بیش گزشتہ تین سو سال سے مسلمانوں کے رو بہ زوال ہونے سے سیکولرمغربی تہذیب نے دنیا میں اپنے جھنڈے گاڑے ہیں۔ آج تین صدی بعد واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ گویا زمانہ قدیم کی غلامی ایک بار پھر اپنے نئے رنگ و روپ کے ساتھ آن موجود ہوئی ہے۔ فرق صرف ایک ہے ماضی کے غلام، احساس غلامی سے عاری نہ تھے اور اپنے آپ کو غلام سمجھتے تھے، لیکن آج سیکولریورپی تہذیب کے غلام اس قدر غلامی میں ڈوب چکے ہیں کہ غلامی کو غلامی ہی نہیں سمجھتے۔ ’’گلوبل ویلج‘‘ دراصل گلوبل غلامی کا دوسرا نام ہے۔ یورپ کے سیکولرازم نے دنیا سے اس کا لباس چھین لیا ہے، دنیا سے اس کی مقامی زبان چھین لی ہے، دنیا سے مقامی تمدن اور علاقائی تہذیب چھین لی ہے۔ آج ٹیلی ویژن چینل کے کیمرے ڈھونڈتے اور تلاش کرتے پھرتے ہیں کہ کہیں کوئی پرانی تہذیب کے آثار ملیں اور اسے وہ قیمتی اثاثہ بنا کر دنیا کو دکھائیں۔ سیکولر اہل مغرب صرف اسی انسان کو مہذب مانتے ہیں، جو ان کا لباس پہنے اور ان کی زبان میں بات کرے۔ ٹوپی، پگڑی، پائنچہ کھلی شلوارقمیص یاکوئی علاقائی و مقامی لباس ان کے لیے غیر مہذب لوگوں کا لباس ہے۔

تعلیمی غلامی سیکولریورپ کا ایک اور شاخسانہ ہے۔ آج آزاد ممالک زیرعتاب ہیں کہ صرف ایسا نصاب پڑھایا جائے جو نوجوان کو سیکولر مغرب کا ذہنی غلام بنائے، ایسا نصاب تعلیم جو علاقائی، مقامی یا مذہبی بیداری کا سبب بنے، ان کے لیے ناقابل قبول ہے۔ ماضی کے حکمران آہنی یلغار سے دوسری اقوام میں اپنے غلام تلاش کرتے تھے۔ آج سیکولرازم کی تعلیمی اور تدریسی یلغار سے غلام تیار کیے جاتے ہیں۔ آفرین ہے کہ قرآن و حدیث پوری دنیا میں گئے، لیکن عربی تہذیب نہیں پہنچی۔ جبکہ سیکولر انگریزی تعلیم نے معیار تعلیم کتنا دیا ؟یہ نوشتہ دیوار ہے جو چاہے پڑھ لے، لیکن غلامی کے شعائربدرجہ اتم منتقل کیے۔ آج منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی بولنا اور انگریزی لباس پہننا ہی پڑھے لکھے ہو نے کی علامت ہے۔

ماضی میں جس طرح معاشی نظام کاایک بہت بڑا عنصر غلامی تھی، آج بھی بڑے بڑے عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے سیکولرمغرب نے پوری دنیا کو اپنا معاشی غلام بنا رکھا ہے، دنیاکی کوئی قوم سود سے آزاد نہیں ہے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی انسانیت مجبور ہے کہ اس معاشی غلامی کے طوق کو اپنی نسلوں کی گردن میں ڈالتی چلی جائے۔ ماضی میں صرف افراد ہتھیا منڈی لے جاکر فروخت کردیتے تھے، آج کاسیکولرمغرب دیگرممالک کے جنگلات، فصلیں اور بیمہ کے نام پر ان کی زندگیاں تک اپنے نام کر کے انہیں ملکیت سے محروم کر چکا ہے۔

ماضی میں جس طرح غلاموں کو حق دفاع حاصل نہیں تھا، آج کا یورپی سیکولرازم بھی چھوٹی قوموں کو ان کے پیدائشی حق سے محروم کرتا چلاجا رہا ہے۔ خود ایٹم بم برسانے والے دوسروں سے کہتے ہیں ہیں تم چونکہ اس کا غلط استعمال کرو گے، اس لیے اسے ترک کر دو، خود دنیا کی سب سے بڑی فوج رکھنے والے دوسروں سے کہتے ہیں کہ اپنی فوج کی تعداد کم کرو، خود دنیا کا تباہ کن ترین اسلحہ رکھنے والے دوسروں سے کہتے ہیں کہ تمہیں اس کا حق حاصل نہیں ہے، کیمیائی ہتھیاروں کے موجددوسری قوموں پر اس لیے چڑھ دوڑتے ہیں کہ شاید ان کے پاس ایسے ہتھیار موجود ہوں اور کیا آسمان نے ایسا وقت بھی دیکھا ہو گا کہ ہزاروں میل دور دوسرے ملکوں میں شہروں کو ادھیڑنے والے اور دریاؤں میں پانی کی بجائے انسانی خون بہانے والے سیکولرفوجی امن پسند ہیں اور اپنے ہی ملک، قوم، علاقہ اور ایمان کا دفاع کرنے والے دہشت گرد ہیں۔

ماضی کی غلامی اس لحاظ سے شاید بہتر تھی غداروں کی پرورش تو نہ کرتی تھی، آج کا سیکولرمغرب قوموں میں سے چن چن کر غدار تلاش کرتا ہے، انہیں دھونس، دھاندلی اور لالچ سے استعمال کرتا ہے اور پھر ٹشو پیپر کی مانند انہیں کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیتا ہے۔ ماضی کی غلامی نے جنسیت کی خاطر عورت کو اس کی مامتا سے محروم کیا تھا، آج کاسیکولرازم اس سے ہزار گنا زیادہ ننگ مامتا ہے۔ انسانیت کا راگ الاپتی سیکولرتہذیب نے انسان پر انسان کے بچے کو بوجھ بنا دیا ہے، عورت کو آزادی اور حقوق کے نام پر اس کی ذمہ داریوں میں تخفیف تو نہیں کی، البتہ اس کے ذمہ مردوں والے کام لگا کر اس کے فطری جوہر (نسوانیت )سے اسے محروم کر دیا ہے۔ ہیرے موتیوں جیسی نوخیزخوبصورت اور زمانے کی فریب کاریوں سے نابلد بچیاں فیکٹری پروڈکٹس اٹھائے گھرگھربیچتی ہیں یاسارا دن دفتر میں گزارنے کے باوجود بغل میں فائلوں کا ڈھیر دبائے اسٹاپ پرشام کے وقت میں گھرجانے کے لیے ویگن کا انتظار کرتی ہیں۔ زندگی کے جس بہترین وقت پر ان کی اگلی نسل، ان کے شوہراور ان کے خاندان کا حق تھا، اس سیکولرازم نے کمال چابکدستی سے دہری تلوار کے ذریعے عورت، مامتا، نسل اور خاندان سب کو سود کی ادائی کا ایندھن بناکر معیار زندگی کی بڑھوتری کے دہکتے تنور میں جھونک دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے غلامی کو فرد کی حد تک محدود کر کے اس کے اختتام کی جانب گامزن کر دیا تھااور یہ مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ دورکانتیجہ تھا کہ انسانیت مجبور ہوئی کہ جینوا یکارڈ کے ذریعے انسانوں کی خریدوفروخت پر پابندی لگائی جائے، لیکن ننگ انسانیت سیکولرتہذیب نے جمہوریت کے نام پر افراد کو آزادی کا جھانسہ دے کر تو پوری کی پوری اقوام کو اپنا غلام بنالیا ہے، ان کی فکر، ان کے مادی و انسانی وسائل اور ان کا عقیدہ و ایمان بھی فریب آزادی میں لپٹے ہوئے دور غلامی سے محفوظ نہیں! اس نیلی چھت کے نیچے اور اس زمین کے سینے پر صرف ایک دستاویزہی انسانوں کو ان کے حقیقی حقوق عطا کر سکتی ہے اور وہ خاتم النبیین، رحمۃللعالین، محسن انسانیت، داورِ محشر، امام الانبیاء ا کا خطبہ حجۃ الوداع!