کانپتا ہے دل ترا۔۔۔

عامرہ احسان

ربیع الاول کے چاند تلے بیٹھے ہم دنیا کا سفر بصد حیرت و حسرت دیکھ رہے ہیں۔ کہاں سیرت و کردار کی وہ عظمت، جس سے نبی کریم ا کی تشریف آوری پر انسانیت بہرہ مند ہوئی اور اب گھپ اندھیروں میں دجل و فریب کی چلتی آندھیاں جس میں ہم (عام انسان تو چھوڑئیے) قیادتوں پر فائز نمونے کے انسانوں میں انسانیت کی رمق تلاش کرتے ہانپ ہانپ جاتے ہیں۔ جمہوریت ترقئ معکوس کا سفر طے کرتی جہاں جا پہنچی ہے، اس کا مظہر علم و دانش، تفکر و تدبر قیادت کے اعلیٰ اوصاف کا منہ چڑاتے لیڈر ہر جا ٹرا رہے ہیں۔ امریکا میں ٹرمپ ہے۔ بھارت جیسی جمہوریہ، جو اصلی اور خالص جمہوریت کا دعویدار ہے، جہاں فوج کی تلوار سر پر لٹکتے رہنے کا کوئی تصور نہیں، جہاں آرمی چیف کی ’’تاج پوشی‘‘ تک نہیں ہوتی، وزارت عظمیٰ کے تابع، ایک عام افسر کی طرح آتے جاتے رہتے ہیں۔ اس ملک میں مودی ڈیڑھ ارب عوام کا نمائندہ ہو۔ وہ جو 8 سال کی عمر میں انتہا پسند ہند و تنظیم آر ایس ایس کا ورکر بنا۔ کم تعلیم کی وجہ سے مارا مارا پھرا، کسی آشرم (ہندو تعلیم کی درسگاہ) میں داخلہ نہ ملا۔ چچا کی کینٹین میں چائے بیچنے کا کام کرتا رہا۔ غیر روایتی، فاصلاتی تعلیم سے بالآخر بی اے، ایم اے سیاسیات کیا۔ ٹرمپ اور مودی میں قدرِ مشترک، میرٹ اسلام دشمنی ہے، جس کی بنا پر وہ ماقبل دجال دور کی قیادت کے اہل ہیں۔

شام میں بشار الاسد مسلمانوں کے حق میں بھیڑیا، مصر میں اسی کردار کا حامل السیسی، بنگلا دیش میں پھانسی گھاٹ فیم حسینہ واجد، برما میں نوبل امن سرخاب کا پر (سیاسی فراڈ عالمی انعام!) سر میں سجائے سوچی۔۔۔ جہاں سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت مسلمانوں کو آگ، دھویں اور خون کا سامنا ہے۔ مسلم خواتین عصمت دریدہ اور بچے در بدر! اسرائیل تو پھر ان سب ہی کا مسلم کش باپ ہے۔ ٹرمپ نے امریکا کے وزیر دفاع کی حیثیت سے جنرل جیمز میٹس کا انتخاب کیا ہے۔ یہ حضرت عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کی قیادت کر چکے ہیں۔ وہاں یہ ’’پاگل کتا‘‘ کہلائے! سو اب عراق، افغانستان کے بعد باؤ لے میاں کیا تارے دکھائیں گے؟ الاماں! خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دو۔۔۔! یاد رہے کہ کتا ان کے ہاں گالی نہیں، مرکز محبت ہے، اعزاز ہے۔ پرویز مشرف کی خدمات پر خوش ہو کر واشنگٹن پوسٹ نے وردی پوش کتے کا کارٹون چھاپا تھا بطور مشرف کے۔ امریکی میرین پٹا پکڑے تھا۔ جب ہمارے سفارت خانے نے اعتراض کیا تو وضاحت کی کہ یہ تو اعزاز بخشا گیا ہے! ہم گود میں بچے بھرتے ہیں، وہ کتے۔ ہم بچوں کو محبت سے چومتے ہیں، وہ کتوں کو۔

پچھلے دنوں ٹرمپ، نواز گفتگو زیر بحث رہی۔ ہم نے مارے شوق کے جاری کر دی۔ امریکا انکاری ہو گیا۔ ہمیں اپنے مقام پر رہنے اور ڈو مور کی گھرکی پڑ گئی، بلکہ یہ بھی یاد دلایا گیا کہ امریکا نائن الیون سے اب تک پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں 14 ارب ڈالر دے چکا ہے، جس پر امریکی اہلکار کی طرف سے یہ صفائی بھی پیش کر دی گئی کہ ’’ہم یہ رقم امریکی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے دیتے رہے ہیں۔ ‘‘ ربیع الاول میں یہ لکھتے ہوئے ہم لرز گئے، کیونکہ کفر کے مفادات کے کھلم کھلا تحفظ کا اتنا بڑا حوصلہ تو منافقین مدینہ کے پاس بھی نہ تھا۔ چھپ کر پسِ پردہ ساز باز پر سورۃ التوبۃ، سورۃ النساء میں اللہ کا قہر و غضب ان پر ٹوٹا تھا۔ نفاق بے نمازی ہونے کا نہ تھا کفر سے دوستی، خیر خواہی کا تھا، وگرنہ مدینہ کا منافق 5 وقت (خواہ سستی ہی کے ساتھ) مسجدِ نبوی میں نماز بھی پڑھتا تھا۔ ڈاڑھی بھی تھی۔ زکوٰۃ (مارے بندھے سہی) ادا کرتا تھا۔ اس کے باوصف یہ گناہ اتنا بڑا گردانا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی 70 مرتبہ استغفار بھی کام نہ آنے کی وعید سنائی گئی۔

اب جبکہ دنیا پوری ڈھٹائی اور بے حیائی سے تمام مسلم ممالک میں خونِ مسلم کی ارزانی پر کمربستہ ہے، ہم کہاں کھڑے ہیں؟ شام میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ روس اور چین سلامتی کونسل میں حلب میں جنگ بندی کی قرار داد ویٹو کر دیتے ہیں۔تازہ اطلاعات کے مطابق حلب میں بد ترین رقص ابلیس جاری ہے۔ سڑکیں لاشوں سے اٹ گئی ہیں۔ ایک بڑا انسانی المیہ سامنے ہے۔ ادھر امریکا و یورپ میں مسلمانوں کے لیے زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ مساجد اور نمازیوں پر حملے۔ خواتین کا حجاب خطرے میں ہے۔ باہر نکلنے میں خوف کا سامنا ہے۔ اسرائیل میں اذان پر پابندی۔ امریکا میں سیکرٹری اسٹیٹ کا ایک مضبوط امیدوار روڈی جیولیانی بھی رہا جو خارجہ پالیسی کا کوئی تجربہ نہ رکھتا تھا۔ واحد شہرت نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے نام پر شدت پسندانہ خیالات اور متشدد رویے کا حامل رہنا تھی۔ اس سے صرف ہوا کا رخ دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید یہ کہ دنیا بھر میں پولیس اور خفیہ اداروں کے اختیارات بڑھا دیے گئے ہیں۔ جمہوریت کا دور لد گیا۔ عوام کی حکمرانی خواب و خیال ہو گئی۔ اب خفیہ والوں کی حکمرانی ہے۔ زندانوں، عقوبت خانوں کے ذریعے جبر اور ظلم کی حکمرانی ہے۔ برطانیہ میں ناقدین نے ان اختیارات کے بے پناہ اضافے پر اظہار تشویش کیا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی کی طرف بڑھتے یہ قدم اچھی علامت نہیں، جبکہ پہلے ہی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت امریکی فوج اور سی آئی اے کو جنگی مجرم قرار دے چکی ہے۔ امریکی اہل کاروں نے ابتدائی رپورٹ کے مطابق 88 گرفتار شدگان پر شدید تشدد کیا اور وحشیانہ سلوک روا رکھا، تاہم امریکا اس سب کو مسترد کر چکا ہے!

اسی تسلسل میں اسرائیل (فلسطینیوں پر قہر و جبر کا ماہر) بھارتی فوجیوں کو کشمیر سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت دے رہا ہے۔ اب بھارتی فوج جعلی مقابلوں میں مسلمانوں کو مسلسل شہید کر رہی ہے۔ اگرچہ ہمارے ہاں یہ تسلسل سے جاری ہے۔ تازہ مثال (جو کھل گئی، سامنے آ گئی) مولانا یوسف کی ہے، جنہیں 9 ماہ قبل اٹھایا گیا اور پھر پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ یہ عالمی دجالی ہتھکنڈے ہم بھی استعمال کریں گے؟ پناہ بخدا! خونخوار امریکی رویے بھی تو دیکھیے کہ قندوز میں 2 امریکی فوجیوں کے بدلے 50 شہری بمباری میں مار دیے۔ ہم کیسی دنیا میں آن پہنچے۔ ایک طرف ظلم اور درندگی کی یہ کہانیاں، دوسری جانب دنیا میں معاشی عدم مساوات کا یہ عالم کہ روس میں 74.5 فیصد اور بھارت میں 60 فیصد قومی دولت محدود مخصوص امیر طبقے کے چنگل میں ہے۔ ٹرمپ بھی اسی کی نمائندگی کر رہا ہے۔

کتنا بڑا المیہ ہے کہ سسکتی بلکتی دنیا کے لیے شفا کے خزانے اور تریاق جس قوم پر اتارے گئے، وہ خود احساسِ کمتری کا زہر پی کر خود کشی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد دنیا نے جس حکمرانی کا ذائقہ چکھا ۔۔۔ الرحیق المختوم۔۔۔ آج بھی گلوبل ویلج کا علاج اسی میں مضمر ہے۔ علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی! چشمۂ نبوت سے فیض یاب ہو کر سیدنا عمر فاروقؓ نے 3براعظموں پر محیط جس سپر پاور کی بنیاد رکھی تھی۔۔۔ وہ عدل، انصاف، رحم دلی، امن، معاشی خوشحالی، ہر طبقے (اقلیتیں خواتین) کے حقوق کے تحفظ پر مستحکم ہوئی تھی۔ اسلام کے فیوض و برکات دیکھ کر مفتوحہ علاقے بلا جبر وا کراہ مسلمان ہوتے چلے گئے۔ وہ اپنے ظالم و جابر ہم مذہب حکمرانوں پر مسلم حکومتوں کو ترجیح دیتے دیتے ۔۔۔ اسلام کو دل دے بیٹھے۔ سیدنا عمرؓ کے فرمان کے مطابق ’’میں نے تم پر گورنروں (افسروں) کو اس لیے متعین نہیں کیا کہ وہ تمہاری چمڑیاں ادھیڑیں، تمہیں بے عزت کریں اور تمہارے مال غصب کریں، بلکہ انہیں اس لیے گورنر بنایا ہے کہ تمہیں کتاب اللہ اور سنتِ نبوی کی تعلیم دیں لہٰذا اگر کسی کا گورنر کوئی ظلم کرے تو وہ مجھے بتائے تا کہ میں اس کا بدلہ دلا سکوں۔ ‘‘

لیکن آج کا مسلمان کہاں کھڑا ہے؟ فرمان نبوی ہے: ’’میری امت میں ایسی اقوام رونما ہوں گی جن میں اھواء (خواہشاتِ نفس، فکری ٹیڑھ) یوں سرایت کریں گی جیسے کتے کے کاٹے کا اثرکہ آدمی کی کوئی رگ اور جوڑ اس کی تاثیر سے سلامت نہیں رہتا۔ ‘‘ (ابو داود) آج ہماری معاشرتی، سیاسی، معاشی، تعلیمی زندگی میں یہ زہر سرایت کر گیا ہے۔ اسلام ’’الدین‘ ‘(ہر شعبۂ زندگی پر اللہ کی حکمرانی، اطاعت و فرمانبرداری) کی بجائے مذہب بن گیا، جو چند رسومات میں سکڑ سمٹ کر زندگی گزارنے پر حکماً مجبور کر دیا گیا ہے۔ نظامِ تعلیم، توحید رسالت آخرت تک کی حقیقی پختہ تعلیم سے عاری ہے۔ سیاست پر مفاد پرست خاندانی بادشاہی اور لوٹ کھسوٹ کا غلبہ ہے۔ (حکمران / حکمرانی کے طلبگار طبقے کا سی ٹی اسکین کروا دیکھیں،دماغ میں بھی آنتیں معدہ ہی ہو گا!)

معاشرت پر ہندو، مغربی تہذیب کا دور دورہ ہے۔ ذرا فیصل مسجد کا تقدس بے پردہ رنگ ترنگے نکاح کی تقریبات اور تفریحی پارک بنے، نئے شادی شدہ جوڑوں کی سیلفیوں کے ہاتھوں پامال ہوتے تو دیکھیے۔ معیشت سود کا جنگل ہے۔ سو مغرب کی یلغار نے اس حدیث کا حرف حرف سچا کر دکھایا ہے۔ اس کا تریاق قرآنِ پاک اور سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دورِ خلافت کے احیاء میں ہے ؂
کانپتا ہے دل ترا اندیشۂ طوفاں سے کیا
ناخدا تو، بحر تو، کشتی بھی تو، ساحل بھی تو