داعئ اسلام جنید جمشید امرہوگئے!

مولانا محمد یعقوب

کوئی غیر مسلم کفر سے سچی توبہ کرکے اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لیتاہے تو اس کا بھی شان کریمی سے یوں اکرام کیا جاتا ہے کہ اس کے تمام پچھلے گناہ مٹادیے جاتے ہیں۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ گناہ سے سچی توبہ کرنے والاایسا ہی ہوجاتاہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔ مفسرین ومحدثین نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کی توبہ قبول فرماتے ہیں توان فرشتوں کے نوشتوں سے بھی اس گناہ کو مٹادیتے ہیں، جن کا کام ہی مخلوق کے اعمال نیک وبد کو درج کرناہے، بلکہ ان فرشتوں کو بھی یہ گناہ بھلادیتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ وہ اپنے بندوں پر غفور الرحیم ہے، اس کا تو اعلان ہے : سوبار گرتوبہ شکستی باز آ (اگر سوبار بھی توبہ توڑ چکا ہو، پھر بھی میری بارگاہ کی طرف لوٹ آ)

یہ بات بھی ہر عقل سلیم رکھنے والا انسان جانتا ہے کہ گناہ سے توبہ کے بعد دوبارہ نہ صرف خود اس گناہ کی اپنی جانب نسبت کو اچھا نہیں سمجھتا، بلکہ اور وں سے بھی یہ توقع رکھتاہے کہ اس کو سابقہ گناہ کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔ ایک نومسلم کو اس سے بڑھ کر کوئی بات تکلیف دہ نہیں محسوس ہوتی کہ اسے کفر کا طعنہ دیا جائے۔

حال ہی میں طیارہ حادثے میں اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کرنے والے محترم جنید جمشید صاحب کو قریب سے دیکھنے والے میری با ت کی تصدیق کریں گے کہ باوجود اس کے کہ انھوں نے گلوکار کی حیثیت سے قومی شناخت اور عوامی پذیرائی حاصل کی تھی، جب ان کی اس سابقہ شہرت، عزت، دولت، شناخت اور ’’کام یابی‘‘کے تذکرے کیے جاتے تھے تو وہ اس پر بجائے مزید کوئی اضافہ کرنے اور یادوں کی دکان سجانے کے یوں کہہ کر گزر جاتے تھے، یاررہنے دو، اللہ نے مجھے اس گمراہی کی زندگی سے نکالاہے، یہ اس کا بہت بڑا احسان ہے، اب کیوں سابقہ گناہوں کاذکر کرتے ہو۔۔۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا اپنے سابقہ کیریئرکوخیر باد کہناکسی حادثاتی رد عمل کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ کوئی جذباتی فیصلہ تھا۔ ان کی دعوت وتبلیغ کے کا م سے منسلک ہونے کے بعد کی ابتدائی تقاریرکو سن لیجیے، معلوم ہوجائے گا کہ انھوں نے اپنی زندگی کی کایاپلٹ کافیصلہ غور وفکر اور مکمل سوچ بچار کے بعد کیاتھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ میں نے اس فیصلے سے پہلے اس کے تمام مثبت اور منفی پہلوؤں پر غور کیا، میں نے خود سے سوال کیا کہ آج دنیا بھر میں تیری شہرت ہے، یہ سب داؤ پر لگ جائے گی، تجھے سننے کے لیے عوام وخواص کا جم غفیر امڈآتاہے، اتنا بڑامجمع پھر کبھی تجھے سننے کے لیے نہیں آئے گا، تیرے پاس یہ جو پیسے اور دھن دولت کی ریل پیل ہے یہ بھی ختم ہوکررہ جائے گی، تیرے پرستار نفرت کی نظر سے دیکھنے لگ جائیں گے، تو کیوں زیرو پر آنا چاہتا ہے؟ جب انھوں نے ان تمام سوالات کے اطمینان بخش جواب اپنے من میں پائے۔ تبھی انھوں نے اتنا بڑا فیصلہ کیاتھا اور اس فیصلے پر وہ نادم بھی نہیں تھے۔

وہ اپنی سابقہ شناخت کی طرف جا ناچاہتے تو ان کے لیے راستے کھلے تھے، اس کے باوجود وہ دوبارہ اس طرف کیوں نہیں گئے؟ صرف اس لیے کہ انھیں وہاں کی عزت، دولت، شہرت، پیسا، مقبولیت سے ایمان زیادہ عزیز تھا۔ وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے ہرشخص کواللہ تعالیٰ ایسا موقع زندگی میں ضرور دیتے ہیں، جو اس کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوتاہے اور یہ میرے لیے ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ گویا وہ اس فیصلے کے ذریعے پھولوں کی سیج کی بجائے کانٹوں کے بستر کا انتخاب کررہے تھے، لیکن کچھ تو تھاجو انھیں اتنے بڑے فیصلے پر آمادہ کررہاتھا۔ مولانامحمد مکی حجازی ہوں، مولانا طارق جمیل ہوں، شیخ الاسلام جسٹس (ر)مفتی محمد تقی عثمانی ہوںیا حاجی عبدالوہاب۔ ان صاحبان کی ترغیب ضرور تھی کوئی جبر نہیں تھا، جس کا وہ مقابلہ کرنے سے عاجز ہوتے، ان کی اہلیہ کا بھی ان کی استقامت میں کلیدی کردار تھا، لیکن بایں ہمہ جنید اپنے ماضی کی طرف جاناچاہتاتوجاسکتاتھا۔ وہ اگر نہیں گیاتو بصیرت کی بناپر نہیں گیا۔

طیارہ حادثے میں اڑتالیس مسافر لقمۂ اجل بنے، جن میں نوماہ کی بچی سے لے کر ستر برس کے بوڑھے تک مردوزن شامل تھے۔ ان سب کی ناگہانی موت انتہائی غم ناک واقعہ وسانحہ ہے، جس کے زخم جلد مندمل نہیں ہوں گے۔ ان میں سے محترم جنید جمشید کو سب سے زیادہ پذیرائی ملی، ان کے سب سے زیادہ تذکرے ہوئے اور اب تک ہورہے ہیں، ان کے غم کو زیادہ محسوس کیا گیا۔ اس کے اسباب کیاہیں؟یہ ایک ایساسوال ہے جس کے جواب دینے والوں کے جوابات سے یہ دل دوز حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ یہ قوم نظریاتی طور پر اس قدر تقسیم ہے کہ کسی کے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی کوئی متفقہ لائحہ عمل اختیار نہیں کرسکتی۔ ایک طرف لبرل پاکستانی ہیں، جن کا کہنا ہے کہ یہ پذیرائی اور مقبولیت اس وجہ سے ملی کہ جنید جمشید کی زندگی کے دو روپ تھے۔ پہلا ایک مقبول سنگرکا اور دوسرا ایک مذہبی مبلغ کا۔ جنید کو قومی سطح پر جو شناخت اور مقبولیت ملی اور اس سانحے کے بعد اس کا غم بھی قومی سطح پر منایا گیا۔ یہ سب اس کی پہلی شناخت کے سبب تھا۔ ان حضرات سے بصد ادب گزارش ہے کہ جنید نے اپنی پہلی شناخت کو چھوڑ کر ہی دوسری شناخت اختیار کی تھی۔ اگر اس شناخت کے ترک کرنے کے بعد بھی اس کی سابقہ خدمات کے آپ لوگ معترف تھے تو اس وقت کہاں تھے، جب جنید نے مالی حالات کی خرابی کی وجہ سے اپنے بچوں کو بھی اسکول سے اٹھوادیاتھا؟اس شناخت کے قدردانوں میں سے کون اس وقت آگے آیا تھاکہ جنید بھائی! ہم آپ کے فین ہیں، ہمیں آپ کی مالی پریشانیوں کا علم ہوا ہے، یہ ہماری طرف سے امدادقبول کیجیے، یہ بزنس ہم آپ کو لگاکر دے رہے ہیں، اس سے اپنی پریشانی کا مداواکیجیے۔

جہاں تک جنید جمشید شہید کی مذہبی شناخت کا تعلق ہے، تویہ روشن خیال لوگ اس کو چوں کہ جنید کی زندگی کی ایک بڑی غلطی سمجھتے ہیں، اس لیے کسی کام یابی کو اس کی طرف منسوب بھی نہیں کرناچاہتے، ہاں!وہ اس کی انسان دوستی کے معترف ضرور ہیں، لیکن اس گراں قدر دولت کوبھی فنونِ لطیفہ کا فیض قراردیتے ہیں، ان کے زعم فاسد میںیک راسخ العقیدہ مذہبی مبلغ جس کا فنونِ لطیفہ یا لٹریچر سے کوئی تعلق نہ ہو، وہ سب کچھ ہو سکتا ہے مگر انسان دوست نہیں۔ انسانیت کو اپنا مذہب گرداننے والے ان ’’عقل کل‘‘ قسم کے ’’دانش فروشوں‘‘ کو کون بتائے کہ انسانیت کو انسانیت کی رداپہنائی ہی اسلام نے ہے جس سے یہ شاکی وباغی ہیں۔ انسان دوستی کا درس اسلام ہی نے دیا ہے جو دین انسانیت ہے۔ ورنہ اسلام سے الرجک انسانوں کاکرداربھی وقتاًفوقتاًمیڈیا پر آتا رہتا ہے۔ گھریلوملازماؤں کی تشدد سے اموات، ایک فاضل وکیل صاحب کا اپنی ملازمہ کو اپنی مرسڈیز میں کتے کے ساتھ بٹھانا تو قریب ہی کی بات ہے۔ ایسی’’ انسانیت‘‘ کے نمونے آپ کو اپنے قریب ودور میں افراط سے نظر آجائیں گے۔

دوسری طرف حقیقت پسند مسلمان اور اہل وطن ہیں، جوسمجھتے ہیں کہ جنید کی اس مقبولیت کی وجہ اس کاایک داعی ومبلغ ہونا ہے۔ اس کا اسی کام میں خاتمہ بھی اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتاہے۔ جنید اپنی موت کے ذریعے ہمیں وہی پیغام دے گیاہے جس کولے کر وہ ملکوں ملکوں، شہروں شہروں پھرا۔ یعنی دین میں ہی عزت ہے، دین ہی میں دونوں جہانوں کی کام یابی ہے۔ یہی فکر، یہی سوچ، یہی عمل ہے جس نے جنید جمشید کو امر کردیاہے۔ ہمیں اللہ کی ذات سے یقین ہے کہ جنید کے جس طرح فرش پر تذکرے ہورہے ہیں، عرش پر بھی اسی طرح تذکرے ہورہے ہوں گے کہ یہ غیور اللہ کا قانون ہے، جوفقط اس رب کا ہوجاتاہے، وہ رب بھی اس کاہوجاتاہے۔