امریکا اور روس کی نئی سرد جنگ!

غلام نبی مدنی

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے امریکا کے حالیہ الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی پر ایک تہلکہ خیز رپورٹ شائع کی ہے، جس میں نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی میں روس کی مداخلت کو واضح کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق روس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن اور ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کی خفیہ ای میل چرا کر ویکی لیکس کو دیں جو الیکشن سے ایک ماہ پہلے منظر عام پر آئیں، جس سے ہلیری کلنٹن کی شناخت بری طرح مجروح ہوئی اور وہ الیکشن میں ہارگئیں۔ یاد رہے سی آئی اے کی اس رپورٹ سے پہلے ہلیری کلنٹن بھی انتخابات کے نتائج آنے کے فوراً بعد یہ کہہ چکی ہیں کہ انہیں جان بوجھ کر ہروایا گیا ہے۔دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ اور روس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ٹرمپ کے مطابق اس قسم کے الزامات لگانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے صدام پر مہلک ہتھیاروں کا الزام لگا کر عراق پر حملہ کیا تھا۔ دوسری طرف سی آئی اے کی اس رپورٹ پر اوباما نے 20 جنوری سے پہلے الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی روس نے امریکا کے حالیہ انتخابات میں مداخلت کی ہے؟ امریکی انتخابی سسٹم پر نظر دوڑائی جائے تو اس قسم کی مداخلت کی تردید ہوتی ہے، کیوں کہ امریکا کے انتخابی نظام کودنیا کا بہترین انتخابی نظام سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ انتخابات میں ووٹنگ کی تعداد کو دیکھا جائے تو ہلیری کلنٹن نے2.7ملین کے قریب ٹرمپ سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے، لیکن ٹرمپ الیکٹورل ووٹوں کی وجہ سے ہلیری سے جیت گئے تھے، البتہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انتخابات سے پہلے ہلیری کلنٹن کی ای میلز لیکس ہونے کی وجہ سے ہلیری کی جیت پر بہت زیادہ اثر پڑا اور ای میل لیک ہونے میں روس کے مبینہ کردار کی نفی بھی نہیں کی جاسکتی۔جس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2013ء میں امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکاراور مشہور ہیکر ایڈورڈ اسنوڈن نے جب ناسا کی خفیہ دستاویزات لیکس کیں تو امریکا نے اس کی گرفتاری پر بہت زور لگایا، لیکن گرفتار نہ کرسکے۔بعدازاں اسنوڈن روس بھاگ گیا، جہاں روس نے اس کو سیاسی پناہ دی۔ امریکا کے سخت احتجاج کے باوجود روس نے اسنوڈن کو امریکا کے حوالے نہیں کیا۔اس وقت بھی اسنوڈن روس میں موجود ہے اور کوئی بعیدنہیں کہ حالیہ امریکی انتخابات میں اس نے روس کی مدد کی ہو۔

دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر روس کو ٹرمپ کے لیے سائبراٹیک کی ضرورت کیوں پیش آئی؟اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ چوں کہ امریکی پالیسی کے برعکس ابتدا سے متنازع قسم کے بیانات دیتا رہاہے، جس میں روس کے ساتھ بہترین تعلقات، ایران پرلگائی گئی پابندیوں اور سابقہ حکومت کی کئی پالیسیوں پر سخت قسم کی تنقید بھی شامل ہے۔ان وجوہ پر روس ٹرمپ کے قریب ہونے لگا اور امریکی خفیہ ایجنسیاں اور دیگر دفاعی وانتظامی ادارے ٹرمپ سے دور ہونے لگے۔یہی وجہ تھی کہ ٹرمپ کی جیت سے پہلے کئی سابق فوجی جرنیلوں، امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ٹرمپ جیت گئے تو وہ کبھی ان کے ساتھ کام نہیں کریں گے، بلکہ موجودہ حکومت کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں نے بھی ٹرمپ کی جیت کے بعد اپنی نوکری چھوڑنے کا عندیا دیاتھا، چنانچہ ٹرمپ کی جیت کے بعد روسی صدر نے ٹرمپ کو سب سے پہلے مبارکباد دی اور مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق روس نے خفیہ طور پر ٹرمپ کی انتخابی مہم میں سائبر اٹیک کے علاوہ اور کئی طریقوں سے مدد کی ہے، چنانچہ ٹرمپ نے انتخابی مہم چلانے کے لیے کئی ایسے لوگوں کو اپنانمائندہ اور مشیر بنایا، جن کے روس سے تجارتی اور ذاتی تعلقات تھے۔پاؤل مینفرٹ اور کارٹر پیج نامی ٹرمپ کے انتخابی مہم کے نمائندوں کے بارے یہ تحقیقات سامنے آئی ہیں کہ ان کے روس سے قریبی تعلقات رہے ہیں، بلکہ کارٹر نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران ماسکو کا سفر بھی کیا تھا۔ سابق امریکی لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فلین جو ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران مشیر تھے، نے باوجود امریکی اداروں کے منع کرنے کے روسی نیوز ایجنسی کی ایک تقریب میں شرکت کی تھی اور روسی صدر کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا تھا، جس سے امریکا کے خلاف روسی پیگنڈے کو بہت تقویت ملی تھی۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کی حکومتی ٹیم میں بھی ایسے لوگ شامل کیے جارہے ہیں جن کے روس سے گہرے تعلقات ہیں، چنانچہ امریکا کے وزارت خارجہ ایسے اہم منصب کے لیے 65سالہ ریکس ٹیلرسن کا نام لیا جارہا ہے، جس کے بارے مشہور ہے کہ وہ روسی صدر پیوٹن کا دوست ہے اور روس میں تیل کے ذخائر تلاش کرنے کے لیے پیوٹن نے اس کی مشہورکمپنی ’’ایکسن موبل‘‘کو ٹھیکے دے رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ شام میں روس کی مداخلت پر ٹرمپ کی نیم خاموشی اور روس کے ساتھ خفیہ تعاون سمیت ایسے کئی وجوہ ہیں جن سے روس کے امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے والے الزامات کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس کا اظہار امریکی خفیہ ادارے اور تھنک ٹینک اس طور پر کرچکے ہیں کہ روس نہ صرف امریکی انتخابات میں اثرا نداز ہوا ہے، بلکہ کچھ عرصے پہلے جرمنی میں ہونے والے انتخابات اور برطانیہ کی یورپی یونین سے نکلنے والی بریگزٹ تحریک پر بھی روس نے اپنی خواہش کے مطابق کھل کر کھیل کھیلا تھا اور فرانس میں ہونے والے اگلے انتخابات میں بھی روس کی مداخلت کا امکان ظاہر کیا جارہاہے۔

اس صورتحال سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں کہ روس اس وقت بین الاقوامی سیاست پر اپنا اثررسوخ بڑھاتا جارہا ہے۔ دوسری بات یہ کہ آنے والے دنوں میں امریکا اور روس کی نئی سرد جنگ سے دنیا میں خطرناک قسم کے مسائل برپا ہونے کا خدشہ ہے، جس میں روس کا مشرق وسطی میں جاری خانہ جنگی کو طول دے کریورپ اور ایشیا پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکی اتحادی ممالک کو اپنا ہم نوا بنانااور امریکا کو ایشیا اور یورپ کی سیاست سے نکالنا شامل ہے۔ روس اور امریکا کی نئی سرد جنگ میں نقصان بہرحال انسانیت کا ہوگا جس سے بچنے کے لیے دنیا کو، بالخصوص عالم اسلام اور پاکستان کو ہردوممالک کیساتھ تعلقات پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔