ترکی اسرائیل تعلقات اورمشرق وسطیٰ پراثرات

غلام نبی مدنی
ترکی مشرق وسطی ٰ کا اہم ترین ملک ہے جو ایشیا اور یور پ کے سنگم پر واقع ہے۔ ترکی کی سرحدیں آٹھ ممالک سے ملتی ہیں، جن میں بلغاریہ، یونان، جارجیا، آرمینیا، یونان، ایران، عراق اور شام شامل ہیں۔ ترکی معاشی، دفاعی اور محل وقوع کے لحاظ سے بھی دنیا میں اہم مقام رکھتاہے۔ مشرق وسطیٰ بالخصوص شام، عراق کی کشیدہ صورتحال ترکی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ یہی وجہ ہے ترکی نے عراق اور شام سے ملحقہ ترک علاقوں میں شورش سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر فوجیں لگارکھی ہیں۔ بلکہ براہ راست فسادی عناصر کے خلاف کارروائیاں بھی شروع کر رکھی ہیں۔ 15جولائی کے ناکام فوجی انقلاب، شام اور عراق میں جاری خانہ جنگی، کرد باغیوں کی فتنہ انگیزیوں اور یورپی یونین کی ترکی سے مخاصمت کی وجہ سے ترکی اس وقت دفاعی پوزیشن پر کھڑا ہے۔ اپنی پوزیشن کو مستحکم رکھنے کے لیے ترکی خطے کے دیگر ملکوں کے ساتھ ماضی کی بہ نسبت نرم گوشہ اختیار کرنے پر مجبور ہے جس کا اندازہ روس کے جنگی طیارہ گرانے کے بعد روس جاکر طیب اردوان کی پیوٹن سے ملاقات، شام میں بشار الاسد کومعزولی کے بعد مشروط رعایت دینے کی حمایت، سعودی عرب کے ساتھ کافی عرصے تک سرد مہری کے بعد تعلقات کا نئے سرے سے آغاز اور اسرائیل سے 6 سال بعد دوبارہ سفارتی تعلقات کی بحالی سے لگایا جاسکتاہے۔

اسرائیل اور ترکی کے تعلقات کی تاریخ 1949ء سے شروع ہوتی ہے۔ غاصب اسرائیلی ریاست کے قیام کے وقت ترکی نے اسرائیل کی مخالفت کی تھی، لیکن پھر ایک سال بعد اس وقت کی ترک حکومت نے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرلیا۔ یوں رفتہ رفتہ اسرائیل اور ترکی کے تعلقات دفاعی، اقتصادی حتی کہ باہمی فوجی مشقوں اور انٹیلی جینس شئیرنگ تک بڑھتے گئے۔ 1967میں عرب اسرائیل جنگ کے وقت ترکی عرب اتحادکے ساتھ تھا۔ 2002ء تک اسرائیل اور ترکی کے تعلقات انتہائی گہرے رہے، اگرچہ اس دوران بھی ترکی کی طرف سے گاہے فلسطینیوںں کی مدد بھی کی جاتی رہی۔ 2002ء کے الیکشن میں طیب اردوان کی پارٹی کی جیت اور اردوان کے وزیراعظم بننے کے بعدترکی اور اسرائیل کے تعلقات نے نیا رخ موڑا۔ چونکہ ترکی کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات پہلے سے قائم تھے، اس لیے طیب اردوان نے باوجود اسرائیل سے نفرت کے 2005ء میں اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی حکومت کو برابری کی سطح پر تعلقات رکھنے اور مشرق وسطیٰ کو پرامن بنانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کی دعوت دی، لیکن اسرائیل مظالم سے بازنہ آیا۔ چنانچہ 2009 ء میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے خلاف طیب اردوان نے بھرپور احتجاج کیا۔ اس سے پہلے 2004ء میں حماس کے بانی شیخ احمد یٰسین کے قتل پر بھی اردوان حکومت نے اسرائیل سے سخت احتجاج کیا تھا۔ ادھر 2009ء میں ترک ٹی وی چینل پر اسرائیلی مظالم کے خلاف پروگرامز نشر ہونے پر اسرائیلی حکومت نے ترکی سے سخت احتجاج کیا۔ یوں ترکی اور اسرائیل تعلقات میں تناؤ بڑھتا رہا۔ چنانچہ 2009ء میں ڈیوس عالمی اقتصادی فورم پر طیب اردوان نے اسرائیلی مظالم کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی اور اسرائیل کے جنگی جرائم کو ہٹلر کی طرح قراردیا۔ 2010ء میں ترک حکومت نے حماس کے لیڈر خالد مشعل کو باقاعدہ ترکی بلاکر نئے سرے سے تعلقات کا آغاز کیا، جس پر اسرائیل نے ترکی سے سخت احتجاج کیا۔ بعدازاں 31مئی 2010 کو ترکی نے غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کے لیے فریڈم فلوٹیلانامی جہاز پرامدادی سامان بھیجا، جس پر اسرائیلی فوجیوں نے حملہ کیا اور جہاز کے عملے میں شامل 10 ترکوں کو قتل کردیا۔ اس حملے کی وجہ سے بالآخر طیب اردوان نے اسرائیل کے ساتھ 60 سال سے قائم تعلقات منقطع کردیے۔ اس کے بعد اردوان مسلسل اسرائیلی مظالم کے خلاف بین الاقوامی فورمز پر آوا ز اٹھاتے رہے۔ 2013ء میں اقوام متحدہ سے غزہ پر اسرائیلی مظالم رکوانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’صہیونیت انسانیت کے خلاف بہت بڑا جرم ہے‘‘۔

اس طرح اسرائیل کوبین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ 2013ء میں اسرائیلی حکومت نے باقاعدہ دنیا کے سامنے فریڈم فلوٹیلاحملے پر ترکی سے معافی مانگی اور تعلقات بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ ترک حکومت نے معافی قبول کرتے ہوئے نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا۔ تین سال بعد اسرائیلی حکومت نے نقصان کے ازالے پر حامی بھری اور فریڈم فلوٹیلا حملے میں مرنے والوں کو 200 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ یوں جون 2016ء میں باقاعدہ طور پر اسرائیل اور ترکی دونوں نے دوبارہ سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا۔ چند دن پہلے دونوں ملکوں نے اپنے اپنے سفیر بھی منتخب کردیے۔ اردوان حکومت کے مطابق تین شرائط پر ترکی نے اسرائیل سے تعلقات بحال کیے ہیں۔ فریڈم فلوٹیلا حملے پر معافی اور نقصان کا ازالہ کیا جائے گا، غزہ کی ناکہ بندی کا خاتمہ اورفلسطین بالخصوص غزہ میں امدادی اور فلاحی کاموں کی ترکی کو اجازت ہوگی۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق ان تین مطالبات کے باوجود یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے بھی سود مند ہے کیوں کہ اسرائیلی اپنی قدرتی گیس ترکی کے ذریعے یورپ تک پہنچا سکے گا، ترکی اسرائیل کے خلاف بین الاقومی فورمز پر خاموش رہے گااور حماس کے قبضے میں قید اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کے لیے ترکی مدد کرے گا۔

اسرائیل اور ترکی کے تعلقات بحالی کا یہ نیا دور کیسا رہے گا؟حتمی طور پر اس بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظرترکی کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے کیوں کہ ایک طرف شام میں ایران، روس، مصر مل کر بشار الاسد کا ساتھ دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے ترکی کے سرحدی علاقے بدامنی کا شکار ہوتے جارہے ہیں، بلکہ بشار کے اتحادی طیاروں کی بمباری سے ترک فوجی بھی شہید ہورہے ہیں۔ دوسری طرف فلسطین بالخصوص غزہ کے مسلمان کافی عرصے سے مسائل کا سامناکررہے ہیں۔ ان حالات میں ترکی کا اسرائیل کو مذاکرت کی میز پر بٹھاکر اپنا ایک دشمن کم کرلینا اور غزہ کے مظلوموں کی حمایت کے لیے راستے کھلوالینا یقیناًکامیابی ہے۔ ترکی باوجو داسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کے فلسطینیوں کا حامی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 22نومبر 2016 کو طیب اردوان نے پہلی مرتبہ اسرائیلی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا، اس میں انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کے باوجود فلسطینیوں کی نمائندہ جماعت حماس کو ایک سیاسی حقیقت تسلیم کیا اور ان کے ساتھ تعلقات رکھنے کی حامی بھری۔ اردوان کے اس بیان پر اسرائیل میں مظاہرے بھی ہوئے اور اسرائیلی عوام اور پارلیمنٹ کے بعض اراکین نے ترکی سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی سے فلسطینیوں کو فائدہ ہوگا۔ اس کے علاوہ ترکی اسرائیل کو شام کے قضیے پر اپنے ساتھ ملا کر بشارالاسد اور ایران پر د باؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔

gmadnig@gmail.com