آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں

سید ہ سلمیٰ بخاری

آج کل ہمارے معاشرے میں ایسی رسومات، تہواروں اور دن منانے کا رواج زور پکڑتے جارہے ہیں جن کا نہ ہماری دینی اقدار سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی ہماری مشرقی ثقافت سے ہی وہ لگا کھاتے ہیں اور ہمارا عمومی رویہ یہ ہے کہ ہم ان رسومات یا تہواروں کو منانے میں اندھادھند مگن ہیں، یہ سوچے بغیر کے ان کے مضمرات کیا ہوں گے۔ ابھی ہم ویلنٹائن ڈے، بسنت، مدرز ڈے، فادرز ڈے اور نہ معلوم کون کون سے ’’Days‘‘ کے ’’نافذ العمل‘‘ ہونے کے بارے میں ہی تشویش کا شکار تھے کہ ’’بلیک فرائی ڈے کے ’’بلیک‘‘ نے تو دماغ کو صاف ہی کردیا۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے (کیونکہ دماغ وذہن وضمیر تو گروی ہوچکے ہیں اور لوگ اب پیٹ سے ہی سوچ رہے ہیں) کہ جمعۃ المبارک کے مبارک ومقدس دن کو ہم سیاہی یا تاریکی سے تعبیر کرسکتے ہیں؟ یہودیوں نے اپنے مذہبی دن سنیچر کو اور عیسائیوں نے اپنے مذہبی دن اتوار کو تو ’’سیاہ‘‘ نہیں کہا۔ Black Starday اور Black Sunday کو نہیں منایا جاتا۔ البتہ اس برس بڑے تزک واحتشام سے ’’ Black Friday‘‘ منایا گیا اور وہ بھی ایک اسلامی نظریاتی ملک پاکستان میں۔ روؤں دل کو کہ پیٹوں جگر کو میں۔۔۔ اور اس کام بلکہ اس طرح کے بدترین کاموں کو مروج کرنے میں ہمارا میڈیا ’’حسب اوقات‘‘ حاضر تھا اور ہے۔ میڈیا کا کام تو بس اب اتنا ہی لگتا ہے کہ وہ ’’فنڈنگ‘‘ کرنے والوں کا آموختہ خود بھی یاد کرے اور دوسروں کو بھی کرواتا رہے، بلکہ تھوپتا رہے۔ نام کے مسلمان اور کام کے۔۔۔ جن سے شرمائیں یہودوہنود۔

ہمارے میڈیا کو تربیت کی سخت ضرورت ہے اور اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا اور اس کے وابستگان کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ ان کی پالیسیاں ہماری دینی، قومی اور ثقافتی اقدار کے منافی نہ ہوں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ ان غیرملکی ایام اور ثقافت کو مروج کرنے کی بجائے دین اسلام میں دیے گئے ان حقوق وفرائض کو واضح کرے جو ہر انسان، حیوان، جمادات، نباتات اللہ کی ہر مخلوق کے لیے ہیں، جن کا مطالعہ آج بھی غیرمسلم کرتے ہیں تو مسلمان ہوجاتے ہیں کیونکہ دین اسلام کی تحقیق ومطالعہ اور غوروخوض کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور ایک ’’دن‘‘ منانے کا نہیں بلکہ ہماری پوری زندگی کا احاطہ کرتا ہے اور یہاں ہر ہر بات صراحت ووضاحت سے موجود اور تمام مسائل کا حل دستیاب ہے۔ چنانچہ بالآخر وہ اسلام کے سایۂ رحمت میں ایک دن کے لیے نہیں بلکہ پوری زندگی کے لیے پناہ لے لیتے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ ان ایام کو منانے کو ہم نیو ورلڈ آرڈر کے تناظر میں دیکھتے ہیں جس کو رائج کرنے کی کوششیں کبھی تیز ہوجاتی ہیں اور کبھی مصلحتاً پسپائی اختیار کی جاتی ہے۔ چنانچہ پوری مشینری اور طاقت پیسہ بشمول میڈیا اس مقصد کے لیے لگایا ہوا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ درپردہ میڈیا کے پالیسی ساز کون ہیں۔ یہ ان دیکھے ہاتھ دنیا ممالک کے بھی پالیسی ساز ہیں، یہ ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جو ان کے مفادات کے مطابق ہوں اور سربراہان مملکت کی بھی تقریری یا چناؤ میں یہ ان دیکھی طاقتیں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ چاہے وہ امریکا کا صدر ہی کیوں نہ ہو۔ موجودہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم، ان کا منشور اور خیالات اور اب ان کے بیانات، پالیسیاں اور ترجیحات کو دیکھ لیجیے اور ان کی انتخابی فتح پر بھی غور کیجیے اور پھر ذرا جان ایف کینڈی، جرمن، جاپان، ہٹلر، نپولین وسابق امریکی صدر کلنٹن وغیرہ کے حشر کو بھی یاد کرلیجیے۔ سب کے پیچھے آپ کو ’’پروٹوکول‘‘ کی خفیہ کارفرمائی نظر آئے گی اور یہ خفیہ ہاتھ ہمیں نہ صرف حکومتوں، حکمرانوں، اداروں بلکہ معاشرتی طور پر بھی ان کا عمل دخل ہمیں واضح طور پر محسوس ہوگا۔

ہم شکوہ کرنے میں اپنے حکمرانوں سے بالکل حق بجانب ہیں (مقتدر ہرگز نہیں جو قومی مفاد کی پالیسی ساز نہیں بلکہ غیرملکی آقاؤں کی پالیسیاں نافذ کرنے والے ہیں ورنہ نوکری جانے کا خطرہ ہے) کہ کیسے المیہ کی بات ہے کہ ان تمام غیرملکی وغیراسلامی تقریبات، دن وثقافت منانے انہیں اپنانے پر تو کوئی پابندی نہیں بلکہ شراب کو شربت بناکر بیچنے کی کوششیں جاری ہیں اور انگریز کے قانون کو لاٹھی بنایا ہوا ہے۔ سو یہ لاٹھی اسلامی اقدار اور مولوی پر ہی آزمائی جاتی ہے کیونکہ مادر پدر آزاد معاشرے کی تکمیل کی راہ میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ کیونکہ ’’یہ مسکین سا ملّا‘‘ لبرلز اور سیکولرز کو ان کی عیاشیوں کے لیے ’’کلین چٹ‘‘ نہیں دے رہا اور مستقل اللہ اور آخرت سے ڈراتا رہتا ہے۔

کیا بوالعجبی ہے کہ رقص وسرود کو سندھ دھرتی کی ثقافت بتایا جارہا ہے جبکہ یہ ہندوؤں کی مذہبی اقدار ہیں۔ سندھ دھرتی تو صوفیوں، علماء، ولیوں، شاہ عبداللطیف، سچل سرمست، عثمان مروندی رحمۃ اﷲ علیہم کی سرزمین ہے۔ کیا ستم ہے کہ باب الاسلام سندھ کو محمد بن قاسم سے بغض کی بنا پر راجہ داہر کی جاگیر بتایا جارہا ہے جس نے اپنی بہن سے شادی کرلی تھی۔ اس عیاش سے سندھی ثقافت کا رشتہ جوڑا جارہا ہے۔ باب العلم سندھ کو دار رقص وموسیقی بنانے کی مذموم کوششیں جاری ہیں۔ پھر تعلیمی انحطاط کو کیا رونا چاہیے ،جب تعلیمی اداروں میں رقص وموسیقی کی تعلیم دی جائے گی تو اس میں سے رقاص اور گویے ہی نکلیں گے۔ عالم، فاضل، سائنس دان تو نکلنے سے رہے۔۔۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دین اسلام کی اشاعت، تبلیغ وترویج پر پابندی اور غیرمسلم ثقافت کی سرپرستی کی مذموم کوششیں جاری ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی جسارت اور اسلامی تعلیمات سے جہالت کی حد تک ناواقفیت اور اسلامی تاریخ سے نابلد حمیت سے بے بہرہ لوگوں کی سازش ہے۔ کیونکہ اسلام میں جس قدر لچک، رواداری اور بردباری ہے اور غیرمسلموں کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے، دوسرے مذاہب وعقائد میں اس کا تصور تک نہیں اور چونکہ دین اسلام کی تبلیغ وترویج کے لیے سب سے بڑا ہاتھ مولوی ، عالم وطالب علم، منبرومسجد وخانقاہ کا ہے، اسی لیے آئے دن ان پر ناروا پابندیاں لگائی جاتی ہیں ان کی تذلیل وتحقیر کی جاتی ہے۔ مدارس کے گرد شکنجہ کسا جاتا ہے، صرف اور صرف اس لیے کہ ایک مادر پدر آزاد معاشرہ وجود میں آسکے اور جو بچی کھچی معاشرتی اقدار ہیں ان سے بھی ہاتھ دھو لیا جائے، لادین اقدار کی ثقافت کو ہم جدید دین الٰہی یا آئین اکبری کہہ سکتے ہیں۔ جیسے آج کل ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔

آخر ہماری سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی ایک راستہ پر باحفاظت چلنے کے لیے ہر پیدل یا سوار وسواری کے لیے قانون ہے جس کی اسے پاس داری کرنی ہے تاکہ ہر کوئی بخیر وعافیت اپنی منزل تک پہنچ سکے۔ ہماری زندگی بھی ایک سفر ہے اور آخرت ہماری منزل ہے۔ تو ایک محفوظ آخرت کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں دین اسلام قاعدے و اصول وضوابط سکھاتا ہے جس کی پاس داری کرکے ہم اپنی منزل یعنی آخرت تک بخیر وخوبی پہنچ سکتے ہیں۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں ہمیں وہاں کے قاعدے اور قوانین کی پابندی کرنا پڑتی ہے، ورنہ قابل سزا ٹھہرتے ہیں بلکہ اسی طرح ہمارا جس مذہب یا دین وعقیدے سے تعلق ہے، ہمیں اسے پورا پورا اپنانا ہوگا۔ اگر ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اپنے آپ کو دین اسلام کا پیروکار سمجھتے ہیں تو ہمیں اپنے دین کی تمام تعلیمات کو دل سے ماننا، قبول کرنا اور اپنانا ہوگا۔ ورنہ یہود بے بہود کی طرح راندۂ درگاہ ہوں گے (خدانخواستہ) کہ جو پسند آیا اپنا لیا اور جو ناپسند یا مشکل ہو اسے چھوڑ دیا۔ اسی طرح یہود ونصاریٰ سے دوستی کے مضمرات سے بھی آگاہ کیا گیا ہے اور یہ سب قرآن پاک میں موجود ہے، کسی ’’مسکین ملّا‘‘ کا کہا ہوا نہیں ہے۔ مولوی وہ ہی کہتا ہے جو اللہ ورسول کا حکم اور پیغام ہے۔ ہمیں اسلام میں پورے پورے داخل ہوجانے کا حکم ہے اور اس کو جھٹلانا اللہ اور نبی کی تعلیمات کو جھٹلانا ہے۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر والی سوچ اور طرزعمل رکھنے والے چاہیے وہ حاکم ہوں یا عوام الناس، میڈیا یا کوئی اور سوچ لیں کہ جس طرز زندگی کے وہ خواہش مند وخوگر ہیں اور جو راستہ انہوں نے اپنایا ہوا ہے، وہ انہیں اسی منزل تک پہنچائے گا جس پر وہ زندگی بھر چلتے ہیں۔ انہیں یہ سب کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے کہ ان کی آخری رسومات چرچ یا سینیگاگ میں ہوں، یا شمشان گھاٹ میں۔ یا پھر وہ مسلمانوں کے قبرستان میں نماز جنازہ اور دعا کے ساتھ دفن ہونا چاہتے ہیں کیونکہ حدیث شریف میں من تشبہ بقوم فھو منھم (جو جس قوم کی مشابہت کرے گا وہ اسی میں سے اٹھایا جائے گا اور قیامت کے دن ان کے ساتھ ہی کھڑا ہوگا۔) حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقلیت کی دل جوئی اور خیرسگالی کرتے ہوئے وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اکثریت کے حقوق کی پامالی تو نہیں کررہے؟

آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی