روہنگیا مسلمانوں کی بے بسی۔ حکمران اور علماء توجہ دیں

شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان
گزشتہ سے پیوستہ:
23۔ حال ہی میں عالمی ذرائع ابلاغ نے یہ انکشاف کیا کہ ہزاروں کی تعداد میں ( جن کی تعداد تقریباً ستائیس ہزار بتائی جاتی ہے) روہنگیا مسلمان مختلف چھوٹی بڑی کشتیوں میں سمندر کے بیچوں بیچ سرگرداں ہیں کہ ان کو کوئی ملک قبول کرنے کو تیار نہیں، ان میں بوڑھے بھی ہیں جوان بھی، عورتیں بھی ہیں اور بچے بھی، سوشل میڈیا کے توسط سے ان کی گریہ وزاری آہ و بکا لوگوں کی سماعتوں سے ٹکرائی جو عرش اِلہی کو تھرا دینے کے لیے کافی تھی۔ اس حال میں بھی سنگدل ایجنٹوں نے کتنے ہی جوانوں اور بوڑھوں کو سمندر برد کیا، کتنی ہی عورتوں کی عصمتوں کو پامال کیا!! فاللہ المستعان۔

ان تمام حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمارا مطالبہ ہے کہ:

(1) صدر مملکت، وزیر اعظم پاکستان، وزیر خارجہ، مشیر خارجہ اور دیگر اربابِ اختیار سے بھی اپیل ہے کہ وہ اس سلسلہ میں قائدانہ کردار ادا کریں۔

(2) میانمار کی حکومت اور اس کی بھر پور حمایت کے ساتھ وہاں کی فوج، پولیس، عوام، بدھ بھکشو اور دہشت گرد تنظیمیں روہنگیا مسلمانوں کی مکمل نسل کْشی کے درپے ہیں، لہذا ان کی نسل کشی بندکی جائے اور اس سلسلہ میں اقوامِ متحدہ اپنا کردار ادا کر ے اور فوری طور پر وہاں اپنی امن فوج بھیجے، وہاں کے بچے کچھے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرے اور ان کی فوری آبادکاری کا انتظام کرکے زندگی کی تمام تر بنیادی ضروریات و سہولیات انہیں بہم پہنچائی جائیں۔

(3) عالمِ اسلام بلکہ پورے عالم کے انسان دوست ممالک سے مطالبہ ہے کہ وہ فوری طور پر برما/ میانمار کی حکومت پر سفارتی اور اخلاقی دباؤ ڈالے تاکہ وہ انسانیت کْش حرکتوں سے باز آئے۔ روہنگیا مسلمانوں کو ان کی شہریت سے محروم کرنے والے انسانیت سوز اور ظالمانہ قانون کو ختم کرے اور ان کی شہریت اور حقوق کو بحال کرے۔

(4) رابطہ عالمِ اسلامی، موتمر عالمِ اسلامی اور او آئی سی نمائشی قراردادوں اور جذباتی بیانات داغنے کے بجائے فوری طور پر مؤثر اور عملی قدم اٹھائیں۔

(5) آسیان ممالک کی تنظیم فوری اپنا کردار ادا کرے۔

(6) پڑوس میں واقع بنگلا دیش، بھارت اور چائنا اس سلسلہ میں اپناکرداراداکریں، اور برما میں نسل کشی کے گھناؤنیاقدامات کی روک تھام کریں۔

(7) روہنگیا مسلمانوں کے وہ افراد جو ہجرت کرکے تھائی لینڈ، سری لنکا، بھارت، ملائیشیا اور انڈونیشیا پہنچ چکے ہیں، ان کو جیلوں اور حراستی مراکز میں ٹھونس کر رکھنے کے بجائے انہیں آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع دیا جائے، ان کو ان متعلقہ ممالک میں ’’ریفیوجی‘‘ کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے اور ان کو انٹر نیشنل لاء کے مطابق ریفیوجیز کے جتنے حقوق ہیں وہ ان کو فراہم کیے جائیں، خاص طور پر بنیادی ترین حقوق تعلیم اور صحت کی فراہمی کی جائے۔

(8) بنگلادیش میں موجود رجسٹرڈ اور نان رجسٹرڈ تمام ریفیوجیز کے ساتھ کیمپوں میں جو غیر انسانی سلوک روا رکھا جارہا ہے، اس سلسلہ کو بند کیا جائے اور انہیں عزت کے ساتھ رہنے بسنے کی آزادی دی جائے، انہیں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں اور ان کو صحت علاج ومعالجہ کی بھر پور سہولتیں دی جائیں اور عالمی تنظیموں کو ان تک براہ راست رسائی دی جائے۔

(9) رنگون اور اکیاب میں او آئی سی یا موتمر عالمِ اسلامی کا باقاعدہ دفتر کھولا جائے تاکہ عالمِ اسلام کے ذمہ داران روہنگیا مسلمانوں کے حالات سے کماحقّہ واقف رہ سکیں۔

(10) جن ایجنٹوں، دلالوں اور انسانی سمگلروں نے انسانیت سوز اور شرمناک حرکتیں شروع کررکھی ہیں ان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

(11) برمی حکومت کے تعاون نہ کرنے کی صورت میں اس کا معاشی مقاطعہ کیا جائے۔

(12) برما کی جمہوریت کی چیمپئین نوبل انعام یافتہ سیاست دان ’’آنگ سانگ سوچی‘‘ سے اب تک امید باندھی گئی تھی کہ یہ جمہوریت پریقین رکھنے والی اور جمہوریت کے لیے جدوجہدکرنیوالی انصاف پسند لیڈر ہیں، اس لیے ان کی پارٹی ’’این ایل ڈی‘‘برسرِاقتدار آنے کے بعد مسلمانوں کی ضرور اشک شوئی کرے گی اور مسلمانوں کی محرومیوں کا ازالہ کرے گی، لیکن اے بساآرزو کہ خاک شدہ، چنانچہ آنگ سان سوچی نے برسراقتدار آنے کے بعد اب تک روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے سلسلہ میں کردار تو کیا! الٹا زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا ہے، معمولی اقتدار کی ہوس کی خاطر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی سے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں، ان سے امن کا نوبل انعام لے لیا جائے اور ان کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔

(13) ان تمام فتنوں اور فسادوں کی ایک اہم جڑ وہاں کے متعصب بدھ بھکشو ہیں، خاص طور پر 969 کا سربراہ ویراٹھو کا کردار انتہائی نفرت انگیز اور عالمی برادری کے لیے نہایت قابل نفرین رہا ہے، اس تنظیم کودہشت گرد قرار دے کر اس کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے اور جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔

(14) پاکستان، سعودی عرب، ترکی، ملائیشیا اور انڈونیشیا کی اعلی ترین سطح پر کمیٹی تشکیل دی جائے جو روہنگیا مسلمانوں کی اراکان کے اندر آباد کاری اور ان کے تحفظ کا انتظام کرے اور جتنے روہنگیا مسلمان مختلف ممالک میں دربدر ہو چکے ہیں ان کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کا اہتمام کرے۔

(15) پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے ایجنڈے کو اپنے بنیادی پروگراموں میں مقدم رکھیں اور ترجیحی بنیادوں پر اس معاملہ کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

(16) پاکستان کی تمام مؤثر شخصیات سے خواہ وہ سیاسی ہوں یا مذہبی ہوں انسانیت کی بنیاد پر اپیل ہے کہ روہنگیا کے مسلمانوں کے دْکھ اور مصائب کے ازالہ کے سلسلے میں اپنا کردار ضرور ادا کریں۔

(17)تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں، نیز با اثر شخصیات اور مقتدر علماء کرام ایک ایسی مشترکہ کمیٹی تشکیل دیں جو حکومتی کمیٹی اور بین الملکی اعلی سطحی کمیٹی کے کاموں کے تسلسل پر نظر رکھ سکے اور کسی قسم کے تساہل کی صورت میں عمل درامد کرا سکے۔

(18) صحافی برادری خواہ ان کا تعلق پرنٹ میڈیا سے ہو یا الیکٹرونک میڈیا سے، اسی طرح سوشل میڈیا سے متعلق ہر ہر فرد سے گزارش ہے کہ خدا را موجودہ دور کے اس عظیم انسانی المیے کو نظر انداز نہ ہونے دیں تاوقتیکہ ان مظلومین کو ان کا حق نہ مل جائے۔

(19) انسانی حقوق کی علم بردار شخصیات اور تنظیموں سے دردمندانہ اپیل ہے کہ آج ایک کتے بلی تک کے حقوق کے لئے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے سے دریغ نہیں کیا جاتا، خدارا ! اس صدی کی اس عظیم انسانی ٹریجڈی کو سنجیدگی کے ساتھ اس طرح ٹریٹ کیجیے کہ ان بے سہارا اور بے خانماں انسانوں کو عزت کی زندگی گزارنے کا موقع مل سکے اور انسانیت کی آتما کو آسودگی حاصل ہو۔

(20) تمام اہل خیر حضرات سے اپیل ہے کہ روہنگیا مسلمان جو اراکان میں پھنسے ہوئے ہیں اسی طرح مختلف ملکوں میں پناہ لے چکے ہیں ان کی خوراک، صحت اور تعلیم کا مؤثر انتظام کریں۔