مودی کی آبی جارحیت

پروفیسر شمیم اختر
گزشتہ سے پیوستہ:
اگر عوامی جمہوریہ چین اقوام متحدہ میں بنگلادیش کے داخلے پر ویٹو نہ لگاتا تو بھارت کبھی پاکستان کے جنگی قیدیوں کو رہا نہ کرتا۔ بین الاقوامی قانون کو بروئے کار لانے کے لیے طاقت کا استعمال ناگزیر ہوجاتا ہے۔ اس وقت نریندر مودی باؤلا ہوگیا ہے۔ اسے اندرون ملک اپنے صوبوں میں پانی کی تقسیم پر تنازعے کا سامنا ہے، جسے حل کرنے کی بجائے وہ عوام کو پاکستان کے خلاف ورغلا رہا ہے۔ ہریانہ اور پنجاب میں پانی کی تقسیم کا تنازع شدت اختیار کرگیا ہے، جسے وہ اس لیے حل نہیں کرسکتا کہ اگر اس کے فیصلے سے ہریانہ مطمئن ہوتا ہے تو پنجاب ناراض ہوجائے گا اور انتخاب میں اس کی انتہاپسند پارٹی کی حمایت نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر وہ پنجاب کے حق میں فیصلہ کرتا ہے تو ہریانہ اس کے خلاف ہوجائے گا۔ پاکستان کے دریاؤں کا پانی شمالی بھارت کے صوبوں کو دے کر وقتی طور پر تو وہ دونوں کو مطمئن کرسکتا ہے، حالانکہ یہ بھی اتنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اگر مقبوضہ کشمیر کے باشندے اپنی سرزمین سے بہنے والے دریاؤں کا پانی پنجاب اور ہریانہ کو فراہم کرنے کی مخالفت کریں اور ضرور کریں گے، تو اس کے لیے نریندرمودی کو کشمیر سے پنجاب کو بہنے والے دریاؤں کے کنارے مزید فوج لگانا پڑے گی۔ جس طرح بھارت اپنے مقبوضہ علاقے سے پاکستان کی سرزمین میں بہنے والے دریاؤں کا پانی کاٹ سکتا ہے تو کیا کشمیری باشندے اپنی سرزمین سے بہنے والے پانی پنجاب یا ہریانہ کو بند نہیں کرسکتے؟

جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے مودی شمالی ہندوستان سے پاکستان کو بہنے والے دریاؤں کا پانی کاٹ سکتا ہے اور اسے پنجاب اور ہریانہ کی طرف موڑکر بین الصوبائی یا بین الریاستی تنازعات کا مداوا کرسکتا ہے، لیکن وہ جنوبی ہند میں وہ کرناٹک اور تامل ناڈو کے مابین دریا ئے کاویری کے پانی کی تقسیم کے تنازعے کو کیسے سلجھائے گا؟ کیونکہ دریائے کاویری تو شمالی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نہیں بہتا۔

اس وقت کرناٹک اور تامل ناڈو میں جنگ کے سے حالات پیدا ہوگئے ہیں، کیونکہ تامل ناڈو کو شکایت ہے کہ کرناٹک کی صوبائی حکومت بنگلور میں تعمیرشدہ بند میں دریائے کاویری کے پانی کا وافر ذخیرہ محفوظ کیے ہوئے ہے اور اسے تامل ناڈو کو فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جبکہ بھارت کی عدالت عظمیٰ نے کرناٹک کی حکومت کو بنگلور کے اس ذخیرے میں سے تامل ناڈو کو درکار پانی فراہم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس حکم نامے پر عمل کی بجائے 12 ستمبر 2016ء کو بنگلور میں عدالتی فیصلے کے خلاف فسادات بھڑک اٹھے اور بلوائیوں نے تامل ناڈو کے دو شہریوں کو ہلاک اور اس صوبے میں اندراج کردہ 100 گاڑیوں کو جلاکر تباہ کردیا۔ اسی طرح 1991ء میں بھی پانی کی تقسیم پر خوں ریز فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں 18 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کرناٹک اور تامل ناڈو میں دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم پر تنازعے کی جڑیں انیسویں صدی میں حکومت برطانیہ کے دور میں نظر آتی ہیں۔ اس وقت کرناٹک برطانیہ کے زیرنگین ریاست میسور کے نام سے موسوم تھا، جسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے میر صادق سے سازباز کرکے سلطان ٹیپو کے خلاف جنگ کرکے فتح کرلیا تھا، چنانچہ 1892ء میں حکومت برطانیہ نے میسور کے فرمانروا سے دریائے کاویری پر بند نہ باندھنے سے متعلق معاہدہ کیا۔ بعدازاں 1924ء میں برطانیہ اور مہاراجا نے ایک اور معاہدے کے ذریعے مذکورہ بند تعمیر نہ کرنے کا معاہدہ کیا۔ (ECONOMIST 17 SEPTEMBER 2016)

اس کی وجہ یہ تھی کہ بنگلور میں دریا کے بالائی حصے پر بندباندھنے سے صوبہ مدراس (موجودہ نام: چنائے) کے گنجان آباد زیریں علاقے میں واقع کھیتوں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا، جس سے مقامی آبادی میں خوراک کی کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ خاص کر تامل ناڈو میں بڑھتی ہوئی آبادی کی ضرورت کے لیے دھان کی کاشت میں بھی اضافہ ہوا، جس کی آب پاشی کے لیے زیادہ پانی درکار تھا۔ بدقسمتی سے اس خطے میں موسمی برسات میں کمی کی وجہ سے پانی کھیتوں کی آب پاشی کے لیے مزید پانی کی اشد ضرورت محسوس ہوئی تو تامل ناڈو نے بنگلور کے آبی ذخائر میں سے اپنے حصے کے پانی کا مطالبہ کیا، جسے کرناٹک کی حکومت نے مسترد کردیا۔ کاویری کے پانی کی تقسیم کا تنازع 2007ء تک ایک ثالثی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، جس نے کرناٹک کی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ بنگلور کے پانی کے ذخائر میں سے تامل ناڈو کو وافر مقدار میں پانی فراہم کرے۔ نیز ثالثی عدالت نے 1892ء اور 1924ء کے معاہدوں کو جائز اور نافذ العمل قرار دے دیا (اکانومسٹ صفحہ 26، 17 نومبر 2016ء)

بھارت کی عدلیہ نے دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم پر جو فیصلہ کیا اور خصوصی ثالثی عدالت نے کرناٹک کو بنگلور کا بند کھول کر تامل ناڈو کو پانی کی ترسیل کو یقینی بنانے سے متعلق جو فیصلہ کیا ہے، وہ بین الاقوامی دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے بارے میں مروجہ بین الاقوامی قانون اور رواج CUSTOM کے عین مطابق ہے، لہٰذا پاکستان کے وکلاء اور آبی ماہرین کو سندھ طاس معاہدے اور بھارت میں دریائے کاویری سے متعلق بھارتی عدلیہ کے فیصلے کے مطابق پانی کی تقسیم کی روشنی میں بھارت اور پاکستان کے آبی جارحیت کے حل کے لیے عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنا چاہیے۔