سپہ سالار

ندیم تابانی
قومی اسمبلی کے حلقہ 258 سے عبد الحکیم بلوچ ایک بار پھر جیت گئے، لیکن اس بار وہ پی پی کی ٹکٹ پر انتخاب لڑرہے تھے، پچھلے انتخاب میں موصوف ن لیگ کی جانب سے امید وار تھے، اس حلقے سے تقریباً سوا درجن امیدواروں نے حصہ لیا، مذہبی جماعتوں کی جانب سے دو امید وار تھے اور ایک شاید عالم دین صاحب آزاد امید وار بھی تھے، تینوں کے ووٹ جمع کیے جائیں تو بائیس سوسے کچھ ہی زیادہ بنتے ہیں، مذہبی جماعتیں کسی ایک متفقہ امید وار کو بھی میدان میں اتار سکتی تھیں، یقیناًاس امید وار کو بھی جیت تو نہ ملتی، لیکن یہ بات تو ریکارڈ پر رہتی کہ مذہبی جماعتیں سیاست میں متحد ہیں اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ اگر ایک نمائندہ ہوتا تو کسی خاطر خواہ مہم کے بغیر ان کے دس ہزار ووٹ ہوتے اور اگر مہم طریقے سے چلاتے تو یہ ووٹ ٹھیک ٹھاک بڑھ جاتے اور اگر یہی جماعتیں انتخابات کے علاوہ بھی اپنی زندگی کا ثبوت دیں، عوام سے ملنا ملانا رکھیں، ان کے کاموں میں تعاون کریں تو ووٹوں کی تعداد ناقابل یقین حد تک بڑھ سکتی ہے، لیکن مذہبی جماعتوں کا غالباً اس پر اتفاق ہے کہ انہوں نے کبھی ایسا کام نہیں کرنا، جس سے ان کے بیچ اتفاق اور اتحاد ظاہر ہو، چوں کہ اختلاف رحمت کی نشانی ہے، اس لیے ہمیشہ اختلاف ہی راہ پر چلنا ہے۔

***

حکم ران جماعت مسلم لیگ ن کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے قومی اسمبلی میں ایک بل جمع کروایا ہے، جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے صوبے بھر میں شراب خانوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور شراب کی فروخت پر پابندی کا جو حکم دیا تھا وہ ٹھیک تھا، غیر مسلموں کے نام پر شراب خانے کھولنا اور شراب کی فروخت بند کی جائے، تمام مذاہب شراب کی حرمت پر متفق ہیں، ہمارے نام پر شراب کے پرمٹ لینا، دینا، پینا پلانا بند کیا جائے۔ دیکھتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے کتنے ارکان اس بل کی حمایت کرتے اور اسے قانونی شکل دیتے ہیں۔ ڈاکٹر رمیش کمار کو حکومت کی کتنی حمایت حاصل ہوتی ہے، یہ بل کہیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے تو پیش نہیں کیا گیا۔

***

تاریخی گدی نشین مسٹر شاہ محمود قریشی نے پی پی کو خراج تحسین پیش کیا ہے کہ اس کے دور حکومت میں اسمبلی نے ایک تاریخی بل پاس کیا ہے، یہ خراج تحسین نہ صرف گدی نشین کی طرف سے ہے، بلکہ ایک بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کی طرف سے بھی ہے۔ یہ خراج تحسین اس قانون پر پیش کیا گیا ہے جس کو علمائے کرام اور دین سے محبت رکھنے والے عوام اسلام دشمنی کی نمائندگی قرار دے رہے ہیں، جس کے مطابق سندھ اسمبلی نے اقلیتوں کو حقوق کے دینے کے نام پر اسلام قبول کرنے والوں کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں اور اسلام قبول کرنے کے لیے شرائط عائد کر دی ہیں۔

***

پی آئی اے انتظامیہ نے دو اچھے فیصلے کیے ہیں، ایک تو نئے جہاز حاصل کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے، خیال کیا جا تا ہے اگر یہ جہاز پی آئی اے کا حصہ بن جاتے ہیں تو قومی ایر لائن سے جو شکایات لوگوں کو جہازوں کی تعداد اور ان کی حالت سے تھی وہ بڑی حد تک دور ہو جائے گی، دوسرا فیصلہ رات بارہ سے لے کر صبح چھے بجے کے درمیان اندرون ملک چلنے والی پروازوں کے کرایے میں تیس فی صد کمی کی گئی ہے۔ اس کمی سے جہاز رات کے وقت جس سناٹے کا شکار ہوتے تھے، وہ نہیں ہوں گے اور پی آئی کو خسارے کے جس بھوت نے پریشان کر رکھا ہے، بھوت کی اس گرفت میں بھی کمی کی امید کی جا رہی ہے، لیکن یہی کافی نہیں اس سرکاری ایر لائن میں جس طرح بھرتیاں کی گئیں، جہاں ایک بندے کی ضرورت ہے وہاں کم از کم پانچ رکھے گئے ہیں اور اوپر کی سطح والے جس طرح بے دردی سے لوٹ مار مچاتے ہیں، جب تک اس معاملے کو حل نہیں کیا جاتا تب تک باکمال لوگ لا جواب سروس کا پرانا نعرہ سوائے مذاق کے اور کچھ نہیں۔

***

نئے آرمی چیف نے کمان سنبھال لی، رخصت ہونے والے جنرل راحیل شریف نے اپنے پیش رو جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملنے والی چھڑی جنرل قمر باجوہ کو تھمادی، اگلے تین سال جنرل قمر باجوہ بری فوج کے سالار رہیں گے۔ سالار سے یاد آیا، بہت سے اخبارات کے ادارتی نوٹوں، کالموں اور خبروں میں ’’فوج کا سپہ سالار ‘‘ لکھا جاتا ہے، پتا نہیں ایسا لکھنے والے ’’سپہ ‘‘کس کے لیے استعمال کرتے ہیں اور فوج کے کیا معنی لیتے ہیں؟