سندھ اسمبلی کا شرمناک کارنامہ

مولانا محمد ازہر
سندھ اسمبلی نے جمعرات 23 نومبر 2016ء کو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے نام پر جو بل متفقہ طور پر منظور کیا ہے، اس کے خلاف ملک کے طول وعرض میں نہایت شدت سے صدائے احتجاج بلند کی گئی ہے۔ دینی حلقوں نے اسے متفقہ طور پر قرآن وسنت کے منافی قرار دیا ہے، جبکہ سینئر وکلاء اور قانون دانوں نے اسے غیرآئینی اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ ’’کرمنل لا پروٹیکشن منارٹی بل‘‘ پیپلزپارٹی کے اقلیتی رکن کھٹومل اور پیرپگاڑا کے سیاسی مرید نندکمار نے پیش کیا۔ پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی میں اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف سات منٹ میں یہ بل متفقہ طور پر منظور کروالیا۔ افسوس اور حیرت اس بات پر ہے کہ اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے آٹھ دس ارکان بھی موجود تھے، جن سے توقع تھی کہ وہ کتاب وسنت اور آئین پاکستان سے متصادم اس بل کے خلاف کوئی احتجاج ریکارڈ کروائیں گے، مگر حیرت انگیز طور پر ان ارکان اسمبلی نے بھی قبول اسلام پر قدغن کے اس بل پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے یہ ثبوت فراہم کیا کہ ’’سیاسی اختلافات اپنی جگہ، اسلام کے خلاف ہم سب ایک ہیں!‘‘ اس بل کی دو شقیں نہایت شرمناک اور خطرناک ہیں:

نمبر ایک: بل کے مطابق سندھ کا کوئی بھی شہری، جس کی عمر 18 برس سے کم ہے، اپنا مذہب تبدیل نہیں کرسکتا۔

نمبر دو: 18 برس سے زائد عمر والا شخص بھی اپنا مذہب تبدیل کرنے کے بعد 21روز تک اس کا اعلان نہیں کرسکتا، اسے ایک محفوظ مقام (Sefe House) میں سوچ بچار کا موقع فراہم کیا جائے گا، اس عرصے میں اسے مختلف مذاہب کی کتب بھی پڑھنے کے لیے دی جائیں گی۔

قرآن وسنت سے واجبی واقفیت رکھنے والا مسلمان بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ یہ دونوں شقیں اسلام کے خلاف ہیں۔ شریعت کے مطابق کسی بھی عمر کے مرد وعورت کے اسلام قبول کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ اسی طرح 21 روز تک قبول اسلام کے اعلان پر پابندی لگانا بھی غیرشرعی ہے، جب کسی غیرمسلم نے اسلام قبول کرلیا تو خودبخود اس کا اعلان ہوگیا۔ اعلان پر پابندی چہ معنی دارد۔
اس بل کی انہی غیراسلامی شقوں کی وجہ سے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے اسلامیان پاکستان کی نمایندگی کرتے ہوئے اسے بجاطور پر قانون شریعت اسلامیہ اور عدل وانصاف کے تقاضوں کی پامالی کے مترادف قرار دیا ہے۔ حضرت نے اپنے ایک تحریری بیان میں (جسے روزنامہ ’’اسلام‘‘ نے شایان شان شائع کرکے دینی غیرت وحمیت اور حق شناسی کا ثبوت دیا) فرمایا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ قانون اس کے تمام مضمرات پر غور کیے بغیر محض غیرمسلموں کو خوش کرنے کے لیے منظور کیا گیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ درست ہے کہ کہ قرآن کی رو سے کسی کو زبردستی مسلمان بنانا ہرگز جائز نہیں، لیکن دوسری طرف برضا و رغبت اسلام قبول کرنے پر پابندی لگاکر کسی دوسرے مذہب پر باقی رکھنے کے لیے مجبور کرنا بدترین زبردستی ہے، جس کا نہ شریعت میں کوئی جواز ہے، نہ عدل وانصاف کی رو سے اس کی کوئی گنجائش ہے۔

اسلام کی رو سے اگر کوئی سمجھ دار بچہ، جو دین ومذہب کو سمجھتا ہے، اسلام لے آئے تو اس کا اسلام قابل قبول ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ شرعاً بلوغت کی زیادہ سے زیادہ عمر پندرہ سال ہے۔ اس صورت میں ایک عاقل بالغ مکلف فرد کو اسلام قبول کرنے سے تین سال تک روکنا سراسر ظلم اور بدترین زبردستی ہے، اس قسم کی زبردستی کا قانون کسی سیکولر ملک میں بھی موجود نہیں، چہ جائیکہ ایک اسلامی جمہوریہ میں اسے روا رکھا جائے۔ حضرت مفتی صاحب نے 18 سال کے بعد اسلام قبول کرنے کے لیے 21 دن کی مہلت کو بھی ناقابل فہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس مدت میں اس کے اہل خاندان اسے دھمکاکر اسلام لانے سے روکنے میں کامیاب ہوسکیں۔

حضرت کا تجزیہ بالکل صائب ہے۔ یہ بل اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ قبول اسلام پر قدغنوں کا بل ہے۔ ایک عاقل بالغ فرد کو اسلام قبول کرنے کے بعد 21 دن تک مسلمانوں سے نہ ملنے دینا اور خاندان کا دباؤ سہنے کے لیے بے یارومددگار چھوڑ دینا بدنیتی کا غماز ہے اور یہ بل درحقیقت ان ہندوؤں کی دلداری اور پشت پناہی کے لیے لایا گیا ہے جو اپنی نئی نسل کے اسلام کی جانب پیش قدمی سے پریشان ہیں۔ ہندو سماج توہمات کے شکنجے میں قید ہے اور روحانی سکون کے لیے مضطرب اور طبقاتی تقسیم کی وجہ سے مظلوم وستم رسیدہ ہے، ان کے ووٹوں سے اسمبلیوں میں پہنچنے والے کھٹومل اور نندکمار جیسے لوگوں کو خطرہ ہے کہ اگر ہندو اسی طرح مسلمان ہوتے رہے تو ہمارا سیاسی مستقبل تاریک ہوجائے گا۔
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا یہ فرمانا کہ اس طرح کی پابندی تو شاید کسی سیکولر ملک میں بھی نہ ہو، سو فیصد بجا ہے۔ اس لیے کہ مغربی ممالک میں اسلام قبول کرنے پر کوئی قانونی قدغن نہیں۔ حال ہی میں عالمی ذرائع ابلاغ میں ایک روسی بچی کا ذکر ہوا ہے۔ ہیلینا نامی اس بچی نے پندرہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا، اس کے والدین عیسائی ہیں، اس بچی نے عیسائی گھر میں رہتے ہوئے قرآن کریم حفظ کیا اور ہر قدم پر اس کے والدین اس کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ گزشتہ ہفتے دبئی میں ہونے والے حسن قرأت کے عالمی مقابلے میں اس بچی نے شرکت کرکے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یہ غیرمسلموں کا طرزعمل ہے۔ دوسری طرف ہمارا یہ حال ہے کہ ہم مسلمان ہوکر اسلام قبول کرنے پر پابندیاں عاید کررہے ہیں اور افسوس صد افسوس اس بات پر کہ ہندو ارکان اسمبلی کی جانب سے پیش کردہ اس بل کے خلاف کسی ایک مسلمان رکن کو بھی آواز بلند کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ سب نے متفقہ طور پر اسے منظور کرلیا۔مفتی صاحب نے تمام مسلمانوں دینی وسیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ اس شرمناک قانون کو منسوخ کروانے کے لیے پرامن جدوجہد کے ذریعے اپنا
دینی فریضہ ادا کریں۔

آخر میں اس امید افزا خبر کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ یہ بل آئین وقانون اور شریعت کے منافی ہونے کی وجہ سے ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ وفاقی شرعی عدالت میں بھی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل نہ صرف قرآن وسنت کے منافی ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل 8 کے بھی خلاف ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی قرآن وسنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ بہرحال اٹارنی جنرل پاکستان کی اس وضاحت کے باوجود دینی وسیاسی جماعتوں اور حلقوں کو اس وقت تک اطمینان سے نہیں بیٹھنا چاہیے، جب تک یہ قانون ختم نہیں کیا جاتا اور قبول اسلام پر کسی بھی قسم کی پابندی نہ ہونے کا دوٹوک اعلان نہیں کیا جاتا۔