روہنگیا مسلمانوں کی بے بسی۔ حکمران اورعلماء توجہ دیں

شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان
یہ حقیقت کسی پر مخفی نہیں کہ امت مسلمہ گزشتہ دو صدیوں سے انتہائی تشویش ناک صورت حال سے دو چار ہے۔ علمی و نظریاتی فتنوں کے ساتھ عسکری حملے بھی اس میں اپنا پورا کردار ادا کر ہے ہیں۔ فلسطین، کشمیر، شام اور عراق وغیرہ ہر جگہ مسلمانوں پر یلغار ہے۔ اب حرمین شریفین کو بھی کفار اپنے شکنجے میں لینے کے لیے پوری طرح مستعد ہوچکے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عالم کفر و طاغوت مل کر امت مسلمہ کا وجود ختم کر دینے پر متحد ہوچکے ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ پر توکل اور اس کی مدد و نصرت پر بھروسا ہی واحد سہارا ہے۔ اس نازک صورت حال میں ایک مزید اضافہ برما کے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار ہے۔ برما کے علاقے ’’اراکان‘‘ (جس کا نام اب تبدیل کر کے ’’راکھین‘‘ رکھ دیا گیا ہے) کے مسلمانوں پر 1924ء سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ 1926ء میں وہاں فوجی حکومت قائم ہوئی اور وہاں بارہ سو سال سے آباد مسلمانوں کو باغی قوم قرار دے کر قتل عام کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ یہ سلسلہ 1926ء سے 1928ء تک جاری رہا۔ اس قتل عام میں تقریباً ایک لاکھ مسلمان شہید ہوئے۔ 1997ء میں ایک مرتبہ پھر بدھ بھکشوں کے ہاتھوں دن دہاڑے راکھین شہر کے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، بستیوں کو نذر آتش کیا گیا اور مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔

جون 2012ء میں چند مسلمانوں کے دردناک قتل سے شروع ہونے والا فساد اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ سارے اراکانی مسلمان پوری دنیا میں تتر بتر ہوکر رہ گئے ہیں اور عالم انسانیت سسک اٹھی۔ 1۔ ان کے گھر بار کو جلایا گیا، بعض علاقے مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹادیے گئے۔ 2۔ ان کے کھیت کھلیان کو جلاکر خاکستر کردیا گیا۔3۔ ان کی دکانیں سازو سامان سمیت آگ میں جلادی گئیں۔ 4۔ ان کے مدارس اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے، اس طرح ان کے لیے تعلیم کے دروازے مکمل طور پر بند ہو گئے۔ 5۔ ان پر مسجدوں میں باجماعت نمازیں پڑھنے کی پابندی لگادی گئی اور مساجد پر تالے ڈال دیے گئے۔ 6۔ مسلمانوں پر حج کرنے کی اور اس کے لیے سفر کی پابندی عائد کر دی گئی۔ 7۔ قربانی پر پابندی عائد کردی گئی۔8۔ مسلمانوں کی جائیدادیں ان سے چھین کر مگھ اور برمی بدھسٹوں کو دی جا رہی ہیں۔9۔ مسلمانوں کی بستیوں کو تاراج کر کے ان کو کیمپوں میں پہنچایا جا رہا ہے اور ان کی بستیوں میں غیر مسلموں کو بسایا جا رہا ہے۔ 10۔ اراکان میں صنعتوں، ملز اور فیکٹریوں کا کوئی تصور نہیں، وہاں غالب ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور معمولی دکانداری ہے، لیکن چونکہ مسلمانوں سے ان کی زمینیں اور جائیدادیں چھین لی گئیں، اس لیے کھیتی باڑی سے محروم ہو گئے اور پھر ان پر ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ تک جانے آنے کی پابندیاں ہیں، اس لیے دکانوں کے معمولی سامانوں کے حصول کے لیے بھی وہ مگھ بدھسٹوں کے محتاج ہیں، اس لیے عملاًان کی دکان داری کا ذریعہ معاش بھی ختم ہو کر رہ گیا۔11۔ مسلمانوں پر اپنے مکانات کی مرمت و اصلاح کی پابندی ہے۔12۔ مسلمانوں پر شادی بیاہ کے سلسلہ میں شرمناک قدغنیں ہیں۔ 13۔ مسلمانوں پر زیادہ بچوں کی پیدائش پر پابندی عائد ہے۔ 14۔ کوئی مسلمان اپنے علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف بغیر پرمِٹ کے نہیں جا سکتا اور نہ ہی وہاں رات گزار سکتا ہے حتی کہ ایک بیٹی اپنے میکے آکر رات گزار نہیں سکتی۔ 15۔علماء کے ایسے دشمن ہیں کہ وہ کرتا پہن کر ادھر سے ادھر آجا نہیں سکتے، چنانچہ ایسے موقع پر وہ صرف بنیان اور لنگی پہن کر چلت پھرت کی کوشش کرتے ہیں۔ 16۔مسلمانوں کے قبرستانوں کو ان کے آباء و اجداد کے آثار مٹا ڈالنے کی غرض سے تھانوں اور کچہریوں میں تبدیل کر رہے ہیں۔ 17۔مسلمانوں کے تاریخی آثار مٹانے کی غرض سے اراکان کا نام راکھین اور اکیاب کا نام سیٹوے سے تبدیل کیا گیا۔

اب تک مسلمانوں کو ووٹ دینے کاحق بھی دیا جاتا رہااور بطور امیدوارپارلیمنٹ یا انتخابات میں بھی حصہ لینے کاحق ملتا رہا، لیکن حالیہ انتخابات (2015ء) جس میں آنگ سان سوچی کی پارٹی کامیاب ہوکر حکومت بناچکی، اس میں مسلمانوں پرنہ صرف بطور امیدوار کھڑے ہونے کی پابندی لگادی گئی، بلکہ کسی بھی مسلمان کوووٹ کاسٹ کرنے کاحق بھی نہیں دیاگیا۔ 18۔ بے گھر اور خانماں برباد لوگوں نے اپنی جانیں بچاکر کشتیوں میں سوار ہوکر بنگلا دیش میں پناہ لینے کی کوشش کی تو وہاں کی حکومت نے انہیں پناہ دینے کی بجائے دوبارہ سمندر میں دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد مچھلیوں کی خوراک بن گئے۔ 19۔ ذرائع ابلاغ کی پہنچ اور ان کی دہائی کے بعد معمولی عالمی دباؤ آیا تو عمومی فساد تو رْک گیا، لیکن بے گھر اور بے سہارا افراد کے لیے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن، ان کو ایسے کیمپوں میں بسادیا گیا جن میں کسی قسم کی بنیادی سہولت نہیں، برما کے سابق صدر جنرل تھین سین نے ڈھٹائی سے یہ بیان دیا کہ روہنگیا برما کے باشندے نہیں ہیں، ان کو ہم کیمپوں ہی میں رکھیں گے، اگر کسی کے دل میں درد ہو تو وہ ان کو اپنے ہاں لے جاکر آباد کرائے۔20۔ جن لوگوں کے مکانات ابھی باقی ہیں، وہ برائے نام اپنے گھروں میں تو ہیں، لیکن ان کے سروں پہ چوبیس گھنٹے ننگی تلوار لٹکی رہتی ہے، کوئی دن ایسا نہیں گزرتا اور کوئی رات ایسی نہیں گزرتی کہ ان میں کسی ایک یا چند گھروں پر قیامت نہ بیتتی ہو، برمی فوج کے اہلکار گھروں میں دھاوا بول دیتے ہیں اور پھر چادر اور چہاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے مردوں کو گرفتار کرلیتے ہیں، عورتوں کی عصمت دری کرتے ہیں، بچوں اور بوڑھوں تک کو نہیں بخشتے۔

کبھی اسلحے کی تلاشی کے بہانے پورے گھر کو کھود ڈالتے ہیں اور کبھی موبائل رکھنے کے ناکردہ جرم پر لاکھوں کیات (برمی کرنسی) کا جرمانہ عائد کرتے اور قیدوبند کی صعوبتوں میں ڈال دیتے ہیں۔ آئے دن لوگوں کو فوجی کیمپوں میں پکڑ کر لے جاتے ہیں اور وہاں ان سے بیگار لیتے ہیں، پھر ان کو معاوضہ تو درکنار، بھوکا پیاسا چھوڑدیتے ہیں۔ 21۔ ظلم وستم کے یہ شکار برمی مسلمان مشقتوں اور خوف وہراس کے اس ماحول سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے لیے سوائے سمندر کے راستے کے اور کوئی راستہ نہیں رکھا گیا، چنانچہ سمندر کی طرف جانے اور کشتیوں کے ذریعہ نقل مکانی کرنے کے لیے بھی انہیں پولیس اہلکاروں سے لے کر ایجنٹوں، دلالوں اور اسمگلروں تک کو رشوت دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔

پھر جن ’’خوش نصیبوں‘‘ کو اس طرح کشتی میں جگہ مل جاتی ہے، ان کی کیفیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ جس طرح لکڑیوں اور تختوں کی تھپیّ لگائی جاتی ہے، اس طرح ان ’’انسانوں ‘‘ کی جن میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور جوان بھی، عورتیں بھی ہوتی ہیں اور بچے بھی، ان کی بھی تھپیّ لگائی جاتی ہے، چنانچہ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کے ساتھ ان کو بیچ سمندر میں لے جاکر بڑے جہاز میں سوار کرایا جاتاہے، یہاں سے گویا اب یہ انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں، چنانچہ ان کو ٹھونس کر تھائی لینڈ کے غیر آباد جزائر کی طرف لے جایاجاتا اور وہاں کے جنگلات اور غاروں میں ان اسمگلروں کے مراکز بنے ہوئے ہیں، وہاں لے جاکر ان کو ماراکوٹا جاتا، ان کے عزیز واقارب جو مختلف ملکوں میں بسے ہوئے ہوتے ہیں، ان کے فون نمبرزپہ کال کرکے ان کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی جاتیں اور ان کے ذریعے ان سے بھاری رقوم کا مطالبہ ہوتاہے۔ اس طرح بعض خوش نصیب رہائی پاجاتے اور اکثر ان کے غلام باندی کی حیثیت سے رہ جاتے ہیں، ان کو زنجیروں میں باندھ کر رکھا جاتا ہے اور ان کی عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے، جس کی ویڈیوز بناکر پوری دنیا میں مسلمانوں کی غیرتوں کو للکارا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ان کی قید میں مرجاتے ہیں، بلکہ مار دیے جاتے ہیں جن کی اجتماعی قبریں بھی دریافت ہوچکی ہیں۔

22۔ بہت سے خوش نصیب وہ بھی ہیں جو کسی طرح تھائی لینڈ کی سر زمین پر پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، اسی طرح بعض ملائیشیا اور بعض انڈونیشیا تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، لیکن ان کے لیے وہاں ایک نئے عذاب کا سلسلہ منتظر ہوتا ہے، کیوں کہ ان کو وہاں پناہ گزین کی حیثیت کے بجائے غیر قانونی تارکین وطن کی حیثیت سے جیلوں میں رکھا جاتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن میں ہر ایک پہلے ہی سے مصیبتوں کا مارا ہوا ہوتاہے، ان کی فیملی کے کسی نہ کسی فرد کو یا کئی کئی افراد کو بدھسٹوں نے مار دیا ہوتا ہے، اور وہ خود سمندروں کی بے رحم موجوں سے لڑتے ہوئے کسی طرح اپنی جانیں بچا کر وہاں پہنچتے ہیں تو وہاں ان کے لیے جیل اور قید و بند کی صعوبتیں منتظر ہوتی ہیں، ان کی اَشک شوئی کے لیے کوئی نہیں ہوتا۔
(جاری ہے)