پیچ در پیچ

ندیم تابانی

مئیر کراچی مسٹر وسیم اختر نصف سال سے کچھ کم وقت گزار کر جیل سے باہر آگئے ہیں۔ انہیں کراچی میں ہر طرف کچرے کے ڈھیر نظر آرہے ہیں، اس سے بحث نہیں کہ جب وہ جیل گئے تو یہ ڈھیر تھے یا نہیں، اگر تھے تو انہیں نظر آرہے تھے یا نہیں۔ بحث یہ ہے کہ تب وہ مئیر کراچی نہیں تھے، کچرے کے ڈھیروں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اب ان کے پاس پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی مئیر شپ ہے، لیکن کہا، سنا اور دیکھا یہ جا رہا ہے کہ یہ مئیر شپ اختیار کے بغیر ہے۔ اختیار کا دوسرا مطلب فنڈ بھی ہے کیوں کہ اگر اختیار دے بھی دیا جائے تو وسیم اختر کچرے کے ڈھیر کیسے اٹھائیں گے، پارک صاف ستھرے کیسے بنائیں گے، پانی کا نظام کیسے بہتر بنائیں گے، اسٹریٹ لائٹ وغیرہ کیسے لگیں گی۔ وہ بے چارے توقرض کی رقم سے ضمانت جمع کروا کر جیل سے باہر آئے ہیں۔

پی پی اگر انہیں فنڈ دیتی ہے تو مئیر کراچی کام کریں گے۔ جی نہ بھی چاہے تو کرنا ہو گا، کیوں کہ ساکھ بچانی ہے جس کے راکھ ہونے کا بہت ڈر ہے۔ اور اگر پی پی کے لاڈلے وزیر اعلی فنڈ مئیر کو دے دیتے ہیں تو ایک سال بعد متحدہ ووٹ میں پی پی کو ٹف ٹائم دے گی، لیکن اگر پی پی حکومت فنڈ نہیں دیتی تو متحدہ مسئلہ کھڑا کرسکتی ہے، گو بے چاری خود کئی مسئلوں کا شکار ہے، لیکن پھر بھی مسئلے کھڑے کرنے کی کئی شکلیں ہو سکتی ہیں، اس لیے پی پی سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہے گی۔ بھائی لوگوں کو پھلنے پھولنے سے تھوڑا روکا جائے گا، اتنا نہ پھیل جائیں کہ لیٹ ہی جائیں، فنڈ ملیں گے لیکن کچھ کام سندھ حکومت اپنے لوگوں کے ذریعے بھی کروائے گی تاکہ عوام بھلے جائیں بھاڑ میں لیکن سوا سال بعد انتخابات بھی تو ہیں۔ ان سے بھی تو نمٹنا ہے۔

***

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر مودی اینڈ کمپنی کو کھری کھری سنادیں۔ للکارا، نامردی کے طعنے دیے، اس سے پہلے ان کے بندے پھڑکائے تھے۔ جب مودی کے بندے پھڑک رہے تھے تو مسٹر مودی بھڑک رہے تھے، بڑھکیں مارنے والے مودی اپنے بندوں کو پھڑکنے سے نہیں روک سکتے، پاکستانی فوجی عفریت بن کر ان پر نازل ہوتے ہیں، مودی کے پاس بندوں کی کمی نہیں، لیکن ہر چیز کی حد ہوتی ہے۔ کہا جا تا ہے پھڑکنے والے جب ٹھنڈے ہو کر اپنے علاقے میں پہنچتے ہیں تو مودی کے خلاف نفرت کی چنگاری ضرور ابھرتی ہے۔ یہ چنگاری کسی دن شعلہ بن جائے گی، مودی اینڈ کمپنی کی ایسی تیسی ہو جائے گی۔

***

بڑا چرچا ہے قطری شہزادے کے خط کا، یہ خط وزیر اعظم بڑے میاں جی کے بچوں کی طرف سے عدالت عظمی میں جمع کیا گیا ہے۔ خورشید شاہ کہتے ہیں یہ خط آبیل مجھے مار ہے۔ شاہ کی تشویش بجا، لیکن یہ میاں جی کا مسئلہ یا ان کے بچوں کا، شاہ جی تیل دئکھیں اور اس کی دھار۔ اعتزاز احسن کہتے ہیں خط کی زبان عربوں کی مروجہ زبان نہیں، لگتا ہے شہزادے نے صرف دستخط کیے ہیں۔ اعتزاز احسن بلاوجہ ہلکان ہو رہے ہیں، اگر دستخط مان رہے ہیں تو پھر شہزادے کو بے وقوف نہ سمجھیں اس نے خط پڑھ کر ہی دستخط کیے ہوں گے۔ تحریک انصاف کے مطابق یہ خط جھوٹ ہے۔ عدالت کو فیصلہ کرنے دیں تو بہتر ہے۔ خط کے مطابق لندن کے فلیٹ اصل میں قطری شہزادے کے تھے، جو اس نے میاں جی کے بچوں کو سر چھپانے کے لیے دیے ہوئے تھے، بعد میں بچوں نے شاید فرمائش کی ہو گی کہ کیا ہی اچھا ہو یہ فلیٹ ہمارے پاس ہی رہیں، ہمارا ان میں دل لگ گیا ہے۔ ، شہزادے نے رائے دی ہو گی کہ آپ نے جو سرمایہ ہمارے پاس لگایا ہوا ہے اس کے بدلے فلیٹ لے لیں۔ میاں زادوں نے یہ بات مان لی اور فلیٹ بچوں کے نام کر دیے۔

***

شنید یہ ہے کہ پہلے میاں جی عدالتی کمیشن چاہتے تھے، خان جی کی رائے تھی کمیشن نہ بنے ورنہ قصہ لمبا ہوجائے گا، اب میاں جی چاہتے ہیں کہ کمیشن نہ بنے بلکہ عدالتی بنچ خود ہی فیصلہ کر دے جب کہ خان جی چاہتے ہیں کمیشن بنے تا کہ گیم لمبا ہو اور ان کو سیاست کرنے کے مواقع ملتے رہیں۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے مال اور اولاد صحیح معنی میں میاں جی کے لیے فتنہ بنے ہوئے ہیں اور میاں جی نے دونوں فتنوں کو گلے سے لگا رکھا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں میاں جی اور ان کے بچے دونوں پھنستے جا رہے ہیں، کچھ کے خیال میں دونوں آٹے سے بال کی طرح نکل جائیں گے۔ یہ بھی رائے کہ دونوں میں سے ایک فریق پھنس سکتا ہے۔ لیگی بردران شہزادے کے خط کے بعد کافی مطمئن نظر آرہے ہیں لیکن ایک بات ہے یہ سب کچھ پیچ در پیچ ہے۔ سارے پیچ کھلے تو خوشی کافور ہوجائے گی۔