سقوطِ خلافت کی دل خراش یادیں

محمد اسماعیل ریحان

تیسری قسط:
جو لوگ مصطفی کمال کی کسی اور خوبی کے قائل نہیں، وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کم ازکم یونان کے مقابلے میں اس نے زبردست استقامت دکھائی اور ترکی کو ان کے ہاتھوں برباد ہونے سے بچالیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یونان سے جنگ کے حالات، اکثر تواریخ میں نہایت مختصرملتے ہیں۔ شروع میں انہیں جان بوجھ کر سمیٹا اور لپیٹاگیا تاکہ حقیقت چھپی رہے۔ بس اتنا ظاہر ہوکہ جنگ ہوئی اور یونان شکست کھاکر بھاگ گیا،جس کا سہرا مصطفی کمال کے سرہے۔ بعدوالے اسی اختصار کو نقل کرتے گئے۔ ذرا دیکھتے ہیں کہ اس جنگ میں کمال کی کتنی بہادری تھی اور یونانیوں کو کہاں کہاں شکست د ے کر بھگایا گیا۔

1921ء کے موسم بہارمیں مصطفی کمال نے ترک افواج کوروسی اسلحے سے آراستہ کرکے محاذ کی طرف بھیج دیا۔ یونانیوں نے ترکوں کو محاذ پر پہنچنے سے پہلے بے دم کرنے کے لیے چھاپہ مارکارروائیاں شروع کردیں۔ یونان کویقین تھا کہ عن قریب برطانیہ، فرانس اور اٹلی اس کی مدد کے لیے آجائیں گے اور وہ جنگ جیت جائے گا کیونکہ ایک طویل زمانے سے انہی طاقتوں کی شہ پر یونانی عثمانی ترکوں کے خلاف بار بار شورشیں کرتے آرہے تھے۔ مگر برطانیہ، اس کے اتحادی اور یہودی زعماء کا منصوبہ کچھ اور تھا۔ برطانیہ نے صاف اعلان کردیاکہ وہ اور ا س کے اتحادی اس قضیے میں دخل نہیں دیں گے۔

6مارچ 1921ء کویونانیوں کاحملہ شروع ہوا اور انہوں نے جنگ کے پہلے معرکے میں ترک جرنیل عصمت انونو، کو پسپا کردیا۔ یونانی پیش قدمی کرتے ہوئے عثمانیوں کے اوّلین پایۂ تخت بروصہ تک پہنچ گئے جہاں سے انہوں نے استنبول پر حملے کی تیاری شروع کردی۔ مگر برطانوی فوجیں ان کی راہ میں حائل ہوگئیں۔ یونانی یہاں سے پلٹ کر’کوتاہیہ‘ پہنچے جہاں عصمت انونو دوبارہ افواج مرتب کررہا تھا۔ یونانیوں نے جنوب میں قرہ حصارپر قبضہ کرکے شمال کی طرف یلغار کی۔ اُدھر مصطفی کمال انقرہ سے اپنی کمان میں فوجیں لے کر اس محاذپر آن پہنچا مگر یونانیوں پر حملے کی بجائے اس نے افواج کو جنگ روک کرمشرق کی طرف بڑھنے کاحکم دیا۔ اس پسپائی میں ترکوں کو سخت نقصانات اٹھاناپڑے مگر کمال نے پروانہ کی اور فوج کودریائے سقاریا کے پارلے جاکر وہاں دفاعی لائن بنانے کا حکم دیا۔ ترکی کی تمام دستیاب فوج یہاں جمع ہوگئی جس کی تعداد 70ہزارتھی۔

کمال اس کے بعد ٹرین کے ذریعے انقرہ پہنچا جہاں ارکانِ پارلیمان محاذسے مسلسل پسپائی پرسخت برافروختہ تھے۔ کمال نے پارلیمان کااجلاس طلب کرکے اعلان کیاکہ ارکان کویقین دلایا کہ ترک فوج اب تک توانا اور مضبوط ہے۔ ترک فوج دریائے سقاریا کے کنارے مورچے بنائے ہوئے تھی کہ مئی 1921ء میں یونانی آگے بڑھتے ہوئے دریا کے مغربی کنارے پرپہنچے، جب ان کی جانب سے حملہ شروع ہواتوترک شروع میں دلیری سے لڑے مگر آخرکاروہ یہاں بھی قدم نہ جماسکے اور اندھادھند فرار ہونے لگے۔ صرف فدائی سپاہیوں نے ثابت قدمی دکھائی اور خنجروں سے لڑتے لڑتے کٹ گئے۔ باقی اس ابتری کی حالت میں فرارہوئے کہ 70ہزارمیں سے صرف 30 ہزار انقرہ پہنچ سکے۔ شکست کے بعد انقرہ کے سقوط کاخطرہ پیدا ہوگیااور وزراء مشورے کرنے لگے کہ دارالحکومت کہیں اور منتقل کردیاجائے۔ خوفزدہ شہریوں نے نقل مکانی شروع کردی۔ مگر اس دوران ایک ناقابلِ یقین بات ہوئی۔ وہ یہ کہ فاتح یونان نے میدان میں کسی شکست، کسی مزاحمت اور کسی رکاوٹ کا سامنا کیے بغیر اچانک واپسی اختیار کرلی۔ یہ تھی یونان کی وہ شکست اور پسپائی جسے کمال پاشا کے مداح آج تک دلیری اور اولوالعزمی کی ناقابلِ فراموش داستان شمارکرتے ہیں۔ مگر حقیقت بین نگاہوں سے یہ مخفی نہیں رہ سکتاکہ فتح مندیونان کی اس واپسی کی وجہ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے دباؤ کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتی، کیونکہ یہ طاقتیں ہرگزنہیں چاہتی تھیں کہ ان کی مقصدبرآری کرنے والا مستقبل کا ’’عظیم ترک لیڈر‘‘ ابتداء ہی میں سیاسی موت کا شکار ہوجائے۔

یونانیوں کا انقرہ کے قریب سے لوٹ جانا، درحقیقت پسپائی نہیں، واپسی تھی، اسی لیے وہ پورے اطمینان سے سفرکرتے رہے۔ انہیں کسی تعاقب کا اندیشہ نہ تھا۔ وہ راستے کے ہردیہات کو نذرآتش کرکے مسلمان مردوزن کاقتل عام کرتے رہے۔ کنوؤں اور پانی کے ذخائر کوتباہ کرکے مال و مویشی سمیٹ کرساتھ لے جاتے رہے۔ اس طرح کسی تعاقب کے خدشے کے بغیر وہ 28فروری 1922ء کو واپس ’ازمیر ‘پہنچے۔ اپنے اس مفتوحہ شہر کوانہوں نے خود خالی کردیا اور مغربی ساحل کی طرف روانہ ہوگئے۔ ان کے نکل جانے کے چھ ماہ بعد ستمبر 1992ء کے آغازمیں ترک فوج ازمیر پہنچی اور ایک گولہ داغے یاایک گولی چلائے بغیر شہر پر قابض ہوگئی، جہاں اب کوئی یونانی نہیں تھا۔ اس کے صرف پانچ دن بعد استنبول پر قابض برطانوی افسران و اہلکاروں نے خلیفہ وحیدالدین کو گرفتار کرکے اسے ایک رسمی خلیفہ بنانے کی پیش کش کی مگراس نے ایک بے اختیار خلافت قبول کرنے سے انکارکردیا۔ جس پر اسے معزول کردیاگیا۔ (جاری ہے)