صوفی کون ہوتا ہے؟

مفتی منیب الرحمان

امام الصوفیاء حضرت ابوالحسن سید علی بن عثمان ہجویری رحمہ اللہ تعالیٰ کا سلسلۂ نسب حضرت امام حسن کے توسط سے امام الاولیاء و امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جاملتاہے۔ آپ کاعہد مشہور روایات کے مطابق 400ھ تا 465ھ ہے، آپ کا مزارِ پرانوار 24 گھنٹے مرجعِ خلائق رہتاہے۔ تصوف بنیادی طور پر صفائے قلب اور روح کی جِلا کا نام ہے۔ اسے قرآن وحدیث میں تزکیہ، احسان اور عرفان سے تعبیر کیاگیا ہے۔ حضرت سید علی ہجویری نے صوفیاء کی تین قسمیں بیان کی ہیں: (1)صوفی (2) متصوف(3) مُسْتَصْوِفْ، وہ لکھتے ہیں:

(1) صوفی وہ ہے جو اپنے وجود سے فانی ہوکر حق کے ساتھ باقی ہوگیا ہو، نفسانی خواہشات اور ان کے تصرف سے آزاد ہوکر حقیقت الحقائق یعنی اللہ عزّوجلّ کے ساتھ واصل ہو گیا ہو۔ (2)متصوف وہ ہے جو مجاہدے اور ریاضت کے ذریعے اِس مقام کے حصول کے لئے کوشاں ہے اور راہِ حقیقت کی تلاش میں اپنے آپ کو صوفیاء کے طریقے پر کاربند رکھتا ہے۔ (3) مُسْتَصْوِفْ وہ ہے جو دنیوی منفعت کے حصول اور جاہ و مرتبے کی لالچ میں صوفیا ء کی نقالی کررہا ہو، اسے نہ تو اوپر والے دونوں گروہوں سے کوئی تعلق ہوتاہے اور نہ ہی اسے طریقت کے بارے میں کوئی ادنیٰ سی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ مشایخ کرام نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے: ’’مُسْتَصْوِفْ صوفیاء کے نزدیک مکھی کی مانند ہے اور غیر صوفیاء (عوام) کے لئے بھیڑیا ہے‘‘۔ صوفیاءِ کرام مُسْتَصْوِفْ کو مکھی سے اس لئے تشبیہ دیتے ہیں کہ یہ لوگ صوفیاء کی نقّالی ہوا وہوس کی خاطر کرتے ہیں جیسے مکھی کسی چیز پر بھنکتی رہتی ہے اور عوام کے حق میں اس لیے بھیڑیے ہیں کہ بھیڑیے کاکام بھی چیرنا پھاڑنا اور مردار کھانا ہے، یعنی ناجائزطریقے، حیلے اور مکروفریب سے مفادات سمیٹنا ہے۔ الغرض صوفی صاحبِ وصول ہوتا ہے اور متصوف واصل باللہ ہوتاہے اور مُسْتَصْوِفْ صاحبِ فصول یعنی ذاتِ حقِ تعالیٰ اور راہِ حق سے دور ہوتاہے، وہ مزید لکھتے ہیں:

’’صوفیا سے متعلق آج کل یہ مصیبت عام ہوگئی ہے، ملحدین کے ایک گروہ نے جب حقیقی صوفیاکی شان اور قدر ومنزلت دیکھی، تو اپنے آپ کو بھی ان کا ہم شکل بنالیااور کہنا شروع کردیا کہ طاعات وعبادات کی تکلیف اس وقت تک ہے، جب تک معرفت حاصل نہیں ہوجاتی۔ جب معرفت حاصل ہوگئی تو عبادات وطاعات کی تکلیف جسم سے اُٹھ جاتی ہے(یعنی انسان اللہ تعالیٰ اور رسولِ مکرم ا کے احکام اور شریعت کا مکلَّف (جوابدہ) نہیں رہتا)‘‘۔ حقیقی صوفیاءِ کرام کی شکل اختیار کرنے یا حلیہ بنانے یا لبادہ اوڑھنے کا تکلف بھی حضرت داتا صاحب کے عہد یعنی اسلام کی قرونِ اولیٰ اور قرونِ وُسطیٰ کی مجبوری تھی، ورنہ آج کل اس طرح کے کسی تکلف کی بھی قطعًا کوئی حاجت نہیں ہے اور نہ ہی ظاہری اعتبار سے تدیُّن اور تشرُّع کی صورت اختیار کرنے کا تکلف کیا جاتاہے، ہر قسم کا شکار خود ہی شکاری کے جال میں پھنسنے کے لئے بے قرار ہوتاہے۔ علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو منظوم انداز میں بیان کیا ہے ؂

خدا وندا تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیںکہ درویشی بھی عیاری ہے، سلطانی بھی عیاری حضرت سید علی ہجویری نے بتایا کہ روحانی ارتقاء کی راہ میں دو چیزیں حائل ہوتی ہیں: ایک ’’رَین‘‘ اور دوسری ’’غَین‘‘۔ دراصل قلبی اور روحانی خرابیوں میں ایک تو کفر، شرک اور نفاق ہے اور اس کے سبب انسان کے دل ودماغ پر ہدایت کے انوار وتجلیات کا فیضان مستقل طور پر رک جاتاہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:حجاب کی دو قسمیں ہیں :ایک ’’رینی ‘‘ اور یہ کبھی نہیں اٹھتا، وہ مزید تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : بعض لوگوں کی ذات خود حق سے حجاب کا سبب ہوتی ہے، یہاں تک کہ ان کے نزدیک حق اور باطل یکساں ہوجاتاہے۔ اسی حجاب کو ’’رَین‘‘ کہتے ہیں اور اسے قرآن مجید میں ختم، طبع، اِغفال، اَکِنّہ اور قَساوت سے تعبیر کیا ہے، چنانچہ اللہ کا ارشاد ہے:’’ہر گز نہیں، بلکہ ان کے کرتوتوں نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے، (المطففین :14)‘‘۔ یہ لوگ ناقابلِ اصلاح ہوتے ہیں اور ہدایت سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور اُنہوں (کافروں) نے کہا:جس دین کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں، اُس کی (قبولیت کی) راہ میں ہمارے دلوں پر پردے چڑھے ہوئے ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان حجاب ہے، (حم ٓ السجدہ:05)‘‘۔
دوسری قسم کے حجاب کو ’’ غین ‘‘کہتے ہیں۔ د
راصل یہ انسان کے دل میں حرص وطمع، بُخل، ہواوہوس، حسد، کِبَرونَخوت، ریااور دیگر اَخلاقی اَمراض ہوتے ہیں، جن کے سبب انسان کے دل پر پردہ پڑ جاتاہے، مگر یہ حجاب عارضی ہوتاہے اور توبہ واستغفار سے زائل ہوجاتاہے۔ رسول اللہ ا کا ارشاد ہے:’’میرے دل پر کبھی (انوار کے غلبے سے )اَبَر چھا جاتاہے اور میں اللہ تعالیٰ سے ایک دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں، (صحیح مسلم: 42)‘‘۔ بعض شارحین نے لکھا ہے : اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سید المرسلین ا کے مقاماتِ عالیہ کے ارتقا کا سفر جاری رہتا ہے اور جب وہ اپنے اگلے مقامِ رفیع سے پلٹ کر پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں، تو ایک غُبار سا چھا جاتا ہے اور مقامِ نبوت کے حوالے سے اسی کو ’’غین‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں:’’رَین‘‘ کی مثال وطن کی سی ہے، جو مستقل ہوتاہے اور ’’غین‘‘ سے وہ خیالات وخطرات ہیں، جو دل پر طاری ہوتے ہیں اور کبھی دل میں جگہ بھی پالیتے ہیں، لیکن توبہ و استغفار سے ان کے اثرات مٹ جاتے ہیں۔

حدیثِ پاک میں مرتبۂ احسان کو ان کلمات میں بیان فرمایا گیا ہے:’’(احسان یہ ہے کہ) تم اللہ کی عبادت اس قدر حضوریِ قَلب (Presence of Mind) سے کرو کہ گویا تم اللہ عزّوجلّ کو دیکھ رہے اور اگر تم (اپنی بشری نارسائی کے سبب) اسے نہیں دیکھ پاتے، تو وہ یقیناًتمہیں دیکھ رہا ہے، (صحیح بخاری:50)‘‘۔ چنانچہ حضرت سید علی ہجویری اسی مقامِ احسان کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’میں نے حاتمِ اَصمّ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا : آپ نماز کس طرح ادافرماتے ہیں ؟، انہوں نے جواب دیا: جب نماز کا وقت آتا ہے، توپانی سے ظاہری وضو کرتا ہوں (یعنی اس سے اعضاءِ وضو کی پاکیزگی حاصل کرتا ہوں) اور توبہ کے ذریعے باطنی وضو کرتاہوں، یعنی توبہ سے قلب وروح کی طہارت حاصل ہوتی ہے۔ مسجد میں نماز پڑھتے وقت خانۂ کعبہ کو اپنے سامنے، مقامِ ابراہیم کو دونوں ابروں کے درمیان، بہشت کو دائیں، دوزخ کو بائیں، پلِ صراط کو قدموں کے نیچے اور فرشتۂ موت کو اپنے پیچھے تصور کرتاہوں۔ اس کے بعد اللہ کی عظمت وجلالت کو اپنے ظاہروباطن پر طاری کرکے اللہ اکبر کہتا ہوں، اعزازووقار کے ساتھ قیام کرتا ہوں، قرا ء ت کے وقت اللہ کی ہیبت دل پر طاری رہتی ہے، تواضع اور انکسار کے ساتھ رکوع اور اَزحد تضرُّع اور عاجزی کے ساتھ سجدہ کرتاہوں، حِلم ووقار کے ساتھ قعدہ کرکے شکر کے ساتھ سلام پھیرتاہوں‘‘۔

جنت کو دائیں اور دوزخ کو بائیں رکھنے کی حقیقت کو اس قول میں بیان کیا گیا ہے :’’ایمان خوف ورجا کے درمیان ہے‘‘، یعنی حقیقتِ ایمان اور کمالِ ایمان یہ ہے کہ انسان کے دل پر خشیت وہیبتِ الٰہی بھی طاری ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عفو ومغفرت پر اس کا یقین بھی مرتبۂ کمال پر ہو، اسی کو وعظ وتذکیر کے عنوان پرمجموعۂ احادیث میں ترغیب وترہیب اور رغبت ورہبت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فرشتۂ اَجل کو پیچھے تصور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بندۂ مومن کو ہر آن موت کے لئے تیار رہنا چاہئے اور پل صراط کو سامنے رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ شریعت کے جادۂ مستقیم پر ایک ایک قدم ہزار بار سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہئے، ورنہ ذرا سی بے احتیاطی اور لغزش سے انسان گہرے ظلمت کدے میں گر سکتا ہے یا جہنم کا ایندھن بن سکتاہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے اپنی پناہ عطا فرمائے۔