سقوطِ خلافت کی دل خراش یادیں

محمد اسماعیل ریحان
دوسری قسط

سوال یہ ہے کہ آخر معاہدۂ سیورے کیاتھا؟اس کی تشہیر ہوتے ہی خلیفہ کو غدارکیوں تصور کرلیا گیا؟ ہوا یہ تھا کہ اتحادی خلیفہ پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ ان کی من پسند شرائط پر صلح کرلے، ورنہ اتحادی فوجیں خلافت کاخاتمہ کردیں گی۔ مجبور ہو کرخلیفہ کے نمائندوں نے 10اگست 1920ء کو معاہدۂ سیورے کوقبول کرنے پر آمادگی ظاہر کردی، جس میں کہا گیا تھاکہ استنبول کے سوا، ترکی کے باقی تمام علاقے اتحادیوں کے قبضے میں دے دیے جائیں۔ اِزمیر اور اس کے آس پاس کے پانچ اضلاع، پانچ سال تک یونان کے قبضے میں رہیں۔ ترکی ان تمام مقبوضات سے باضابطہ طور پر دست برداری کا اعلان کرے جو عالمی جنگ میں اس سے الگ ہوئے ہیں۔

معاہدے کو خلیفہ کی منظوری کے بغیر قانونی حیثیت نہیں مل سکتی تھی۔ خلیفہ غوروفکر کے بہانے اس پر دستخط کرنے کو ملتوی کرتارہا، یوں اس نے معاہدے کی توثیق کی نوبت نہیں آنے دی۔

معاہدۂ سیورے کے مندرجات مصطفی کمال تک پہنچ گئے جنہیں شایع کرکے اس نے حالات کا رُخ بدل دیا۔ کوئی بعید نہیں کہ معاہدے کی نقل برطانوی خفیہ اداروں نے ہی اسے بھیج دی ہو۔ ملکی فضا جو خلیفہ کے ساتھ ہوچکی تھی، اب یکدم خلیفہ کے مخالف اور انقرہ حکومت کی حمایت میں بن گئی، جس کی وجہ سے انقرہ پر خلیفہ کی وفادارفوج کاحملہ ناکام ہوگیا۔

یہاں ہمیں یہ ضرورسوچناچاہیے کہ اگر واقعی خلیفہ انگریزوں سے ملا ہوا تھا اور مصطفی کمال ہی سامراجیت کا اصل مد مقابل تھا، توبرطانوی فوجوں نے انقرہ کی جگہ استنبول پر قبضہ کیوں ضروری سمجھا؟ مصطفی کمال کو انہوں نے آزاد کیوں چھوڑے رکھا۔ مصطفی کمال اگر برطانیہ کامہرہ نہیں تھا، تواس نے انگریزوں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہ کی؟انقرہ کی فوجیں فرانسیسیوں، اطالویوں اور یونانیوں کے مقابلے میں ضرور کھڑی ہوئیں جس سے مصطفی کمال کی حب الوطنی اور جرأت وبسالت کا چرچا ہوا اور اسے عوامی اعتماد نصیب ہوا، مگراس نے برطانیہ سے نبردآزماہونے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی، جبکہ استنبول پر جوترکوں کاسب سے اہم مقام تھا، صرف برطانوی فوجیں حملہ آورہوئی تھیں۔ کمال نے وہاں حملہ کرکے انگریزوں کوبے دخل کیوں نہ کیا؟اور اگروہ سلطنتِ عثمانیہ کامخلص تھا، تو خلیفہ کو برطانیہ کے تصرف سے نکالنابھی اسی کی ذمہ داری تھی، کیونکہ قوم اور فوج اس کے ساتھ ہوچکی تھی۔ مگراس نے ایسا کچھ بھی نہ کیا۔ آخرکیوں؟

یہ سوال بھی سامنے ہے کہ اگراتحادی طاقتیں چاہتیں تو کمال سے نجات حاصل کرناان کے لیے کوئی مشکل نہ تھا۔ وہ اس کا سر شروع ہی میں کچلنے کے لیے متحرک کیوں نہ ہوئیں؟

اس صورتحال سے صاف پتاچلتاہے کہ عالمی طاقتیں مصطفی کمال کے ہاتھوں خلافت کو ختم کرانے کے لیے اسے ایک زبردست لیڈر کی حیثیت دلوانے میں دلچسپی لے رہی تھیں۔ اتحادی خصوصاً برطانیہ حالات کو اپنے رُخ پر لے جانے میں کامیاب تھے۔ کمال کی مقبولیت اور عروج سے انہیں ذرّہ برابر نقصان نہ ہوا، بلکہ ان کے مطالب کی راہ آسان ہوگئی۔

آخر برطانیہ نے فروری1921ء میں معاہدۂ سیورے پر نظر ثانی کے لیے لند ن میں ایک کانفرنس طلب کی اور استنبول وانقرہ دونوں حکومتوں کے نمائندوں کواس میں طلب کیا۔ اس میں ساری بات مصطفی کمال کے وزراء سے طے کی گئی، حالانکہ دنیاجانتی تھی جنگِ عظیم کافریق سلطنتِ عثمانیہ تھی اور اتحادیوں کے ساتھ صلح کے معاملات طے کرنا بھی اس کا حق تھا۔

اس کانفرنس میں مصطفی کمال فرانس کے حق میں شمالی شام سے دست برداری پر آمادہ ہوگیا۔ جواب میں فرانس نے انقرہ حکومت کو تسلیم کرلیا۔ کمال نے مشرقی سرحدی علاقے پرروس کاحق بھی مان لیا۔ جواباً روس نے بھی جدید ترک حکومت کو تسلیم کرنے کااعلان کردیا۔ یوں کمال نے عالمی سطح پر ایک قانونی حکمران کی حیثیت حاصل کرلی، جبکہ استنبول کے خلیفہ کی ساکھ مزید گرادی گئی۔ عالمی طاقتوں سے معاملات طے کرنے کے بعدصرف یونان سے ازمیر کے مسئلے پر تنازع باقی رہ گیا تھا۔ یہ واحد یورپی ملک تھاجس سے مصطفی کمال نے مذاکرات کی جگہ طاقت سے مسئلہ طے کرنے کافیصلہ کیا۔ اگر دیکھا جائے تویہ اتنا مشکل بھی نہ تھا کیونکہ یونان ایک چھوٹی طاقت تھاجو عالمی جنگ میں بھی اتحادیوں کی مدد ہی سے کچھ کامیابیاں حاصل کر پایا تھا۔

اب ہم یونان سے مصطفی کمال کی اس لڑائی کا احوال پیش کرتے ہیں، جس کی بنیاد پر ملت کے اس غدار کو ایک عظیم فوجی جرنیل، ایک فاتح اور قومی نجات دہندہ کے طورپر پیش کیا جاتا ہے۔ برطانوی خفیہ ایجنسیوں اور یہودی ذرائعِ ابلاغ نے اس نمائشی جنگ کے دوران مصطفی کمال پاشا کی شجاعت و بسالت کا صور اس زور سے پھونکاکہ دنیا بھر کے محکوم مسلمان، اس نئے چہرے کو اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگے۔ لندن اور امریکاکے اخبارات سے لے کربرصغیر کے مسلم اخبارات و جرائد تک ہر جگہ ’’غازی مصطفی‘‘ کا ڈنکابجنے لگا۔ عرب شاعر احمد شوقی نے اپنے شہرہ آفاق قصیدے میں مصطفی کمال کو خالد بن ولید اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہم پلہ قراردے دیا۔ پوری دنیا کے مسلمان، ڈیڑھ دو صدیوں سے شکست درشکست کے مناظر دیکھ رہے تھے اور ا س وقت افغانستان اور ترکی کے سوا، دنیا میں کوئی آزاداسلامی مملکت نہیں بچی تھی۔ غلامی کی ذلت میں لپٹے ہوئے ان مسلمانوں نے مصطفی کمال پاشا کوایک ایسے جری قائد کے طور پردیکھا جو خلافت کی شان و شوکت کو دوبارہ قائم کرنے کی تگ و دو کر رہاہو، جبکہ خلیفہ وحیدالدین کو وہ ایک بزدل اور نااہل شخص سمجھنے لگے تھے۔ حالانکہ خو د کو’’اتاترک‘‘ سے موسوم کرنے والے اس ’’بطلِ حریت‘‘ کے نامۂ اعمال میں کوئی ایک بھی ایسا کارنامہ نہیں ہے جس پر اسلامی تاریخ فخر کرسکے۔ اسے جہاں بھی بھیجاگیا، وہاں یہ کوئی نہ کوئی عجیب گل کھلاکر لوٹا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان حقائق کو صہیونی لابی نے چھپادیااور کمال کی پسپائی اور بھگوڑے پن پر ’’بے مثال قیادت‘‘ اور ’’شہامت وبسالت‘‘ کے چمک دار لیبل لگادیے۔ (جاری ہے)