شہرت کا اچار

ندیم تابانی
ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ کے مصداق عمران خان کا پھڈا میاں نواز شریف سے ہے، لیکن موصوف ہمیشہ بدلہ لیتے ہیں ریاست پاکستان سے۔ ان سطور کی اشاعت کے روز ترک صدر پاکستان میں ہوں گے، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے، سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں ہوں گی۔ کچھ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاک حکومت اور عسکری قیادت میں جو روٹھا روٹھی چل رہی ہے، اس کو ترک صدر دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایک مضبوط اسلامی جمہوری حکومت کے مقبول اور مضبوط صدر کا یہ دورہ، پاکستان کے لیے خوش آئند سمجھا جا رہا ہے، لیکن خان صاحب مرغے کی ایک ٹانگ پر بیٹھے ہیں، انہوں نے شاہ محمود قریشی کے ذمے لگایا کہ ترک سفیر کے ذریعے تحریک انصاف کے لیے ترک صدر سے الگ وقت لیں، ہم انہیں بتائیں گے کہ ہم ہی اصلی جمہوریت رکھتے ہیں اور ہم ہی اصل اپوزیشن، بلکہ اصل میں تو حکومت ہماری بننا تھی، لیکن بنا لی نواز شریف نے جو وہ چھوڑ نے پر تیار نہیں، لیکن ہم بھی نئے انتخابات کے اعلان تک ان سے حکومت چھیننے کی پوری کوشش کر تے رہیں گے۔

***

ترک سفیر نے یقیناپہلے تو شاہ محمود قریشی کی طرف غور سے دیکھا ہو گاکہ یہ اچھا خاصا معقول بندہ کیسی نامعقول بات کر رہا ہے، کن چکروں میں ہے، پھر صرف اتنا کہا’’بجائے ترک صدر سے الگ وقت کی فرمائش کے آپ اپنے فیصلے پر غور فرمائیں۔۔۔‘‘ شاہ محمود قریشی کے اپنے دل کی بھی یہ آواز تھی، لیکن عمران خان کی ’’جمہوری‘‘ شخصیت کے سامنے وہ احتراماً خاموش رہے۔ اگر فیصلہ پارٹی کو کرنا ہوتا تو پارٹی بائیکاٹ ہی نہ کرتی، لیکن فیصلہ جمہوری شہزادے عمران خان نے کیا تھا، اب بھی فیصلہ وہی کر رہے ہیں، اس لیے جمہوریت کی علم بردار تحریک انصاف ہاتھ باندھے اپنے چیئر مین کی اگلی ہدایت کی منتظر ہے۔ خان صاحب نے نمایاں ہونے اور احتجاج ریکارڈ کرنے کا حق استعمال کر لیا، اب فیصلہ تبدیل کر کے پاک ترک دوستی پر احسان بھی کر سکتے ہیں اور اپنے فیصلے پر قائم رہ کر ’’یوٹرن ‘‘لینے کا الزام دھو بھی سکتے ہیں۔

***

وفاق کی میاں اور کے پی کی خٹک حکومت کے بیچ صلح کی کچھ خبریں گردش میں ہیں۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیر اعلیٰ کے پی پرویز خٹک کے درمیان ملاقات کے بعد برف پگھلنے کی اطلاعات آنا شروع ہوئی ہیں۔ مسٹر خٹک کو یہ بھی باور کروایا گیا کہ جھگڑے سے انہیں شاید کچھ نہ ملے، خالی شہرت کا جواچار وہ ڈالنے جارہے ہیں، یہ اچار بھی بد بو چھوڑ دے گا، اس لیے موصوف نے وفاق اور ساتھ ہی پنجاب حکومت کے خلاف اپنا وہ مقدمہ واپس لے لیا جس کے مطابق کرین اور ناجائز اسلحہ کے ساتھ ’’جمہوری‘‘ احتجاج کرنے کے لیے آنے پر پنجاب اور وفاق نے بجائے استقبال کر نے کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس پیش کر کے خٹک اور ان کے ساتھیوں کو روک دیا تھا۔

***

پاکستان میں اقتصادی راہ داری عملی شکل اختیار کر لے اور ہندوبنیا چپ بیٹھا رہے، ایسا بھلاکیسے ممکن ہے، اس لیے پہلے اس نے بلاول شاہ نورانی کے مزار پر زبردست قسم کا دھماکا کروایا اور پھر کنٹرول لائن پر فائرنگ کر کے پاک فوج کے سات جوان شہید کر کے اپنے زخموں کو نوچنے کی کوشش جاری رکھی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جواب تو اسے ایسا دیا گیا ہے، جس کا وہ ہمیشہ سے مستحق ہے، لیکن اس کے پاس قربان کرنے کو نفری کی کمی نہیں، اس لیے زخم چاٹ کر فارغ ہوتے ہی نیا حملہ کر سکتا ہے اور ترک صدر کی پاکستان آمد بھی اس کے حلق میں ہڈی بن کر پھنسی ہوئی ہے، اس لیے اپنی حرکتیں چھوڑنا اس کے بس میں نہیں، لیکن آئندہ بھی جواب اسے ایسا ہی ملے گا جس کا وہ حق دار ہے۔

***

عشرت العباد گورنری چھوڑ گئے، لیکن اپنے رابطے زندہ رکھے ہیں، کسی کو خط لکھ کر اور کسی کو فون کر کے اس کے احسانات، ساتھ اور تعاون کا شکریہ ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ ممکن ہے کچھ شخصیات کے لیے ان کا خط اور فون مسائل کا ذریعہ بنے، لیکن مسٹر عشرت عوامی گولیاں کھیلنے کا فن اچھی طرح جانتے ہیں، اس لیے ان کی اپنے فائدے پر نظر ہے، جو دوسروں کے نقصان کے ساتھ دگنا ہو جاتا ہے۔