سقوطِ خلافت کی دل خراش یادیں

محمد اسماعیل ریحان
17نومبر1922ء وہ تاریخ تھی جب ترکی میں عملاً خلافت کاخاتمہ ہوا۔ اس دن سلطان وحیدالدین کی جگہ سلطان عبدالمجید ثانی کی تخت نشینی ہوئی، جس کی حیثیت مصطفی کمال پاشاکے ایک قیدی سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ اس کے صرف تین دن بعد۲۰نومبر ہماری تاریخ کا وہ سیاہ دن تھاجب اسلام کوزندہ درگورکرنے کے لیے لوزان کانفرنس منعقد کی گئی۔

معزول کیاجانے والاخلیفہ وحیدا لدین ترکی کا آخری بااختیار خلیفہ تھا۔ جولائی 1918ء میں جب وہ مسندِ خلافت پر بیٹھا تواس کی عمر59سال ہوچکی تھی۔ اس وقت جنگِ عظیم اول کے آخری لمحات تھے۔ اس نئے مسند نشین کی آنکھوں کے سامنے ترکی دم توڑ رہا تھا۔ جنگ عظیم کا ہولناک انجام سامنے تھا۔ ترکی کے واحد اتحادی جرمنی کوشکست ہوگئی تھی۔ عرب، شام اور عراق ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ شمالی شام اور جنوبی ترکی پر فرانس کی فوجیں قابض ہوگئی تھیں۔ استنبول اور اناطولیہ (موجودہ ترکی کے ایشیائی حصے) کے کچھ اضلاع کے سوا کچھ بھی نہیں بچاتھا۔ اب ترکی کے پاس بھی ہتھیار ڈالنے کے سواکوئی چارا نہ تھا۔ 30اکتوبر 1918ء کو عارضی جنگ بندی طے ہوگئی۔ ایسے میں برطانوی جنرل لیبنی استنبول پہنچا اور خلیفہ وحیدالدین سے گفتگو کے دوران ترک فوج کے جرنیل مصطفی کمال پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ چھٹی آرمی کور کی کمان مصطفی کمال کود ی جائے۔

خلیفہ کے سامنے اس وقت سب سے بڑی آزمائش کسی طرح ترکی کو بچاناتھا، جس کے اہم ترین ساحلی نقاط حتیٰ کہ دارالخلافہ پر بھی اتحادی افواج کھڑی تھیں۔ خلیفہ نے جب دیکھا کہ اتحادی بھی مصطفی کمال پراعتماد کرتے ہیں تواس بحران سے نکلنے کے لیے اسے ایک عجیب تدبیر سوجھی۔ اس نے سوچا کہ وہ خود وقت گزاری کے لیے یورپی طاقتوں کے مطالبات مانتارہے، تاکہ منصبِ خلافت ہاتھ سے نہ جائے، مگر دوسری طرف مصطفی کمال سے خفیہ طورپر یہ طے کرلے کہ وہ ترکی کے آزاد علاقے میں جاکر خلیفہ کے خلاف نمائشی بغاوت کردے۔ چونکہ اس طرح قائم ہونے والی باغی حکومت کایورپی اتحادسے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، اس لیے وہ ایک آزاد ترکی کے لیے جدوجہد کرسکے گی۔ یورپی اتحاداس تحریک کو نظر انداز نہیں کرسکے گا اور اسے مجبورہوکر صلح کی شرائط نرم کرناپڑیں گی۔

چنانچہ خلیفہ نے مصطفی کمال پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے یہ مہم سونپ دی اور اس کے ذمے لگایا کہ اناطولیہ میں جاکرایک باغیانہ تحریک کھڑی کر ے جومغربی طاقتوں سے صلح کومسترد کرکے اپنی سرزمین کی مکمل آزادی کامطالبہ کرے۔ مصطفی کمال نے اس ذمہ داری کو نہایت مسرت کے ساتھ قبول کیا، کیونکہ جس کامیابی کے وہ خواب دیکھا کرتا تھا، اس کی چابی خلیفہ نے اس کے ہاتھ میں تھماد ی تھی۔ وہ خلیفہ کاخفیہ لائحہ عمل لے کر اناطولیہ پہنچ گیا۔ اس دوران یونان نے ترک علاقے اِزمیر پر قبضہ کرلیا تھا۔ یہ اطلاع ملتے ہی کمال نے ترک جوانوں کوجمع کرکے ایک قراراداد پاس کرتے ہوئے اعلان کیاکہ ترک عوام غیرملکی تسلط برداشت نہیں کریں گے۔

مغربی طاقتوں سے یہ حقیقت مخفی نہ رہی کہ مصطفی کمال کو خلیفہ نے کس مقصد کے لیے اناطولیہ بھیجا ہے۔ انہوں نے ایساعجیب کھیل کھیلاکہ خلیفہ کی چال الٹی پڑگئی۔ برطانیہ نے یہ حکمتِ عملی طے کی کہ مصطفی کمال کو حقیقتاً باغی بنادیاجائے اور اس بغاوت کو کامیاب کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے خلیفہ کی اتحادیوں کے سامنے عاجزی وبے بسی ظاہر ہو، جبکہ یورپی طاقتوں کی طرف سے مصطفی کمال کی مخالفت کی جائے تاکہ کمال کی ’’جرأت و بسالت‘‘ کا تاثر نمایاں ہوجائے۔ چنانچہ یورپی اتحاد نے اناطولیہ میں مصطفی کمال کے تقرر پر ناراضی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ اس کے اختیارات سلب کرکے اسے استنبول واپس بلایاجائے۔

اُدھرمصطفی کمال حقیقتاً اس قابل ہوگیاتھاکہ سچ مچ خلیفہ کاتختہ الٹ سکے۔ اس نے قوم کوپیغام دیا: ’’عوام پر اور فوج پر یہ فرض ہے کہ وہ سلطنتِ عثمانیہ، عثمانی سلطان اور خلیفہ کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کردے۔ ‘‘خلیفہ نے کمال کی گرفتاری کے احکام جاری کیے مگراس پر قابو پانا اب ناممکن ہوچکا تھا۔ اس طرح ایک ہی وقت میں ایک مملکت میں دو حکومتیں وجود میں آگئیں۔ ایک طرف استنبول میں خلیفہ کی حکمرانی تھی اور دوسری طرف انقرہ میں مصطفی کمال کی جمہوری حکومت۔

16مارچ1920ء کو برطانوی فوجیں حالات کو سنبھالنے کے عنوان پر استنبول میں داخل ہوگئیں۔ سلطان محمد فاتح کے استنبول فتح کرنے کے بعدپہلی بار ایسا ہوا تھا کہ کوئی غیرملکی فوج مسلمانوں کے اس دارالخلافہ میں گھسی ہو۔ برطانوی افسران کے دباؤ پر خلیفہ نے ایک نئی حکومتی مجلس تشکیل دی جس نے گھرگھر تلاشی لے کر اور جیل خانوں تک کو کھنگال کرمصطفی کمال پاشا کے حامیوں کو گرفتار کیا۔ برطانیہ نے اس نئی حکومت پراپنے نگران مقرر کرکے اعلان کرایاکہ لوگ خلیفہ کی اطاعت کریں، مگران کوششوں کااس کے سوا کوئی نتیجہ نہ نکلاکہ لوگ خلیفہ کو برطانیہ کاآلہ کارسمجھنے لگے۔ ان میں ترک قومیت کا جذبہ مزید پختہ ہونے لگا۔ یہی برطانیہ کا مقصد تھا۔ یہ تاثر عام ہوگیا کہ خلیفہ سامراج کا ایجنٹ ہے، جس کے بس میں کچھ بھی نہیں، جبکہ مصطفی کمال سامراجیت کے خلاف شمشیرِ بے نیام ہے۔ استنبول اور اس کے مضافات میں نوجوان رضاکاروں کی بھرتی شروع ہوگئی تاکہ اتحادی طاقتوں سے ایک اور جنگ لڑی جاسکے۔ یورپی اتحاد ایک ملک میں قائم ان دونوں حکومتوں کی کارکردگی کو بغور دیکھ رہاتھاکہ ان میں سے کس کاغلبہ ان کے مقاصد کے لیے زیادہ مفید ہوسکتاہے۔ انہوں نے خلیفہ کو کچھ اختیارات دے دیے جن سے فائداٹھاکرخلیفہ کی فوج نے کردستان پر فوج کشی کی اور اسے دوبارہ ترکی میں شامل کرلیا۔ اس فتح سے خلیفہ کی دھاک دوبارہ بیٹھ گئی اور لوگ کمال کاساتھ چھوڑکر خلیفہ کے گردجمع ہونے لگے۔

اب خلیفہ کی فوج، انقرہ کی طرف روانہ ہوئی تاکہ مصطفی کمال کی بغاوت کوکچلا جاسکے، مگر اسی دوران کمال کے حامیوں کو خلیفہ اور یورپی اتحاد کے درمیان معاہدۂ سیورے کی تفصیلات کا پتا چل گیا اور انہوں نے فوری طورپرانہیں نشر کرکے یہ ڈھنڈوراپیٹ دیاکہ خلیفہ نے ترکوں کی آزادی کا سودا کرلیا ہے۔ اس سے پانسایکدم پلٹ گیا۔ عوام اور فوج کی پوری حمایت کمال کے ساتھ ہوگئی۔
(جاری ہے)