عمران خان کا پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم نہ کرنے اعلان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک سپریم کورٹ میں پاناما کیس چل رہا ہے ہم پارلیمنٹ نہیں جائیں گے۔

بنی گالہ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پوری قوم نے پاناما معاملے پر دیکھا ہے کہ حکومت نے کتنی قلابازیاں کھائی ہیں، ایک جھوٹ بولنے کے بعد کئی جھوٹ بولنے ہی پڑتے ہیں، نواز شریف اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی کہانی تبدیل ہوتی جارہی ہے، پہلے اس کہانی میں دبئی سے جدہ اور پھر لندن تھا لیکن اب نئی کہانی میں وہ دبئی سے قطر اور قطر سے مےفیئر پہنچ گئے ہیں، آئندہ یہ کہانی تبدیل ہوتی رہے گی ۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ عدالت کہہ رہی ہے کہ کیس کو طول نہیں دیں گے، نواز شریف کرپشن کے الزامات کےباعث وزیراعظم کے عہدے پر نہیں رہ سکتے، نواز شریف کو پہلے تلاشی کے لیے پیش کرنا چاہیے تھا۔ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے خلاف مقدمے کے فیصلے تک وہ مستعفی ہوجائیں ۔ وہ بھی نواز شریف سے وہی مطالبہ کررہے ہیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ ترکی کے سفیر نے ان سے اپیل کی تھی کہ وہ ترک صدر کی آمد کے موقع پر پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ ختم کریں۔ اگر پاکستانی عوام چین کے بعد دنیا میں کسی ملک سے محبت کرتے ہیں تو وہ ترکی ہے اور یہ محبت صدیوں پر محیط ہے۔ ہم ترک سفیرکی درخواست کوقدرکی نگاہ سےدیکھتےہیں اور ہم تر ک صدر کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف پارلیمنٹ کے بائیکاٹ پر قائم رہے گی اور اس کی وجہ نواز شریف ہیں۔ موجودہ صورتحال میں پارلیمنٹ جانا بنتا ہی نہیں، جب تک سپریم کورٹ میں پاناما کیس چل رہا ہے ہم پارلیمنٹ نہیں جائیں گے۔ اگر وہ سپریم کورٹ میں خود کو بےگناہ ثابت کرلیں گے تو پارلیمنٹ ضرور جائیں گے۔