Urea-Creatinine

ڈاکٹر ناصر الدین سید

اگر ہم بغور مشاہدہ کریں تو معلوم ہوگا کہ پہلے جو امراض کبھی کبھی سننے میں آتے تھے آج کل ان میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، مگر حیرت ہے کہ لوگ اس پر نہ توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی حکومت اس کو اہم سمجھتی ہے۔ ان ہی میں سے ایک مرض گردوں کا فیل ہوجانا بھی ہے۔ پندرہ بیس سال پہلے شاذ و نادر ہی کوئی مریض اس مرض میں مبتلاہوا کرتا تھا۔ مگر حیرت ہوتی ہے کہ آج کل نوجوان، بچے، بوڑھے سب ہی اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وجہ؟؟ ہم نے بہت مریض دیکھے، مکمل ہسٹری لی۔ اکثریت ایسی ہے جو کسی نہ کسی دوا کے مضر اثرات سے متاثر ہوئی یا پھر ذہنی پریشانی اس کے علاوہ غذائی بدپرہیزی، جس میں کولڈ ڈرنکس کا زیادہ استعمال، اگر آپ خدانخواستہ اس مرض میں مبتلا ہیں یا ایسے مریض کو دیکھیں جو اس کا شکار ہو تو کبھی غلطی سے بھی کوئی ہومیوپیتھی کمبینشن استعمال نہ کریں، چاہے لوکل ہو یا امپورٹڈ۔

ہم نے کئی ایسے ہومیوپیتھ ڈاکٹرز کے بارے میں بھی سنا ہے کہ انہیں رپورٹس دکھائیں تو وہ اٹھاکر پھینک دیتے ہیں۔ ایسے مریض علاج کے لیے گئے تو یہی ہوا ان کے ساتھ، بغیر

رپورٹس کرائے اس مرض کی کمی بیشی کو دنیا کا قابل ترین ڈاکٹر بھی نہیں بتاسکتا۔ حیرت ہے کہ ایسے ڈاکٹرز کیوں اس بات سے چشم پوشی

اختیار کرکے قیمتی انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں، دوسری بات یہ بھی ذہن نشین کرلیں کہ اگر یوریا 200 سے اوپر ہو اور کریٹی نائن آٹھ سے اوپر تو پھر آپ ہومیوپیتھی علاج بھی نہ کرائیں، اگر کرانا بھی ہو تو کسی سینیئر ڈاکٹر سے جو کمبینشن استعمال نہ کرتے ہوں اور دورانِ علاج بھی ہر ہفتہ

دس دن میں رپورٹ کراکر تسلی کرتے رہیں کہ فرق پڑرہا ہے کہ نہیں۔ یہ سب اس لیے ضروری ہے کہ اگر یہ دونوں بھی یوریا اور کریٹی نائن بڑھتے رہیں تو خدانخواستہ مریض کوما میں جاسکتا ہے۔ گردے سکڑ جاتے ہیں، اور فیل ہوجاتے ہیں۔ ڈائیلسز کرانے سے یوریا فوری کم ہوجاتا ہے اور مریض ایک دو روز کے لیے بہت بہتر ہوجاتا ہے۔ پھر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، بعض مریضوں کو بہت فائدہ ہوتا ہے اور گردے کام کرنا شروع کردیتے ہیں، مگر اکثریت کو مستقل ڈائیلسز کرانا ہی پڑتا ہے۔ اس صورت حال میں بلڈپریشر کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اگر مستقل ہائی بلڈ پریشر رہے تو گردوں کا فنکشن ٹھیک نہیں ہوپاتا اس لیے بلڈپریشر کو نارمل رکھنا بہت ضروری ہے۔

گردوں کی دوسری بیماریوں میں پانی کا استعمال زیادہ ہوا کرتا ہے، مگر اس کنڈیشن میں پانی کم اور گھونٹ گھونٹ پیا جاتا ہے، اس مرض میں مریض کو ذہنی سکون دینا بے حد ضروری ہے۔ جب تک ذہن پرسکون نہیں ہوگا، اس کی ویلیوز کم زیادہ ہوتی رہیں گی۔ ہم نے ہر مرض میں مبتلا مریض دیکھے ہیں، پتہ نہیں کیوں، یہ مرض ہمیں بہت تکلیف دہ لگتا ہے۔ اللہ پاک ہر مرض سے ہی حفاظت فرمائے، بالخصوص اس مرض سے۔ آمین ثم آمین۔

ایک بات اور ذہن نشین کرلیں، گردوں کی دوسری کیفیات میں گردوں کے مقام پر درد کا ہونا، پیشاب میں جلن، تکلیف وغیرہ ہوتی ہے، مگر اس مرض میں ایسا کچھ نہیں ہوتا، اس لیے لوگوں کی اکثریت کو معلوم ہی نہیں ہوپاتا کہ وہ اس مرض کا شکار ہیں، بظاہر اس مرض میں ایسی علامات نہیں ہوتیں کہ مریض خود بھی محسوس کرے، سوائے اس کے کہ بلڈپریشر ہائی رہے، متلی اُلٹی کی کیفیت ہو (جب یوریا زیادہ ہو)، اس لیے کبھی کبھار یہ ٹیسٹ کرالینا چاہیے کہ اطمینان ہوجائے۔ ( Renal. Profile ) ہمیں آپ کی دعاؤں کی اشد ضرورت ہے۔ امید ہے کہ مایوس نہیں کریں گے۔
۔۔۔***۔۔۔

کیٹاگری میں : صحت