میک اپ

ندیم تابانی

خورشید شاہ کہتے ہیں سیاست دانوں نے پاناما کے مسئلے پر عدالت جا کر اپنی ڈاڑھی دوسروں کے ہاتھوں میں دے دی ہے۔ چلیں شاہ جی نے اگر چہ اکثر سیاست دانوں کی طرح ڈاڑھی رکھی ہوئی نہیں، لیکن یہ بات خوش آئند ہے کہ خورشید شاہ بھی ڈاڑھی کو عزت کی علامت سمجھتے ہیں، رائے تو مولانا فضل الرحمن بھی یہی رکھتے ہیں کہ پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے، لیکن افسوس وہ میاں صاحب کو اس پر تیار نہیں کر سکے کہ اپنی عزت بے عزتی کا معاملہ پارلیمنٹ سے ہی طے کرواتے۔ اعتزاز احسن بھی خورشید شاہ کی پارٹی کے راہ نما ہیں، عمران خان کے موقف کے حامی بھی لیکن وہ عمران خان کو عدالت جانے سے نہیں روک سکے۔ خورشید شاہ سمیت کئی نامی گرامی لوگ یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ عمران خان کی کاوشوں سے میاں حکومت کو استحکام ملا ہے، حکومت مضبوط ہوئی ہے۔ بلکہ عمران خان کے سیاسی فرسٹ کزن اور جنرل پرویز مشرف کے سیاسی پاٹنر مسٹر طاہر القادری کی رائے تو دو ہاتھ آگے یہ بھی ہے کہ ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان پاناما کے معاملے پر میچ فکس ہو گیا ہے اور حکومت کو عدالت سے کلین چٹ مل جائے گی۔

***

یہ ٹھیک ہے کہ میاں محمد نواز شریف اپنے قد کاٹھ یا اثر رسوخ کی وجہ سے ایک فل ہیوی ویٹ شخصیت ہیں، یہ بھی ٹھیک ہے کہ حال ہی میں میاں جی بلامقابلہ صدر مسلم لیگ ن منتخب ہوئے ہیں، اگر کوئی حصہ لیتا تو بھی ہار ہی اس کا مقدر ٹھہرتا، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ ان کی پارٹی میں کچھ نہ کچھ بے چینی ہے، یہ بے چینی مائنس نواز شریف کا تقاضا کرتی ہے ٗ یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ چھوٹے میاں کے بچے بڑے میاں کو ماننے میں حرج نہیں سمجھتے، ان کو عزت بھی دیتے ہیں، لیکن سیاست میں شریف فیملی کے لیے آئندہ کا استحقاق اپنے لیے موزوں سمجھتے ہیں نہ کہ مریم نواز کے لیے، بلکہ اگر مریم نواز کو سیاست سے دیس نکالا مل گیا تو سب بڑئی خوشی چھوٹے میاں کے بچوں کو ہوگی۔

بات کسی اور طرف مڑ گئی، ن لیگ کی بے چینی کی بات کی جائے تو ظفر علی شاہ ایک بڑا نام ہے ن لیگ میں، سنا ہے وہ بھی بے چین ہیں اور مائنس نواز چاہتے ہیں، لیکن یہ بھی سمجھنا چاہیے موصوف نام اور جسامت میں تو بڑے ہیں البتہ پارٹی میں ان کی حمایت کتنی ہے، یہ جاننے کے لیے وہ ن لیگ کی جنرل کونسل میں تحریک عدم اعتماد پیش کر کے دیکھ لیں۔

***

میاں نواز شریف اُدھرپھنسے، اِدھر بچے، اِدھر بچے، اُدھر پھنسے والی کیفیت کا شکار ہیں، آج کل دو دو جگہ ان کی گردن پھنسی ہوئی ہے، میاں جی چپکے چپکے گردن نکلوانے کے چکر میں ہیں، لیکن جتنا بچنے کی کوشش کرتے ہیں اتنا ہی دھنستے ہیں، پاناما کے پھندے نے اگر چہ بہ ظاہر بیٹھے بٹھائے میاں جی کی گردن پھانس لی، لیکن کہا جاتا ہے یہ سارا شاخسانہ اس لبرل ازم کا ہے جس نے میاں جی کے دماغ میں مستقل بنیاد پر جگہ بنالی ہے۔ ڈان لیک بھی قدرت کی طرف سے ایک ایسا ہی پھندا بن کر نمودار ہواہے، اس معاملے میں الٹا آنتیں گلے پڑی ہیں یا میاں جی کسی ان کیے گناہ میں پھنس گئے ہیں، کچھ بھی ہو، جواب کی اصل ذمے داری ان ہی کی ہے اور کہا جا رہا ہے انہیں بھگتنا پڑے گا۔ جو کمیٹی بنی ہے، وہ خود کو بچانے کے لیے بنائی گئی ہے، لیکن مصیبت یہ ہے کہ طاقت ور لوگ اس ٹیم سے راضی نہیں ہیں۔

***

ہر چار سال بعد نومبر کے پہلے منگل کو امریکی اپنا صدر ’’چنتے ‘‘ ہیں۔ اس بار بھی گزشتہ روز وہ اپنی پسند چن چکے ہیں، بس اس چنائی کی خبر ان سطور کی اشاعت تک سامنے آنے کی امید ہے، تب تک تجزیہ اور تبصرہ کرنے والوں کے لیے میدان کھلا ہے، جن کا کہنا ہے ان انتخابات نے امریکی چہرے سے میک اپ کافی حد تک اتار دیا ہے، یہ توقع بھی کی جارہی ہے بچا کھچا میک اپ بھی اگلے دو چار دن میں اتر سکتا ہے۔

***

اقبال ڈے پر سندھ اور کے پی میں تعلیمی ادارے بند ہیں، یہ بندش اس چھٹی کی وجہ سے ہے، جو وہاں کی حکومتوں نے دی ہے۔ پنجاب، وفاق اور بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں چھٹی نہیں، سندھ اور کے پی میں بھی صرف تعلیمی ادارے ہی بند ہیں، اقبال ڈے کو پبلک ڈے تسلیم نہیں کیا گیا۔ پاکستان میں کسی شخصیت کی عظمت اور بڑائی کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ ان کی پیدائش یا وفات پر چھٹی ہوتی ہے یا نہیں۔ سندھ کے تعلیمی ادارے تو ماشا ء اللہ پورے سال میں دو تہائی سے زیادہ بند ہی ہوتے ہیں، یہاں چھٹی کے بہانے بالکل بچکانہ طرز کے ہوتے ہیں، کراچی اور حیدر آباد میں جب بھائی لوگ زوروں پر تھے تو کسی کسی دن اسکول کھل بھی جایا کرتے تھے۔