امریکی صدارتی انتخاب میں صرف 4 دن باقی

واشنگٹن: امریکی صدارتی انتخابات میںصرف4دن باقی رہ گئے ہیں، ہلیری کلنٹن اورڈونلڈٹرمپ کے درمیان عوامی حمایت کافرق بہت کم رہ گیا، اس وقت مقبولیت میں ہلیری کلنٹن ٹرمپ سے3پوائنٹس آگے ہیں، امریکی محکمہ خارجہ نے ہلیری کی ای میل کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔

ہلیری کلنٹن کے ساتھ صدارتی امیدواروں کی دوڑمیں شریک برنی سینڈرز نے نارتھ کیرولائنامیں ہلیری کی انتخابی ریلی میں شرکت کی۔ ان کاکہنا ہے کہ ہم کئی سال سے تعصب کوختم کرنے کیلیے جدوجہد کررہے ہیں لیکن ٹرمپ اپنی مہم ہی تعصب کی بنیاد پر چلارہے ہیں۔ ہلیری کی ریلی میں شریک سیاہ فام نرس بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی تضحیک کا نشانہ بن چکی ہیں، ان کاکہناہے کہ ٹرمپ نے محض انھیںسیاہ فام ہونے کے باعث اپنے ادارے میں پریکٹس کی اجازت نہیں دی تھی۔

نیویارک ٹائمزاورسی بی ایس نیوزپول کے نتائج کے مطابق ہلیری کواس وقت ٹرمپ پر3 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے، 45 فیصد افرادہلیری جبکہ 42 فیصد ٹرمپ کے حامی ہیں۔ آئی این پی کے مطابق8 نومبرکے امریکی انتخابات کے لیے10لاکھ سے زائدامریکی مسلمان ووٹروں کے نام درج ہیں، مسلم ووٹوں کا ایسی ریاستوں میں اثر پڑسکتا ہے جہاں وہ بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق جب رپبلکن امیدوارڈونالڈ ٹرمپ نے تارکین وطن مسلمانوں کی امریکا میں آمدپر مکمل بندش کامطالبہ کیاتوملک بھر کی مسلمان برادری میںخوف کی ایک لہرپیدا ہوئی، مسلمان امریکی برادری زیادہ ترعرب اورجنوبی ایشیا کے تارکین وطن پر مشتمل ہے۔ سماجی تنظیم کیئرکے انتظامی سربراہ نہاداودکے بقولمسلم برادری کو جھنجھوڑنے میں کردار پر میں ٹرمپ کا مشکورہوں۔

پیورسرچ سینٹر کے مطابق امریکا میں مقیم مسلمانوں کی کل تعداد33 لاکھ ہے جو امریکی آبادی کابمشکل ایک فی صدہے تقریباً15لاکھ مسلمان ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ آن لائن کے مطابق ایف بی آئی اورانٹیلی جنس اداروں نے ہلیری کلنٹن کے خلاف جعلی دستاویزات کی تحقیقات شروع کردیں، ہلیری کلنٹن کے خلاف ایسی جعلی دستاویزات زیرگردش تھیںجن میں مختلف افراد سے منسوب خطوط میں ہلیری کے بارے میںغلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

امریکی حکام کاکہناہے کہ جعلی دستاویزات ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کومتاثر کرنے کی کوشش ہے جس میں روس ملوث ہوسکتا ہے۔آئی این پی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے ہلیری کے ڈیلیٹ کیے گئے ای میلزکے1250پیجزجاری کیے ہیں جن میں زیادہ تر ای میلزہلیری اوران کی مشیر ہماعابدین کے درمیان کی گئی ہیں۔

آئی این پی کے مطابق رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈٹرمپ نے کہاہے کہ اگر ہلیری امریکا کی صدر بنیںتوملک سنگین آئینی بحران کاشکار ہوسکتا ہے۔ غیر ملکی میڈیاکے مطابق امریکی ریاست ایری زونامیںڈونلڈ ٹرمپ کوہلیری کلنٹن پر 5 پوائنٹس کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔ ڈونلڈٹرمپ کاکہناہے کہ ہلیری کلنٹن نے ایف بی آئی اور عوام سے متعددبارجھوٹ بولاہے اگروہ صدر بنیں توامریکا آئینی بحران سے دوچار ہوسکتاہے۔ انھوں نے ہلیری کلنٹن پرالزام عائد کیا ہے کہ وہ بطوروزیرخارجہ بدعنوانیوں میں ملوث رہی ہیں۔

آن لائن کے مطابق الیکشن سے چندروز قبل ڈونلڈ ٹرمپ کوایک اوردھچکالگاہے، امریکی عدالت نے پنسلوانیا میںٹرمپ کوپولنگ سرگرمیوںکی نگرانی سے روک دیاہے۔ امریکی جج نے پنسلوانیاکے اس قانون کو برقرار رکھاہے جس کے تحت باہرسے اکر پنسلوانیا میں انتخابی سرگرمیوںپرپابندی ہے۔ دریں اثنا امریکی صدارتی انتخابات میں 3 امریکی ریاستوں میں القاعدہ کے حملوں کا خطرہ ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے انسداد دہشتگردی ٹاسک فورس کو الرٹ کر دیا ہے۔ امکان ظاہرکیا جا رہا ہے کہ یہ حملے نیویارک، ٹیکساس یا ورجنیا میں ہو سکتے ہیں۔