مسٹر اور میڈم

ندیم تابانی
ملتان سے خبر ہے کہ ایک بنک کے مالی کو پینتالیس کروڑرپے کے فراڈ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ مالی پر الزام ہے کہ اس نے افسران بالا کے ساتھ مل کر فراڈ کیا، نو کروڑ روپے اس نے اپنے پاس رکھے۔ باقی کہاں گئے اس بابت خبر میں کچھ نہیں بتایا گیا، ایسا لگتا ہے، مالی نے اپنی حدود اور حقوق سے تجاوز کیا ہے۔ افسران بالا نے جتنا اور جس طرح کرنے کا کہا ہے، مالی نے اس میں کچھ اپنی طرف سے بھی شامل کر دیا۔ شاید اپنا حصہ زیادہ رکھ لیا، ممکن ہے افسران بالا کو بلیک میل کر رہا ہو، ظاہر ہے افسران ایسا برداشت نہیں کیا کرتے۔

***

صاحب زادہ بلاول زرداری نے جناب نثار کھوڑو کو پی پی سندھ کا صدر بنا دیا۔ بے چارے امین فہیم تو اپنے حق کے لیے کڑھتے کڑھتے اللہ میاں کو پیارے ہو گئے۔ چلیں اچھا ہوا مسٹر کھوڑو کو اچھے موقع پر سندھ کی صدارت مل گئی، ٹاسک یہ ہے کہ اگلے عام انتخابات میں نہ صرف اندرون سندھ بلکہ کراچی میں بھی زبردست قسم کی کامیابی حاصل کرنی ہے۔ کھوڑو صاحب نے ذمے داری چیلنج سمجھ کر قبول کی ہے اور بلاول بھٹو زرداری کا بہت بہت شکریہ ادا کیا ہے۔

***

عمران خان کی سیاست اور قیادت پاکستان میں کسی کو سمجھ میں آئے یا نہ، دنیا سمجھ بھی رہی ہے اور مان بھی رہی ہے، اس کی تازہ ترین مثال امریکا کے صدارتی امید وار مسٹر ٹرمپ ہیں، جنہوں واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ نتائج کو اسی صورت مانیں گے جب وہ فتح یاب ہوں گے۔ ان کی جیت کا اعلان نہیں ہوتا تو اس کا مطلب ہو گا، ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے۔ مسٹر ٹرمپ یہ واضح نہیں کر سکے کہ میڈم ہیلری کے ساتھ مباحثے میں انہیں کیوں شکست ہوئی ہے، کیا اس میں کوئی دھاندلی ہوئی ہے۔ واضح ہو کہ مسٹر ٹرمپ نے یہ اعلان کر کے میڈم ہیلری کو بھی اشارہ دیا ہے کہ ہارنے کی صورت میں تم بھی دھاندلی کا شور مچا سکتی ہو۔

***

اطلاعات ہیں کہ گورنر سندھ کے لیے حالات پہلے کی طرح سازگار نہیں رہے، ایک تو اب ان کے لیے کوئی پارٹی اسٹینڈ لینے کو شاید تیار نہ ہو، دوسرا اسٹیبلیشمنٹ کو شک ہے کہ موصوف کا الطاف حسین سے رابطہ ہے اور وہ الطاف حسین کے پیرول پر کام کر رہے ہیں، وفاقی حکومت کو بھی شبہہ ہے کہ جب مسٹر الطاف حسین پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں تو گورنر صاحب کو ایسی کیا مجبورری آگئی ہے کہ وہ الطاف حسین کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں، کچھ ذرائع کا دعوی ہے کہ میاں جی اسلام آباد کے معرکے سے نمٹ کر دو اہم کام کریں گے ،ایک کل وقتی باضابطہ وزیر خارجہ کا تقرر، دوسرا گورنر سندھ کی تبدیلی آخری سوا ڈیڑھ سال سندھ اور بیرون ملک معاملات کے لیے وزیر اعظم کھل کر کام کرنے کا موڈ رکھتے ہیں۔

***

میاں جی پر جہاں اور بہت سارے دباؤ ہیں، وہاں ایک دباؤ یہ بھی ہے کہ فوری طور پر نئے آرمی چیف کا اعلان کر دیا جائے۔ پتا نہیں اس دباؤکی کیا وجہ ہے، دباؤ ڈالنے والوں کا کون سا بنیادی مسئلہ پھنسا ہوا اور حق رکا ہوا ہے۔ اور تو اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ بھی یہی مطالبہ کر رہے ہیں حالاں کہ ابھی تو میاں جی کی میز پر متعلقہ حلقوں کی طرف سے ممکنہ اور مجوزہ ناموں کی فہرست بھی نہیں آئی۔ یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم اس بابت یقیناًسوچ نہیں رہے ہوں گے بلکہ فیصلہ کر چکے ہیں، لیکن وہ دباؤ پر نہیں بلکہ اطمینان سے اعلان کرنے کے خوہش مند ہیں۔

***

عمران خان اور ان کے ساتھی دو نومبر سے دھرنے کے لیے تیاریوں میں مصروف ہیں جبکہ مخالفین عدالتوں کے ذریعے دھرنا پروگرام رکوانے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن لگتا یہی ہے کہ تمام عدالتیں اس بابت کوئی فیصلہ ایسا نہیں دیں گی جو دھرنے کے خلاف ہو۔ پتا نہیں میاں کی کیسی بادشاہت ہے کہ عدالتیں ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف کو جلسے جلوس، ریلی اور دھرنے کو نہیں روک رہیں۔

***

ایران کے موجودہ صدر اپنے ملک میں سیاسی سوچ اور تبدیلی کے خواہاں ہیں، لگتا ہے وہ وہاں کے جنونی مذہبی معاملات میں روحانی پیشوا کے عمل دخل کو کم کرنے کے خواہش مند ہیں، کہا جا رہا ہے یہ صرف صدر کی خواہش نہیں، ایرانی عوام کی اکثریت ایسا ہی چاہتی ہے۔