برکس سربراہ کانفرنس میں بھارت کی تنہائی

پروفیسر شمیم اختر
گزشتہ سے پیوستہ:
یہ عالمی بے حسی نہیں ہے بلکہ پاکستان کے خلاف خاموش سازش ہے۔ اس میں بھلا نوازشریف یا سرتاج عزیز یا ملیحہ لودھی کا کیا قصور ہے؟ بعض نادان مبصرین کہتے ہیں کہ حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی ہی نہیں ہے۔ اس کے ثبوت میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ پاکستان کا کوئی وزیرخارجہ ہی نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر پاکستان کا کوئی وزیرخارجہ ہوتا تو سلامتی کونسل بھارت کی مذمت کرتی اور اسے مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری پر مبنی قرارداد پر عملدرآمد کی ہدایت کرتی؟

جواہر لال نہرو کے سارے دور حکومت میں کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا نہ ہی ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں کوئی وزیرخارجہ تھا۔ دونوں انتہائی لائق، دیانت دار اور وفادار ماہرین امور خارجہ کے مشوروں اور اعانت سے ریاست کے مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی پر عمل پیرا تھے اور خود بھی اس کے ماہر تھے۔
میں نوازشریف کا حامی نہیں ہوں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ (1) انہوں نے 5 فروری کو قومی سطح پر یوم کشمیر منانے کی روایت ڈالی جو آج تک باقی ہے (2) انہوں نے حکومت پاکستان کو مئی 1998ء میں بھارت کے جواب میں تجرباتی جوہری دھماکے سے باز رکھنے کے لیے امریکی صدر کلنٹن کے پانچ بار ٹیلی فون کرنے کے باوجود دھماکا کیا کیونکہ اس وقت منتخب حکومت اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی تھی جو آج نہیں محسوس ہوتی۔

اس کا ثبوت وزیراعظم ہاؤس میں سلامتی سے متعلق خفیہ اجلاس میں بعض اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے عسکری قیادت پر عاید کردہ الزامات کی ڈان میں متنازعہ رپورٹ ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عسکری قیادت نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے کیونکہ کور کمانڈروں کے حالیہ اجلاس میں اس پر بڑی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کے دوران اس کا ذکر اس بات کا عندیہ ہے کہ عسکری قیادت اس واقعہ کو صرف نظر کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس ’’خبر‘‘ کی بنا پر پاکستان مخالف طاقتوں یعنی امریکا، بھارت اور اشرف غنی جنتا نے بقول چودھری نثار پاکستان کو چارج شیٹ کردیا ہے۔ اسی وجہ سے بھارت نے برکس سربراہ کانفرنس میں اڑی کی واردات کی مذمت کرنے اور جیش محمد اور لشکرطیبہ کو عالمی دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے کا مسودہ پیش کیا تھا لیکن اسے عوامی جمہوریہ چین نے غیرمتعلقہ ثابت کرکے ناکام بنادیا (قومی اخبارات،17 اکتوبر 2016ء) نہ صرف چین بلکہ دیگر اراکین نے بھی اسے مسترد کردیا کیونکہ برازیل، روس، جنوبی افریقہ اور عوامی جمہوریہ چین میں سے کوئی بھی ان تنظیموں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں تصور کرتا۔ اس سے قبل بھی بھارت اور امریکا کو سلامتی کونسل میں انہیں دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرانے میں ناکامی ہوئی تھی۔

دراصل برکس کے اغراض ومقاصد وہی ہیں جو ناوابستہ اقوام کے مقاصد ہوا کرتے تھے۔ یعنی عالمی تجارتی اقتصادی نظام میں جنوب (پس ماندہ، ترقی پذیر ممالک) کے مفاد کا تحفظ اور استحصالی اقتصادی نظام کی بجائے عادلانہ نظام کا قیام۔ لیکن اب چونکہ بھارت امریکا کا عسکری حلیف اور کاروباری شراکت دار بن گیا ہے، اس لیے وہ برکس میں امریکا کے ففتھ کالم کا کام کرے گا اور جس طرح اس نے NAM کو مفلوج کردیا، اسی طرح برکس (BRICS) کو عضو معطل کردے گا۔ نیز اب ترکی دنیا کی پندرہویں اقتصادی قوت بن کر ابھر رہا ہے لہٰذا اس (BRICS) میں اس کی شمولیت لازمی ہوگئی ہے کیونکہ ترکی نہ صرف اقتصادی اور تجارتی حیثیت سے مستحکم ہے بلکہ NATO میں ہوتے ہوئے بھی وہ آزاد خارجہ پالیسی کا علمبردار ہے لہٰذا وہ (ترکی) BRICS کی رکنیت کا اہل ہے اور یوں بھی اس تنظیم میں عالم اسلام کی کوئی نمایندگی نہیں ہے، لہٰذا اس میں ترکی کی شمولیت وقت کی فوری ضرورت ہے۔

تنازعہ کشمیر پر بڑی طاقتوں کی توجہ مرکوز کرانے کے لیے حکومت پاکستان کو ہمت کرکے امریکا کو بتا دینا ہوگا کہ اگر وہ کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت کو بین الاقوامی تحویل میں کرائی گئی رائے شماری پر عملدرآمد پر مجبور نہیں کرسکتا تو پاکستان افغانستان میں مصالحت کے عمل میں قطعاً شریک نہیں ہوگا نہ ہی افغانستان پر قابض امریکی فوج کو اپنی سرزمین سے رسد کی ترسیل کی اجازت دے گا۔
*۔۔۔*۔۔۔*