بغلی یار

ندیم تابانی

عمران خان لاہور، پنجاب کے کسی دوسرے شہر یا اسلام آباد میں جلسہ کریں، ریلی نکالنے کا اعلان کریں تو وفاقی حکومت یا پنجاب حکومت کا سڑکیں بند کرنے کنٹینر لگانے کی منطق سمجھ میں آتی ہے کہ اپنے سیاسی مخالف کی آواز بند کرنے کے لیے یہ پرانے سیاسی حربے ہیں، لیکن 16اکتوبر کو کراچی کا ایک بہت بڑا حصہ کنٹینر لگا کر بند کرنے پی پی منطق سمجھ میں نہیں آئی۔ جلسہ اپنا، ریلی اپنی حکومت اپنی لیکن روڈ بند ہیں۔ اس منطق کی وضاحت مراد علی شاہ کریں گے خورشید شاہ کریں گے بابائے زمانہ قائم علی شاہ کریں گے۔ صاحب زادہ بلاول زرداری کریں گے، اعتزاز احسن کریں گے، مولا بخش کریں گے،
آصف علی زرداری کریں گے یا ان کی مشہور زمانہ بہن کرے گی۔

***

ڈاکٹر عافیہ پی پی کا کیس کبھی نہیں رہا، نہ اس کی اس میں دل چسپی کہ عافیہ کون ہے، کہاں ہے کیوں ہے، امریکا میں قید ہے، گئی پاکستان سے ہے، کس کی مرضی اور کس کی اجازت سے یا بلا اجازت، کون لے گیا، کیسے لے گیا کیوں لے گیا، امریکا نے کیوں قید کر رکھا ہے۔ لیکن بُرا ہو اس سیاست کا، اس نے پی پی کے کچھ جیالوں کے کان میں یہ پھونک دیا کہ سولہ اکتوبر کی ڈراما ریلی کے موقع پر جو پینا فلیکس اور بینر تیار کیے جائیں، ان میں سے کچھ پر بے نظیر کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ کی تصویر بھی لگائی جائے۔ سیاست چمکاؤ جیسے بھی چمکتی ہے۔

***

کیا وہی ہوا ؟جس کا فاروق عبد الستار کو ڈر تھا، یہ بات تو ہر با خبر کو پتا ہے کہ وہ بے چارے کب سے الطاف حسین کی سیاست سے تنگ تھے، لیکن انہیں ڈر تھا کہ اسٹیبلیشمنٹ اور سیاسی حکومتیں کیا پتا کب الطاف حسین کو استعمال کرنے لگیں، منی لانڈرنگ کیس سے جان چھوٹتے ہی مسٹر الطاف کے مہرے منظر عام پر آگئے، اگر چہ ابھی ان کی حیثیت کچھ نہیں کہ لیکن پریس کلب کراچی میں ہونے والی پریس کانفرنس پر قانون حرکت میں نہیں آیا، اس پریس کانفرنس کے مطابق متحدہ لندن، متحدہ پاکستان کوئی نہیں۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈروں نے متحدہ کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ خیر بے چارے ڈاکٹر فاروق عبد الستار کو اگلے روز ایک جلسہ بطور اجلاس کرنا پڑا، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ لوگ اپنی مرضی سے ہائی جیک ہوئے ہیں، ان کے ساتھ ہیں جلسہ بطور اجلاس اگر بہت بڑا نہیں تھا تو ایسا چھوٹا بھی نہیں، لیکن یہ تشویش سبھی کو ہے کہ اگر ایم آئی سکس کو الطاف حسین کی ضرورت ہے، اگر کبھی پاکستان کے کسی حساس ادارے یا کسی لولی لنگڑی سیاسی حکومت کو مسٹر الطاف کی ضرورت پڑ گئی تو ڈاکٹر فاروق عبد الستارکا کیا بنے گا۔

***

وزیر اطلاعات برائے عمران خان مسٹر پرویز رشید کا کہنا ہے تیس اکتوبر کو عمران خان اسلام آباد میں نہیں ہوں، کہاں ہوں گے یہ بات پرویز رشید بعد میں بتائیں گے۔ جہاں کا وہ بتائیں گے، وہاں خان صاحب کیوں ہوں گے، یہ بات خود شاید عوام خود جان لیں گے۔ کچھ ذرائع کا دعوی ہے اسلام آباد سیل کرنے سے پہلے خان صاحب اور ان کے ساتھیوں کو حکومت سیل کرنا چاہتی ہے۔ گزشتہ روز بند کراچی دیکھنے والوں کو شایدمرکزی حکومت کا یہ فیصلہ زیادہ بُرا نہ لگے۔ تاہم حکومت کو دوست حلقے مشورہ یہی دے رہے ہیں کہ خان صاحب کو جلسہ کرنے دیا جائے، ایسا جلسہ جو محدود وقت کے لیے ہو، کس کھلے میدان میں اگر وہ دھرنا بھی دینا چاہیں ،تو انہیں روکا نہ جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر خان صاحب جلسے کے بعدوزیر اعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ پر قبضے کے خواہش مند ہوں تو کیا پھولوں کے ہار پہناکر انہیں داخلہ پیش کر دیا جائے ؟ ایسے اور اس داخلے کی بابت وزیر داخلہ کو فیصلہ کرنا ہو گا، موصوف خان صاحب کے بغلی یار بھی ہیں۔ ایاز صادق تو خان صاحب کی دوستی سے محروم ہو گئے ہیں، خان صاحب کے دل سے اتر گئے ہیں لیکن چودھری صاحب کی قدر آج بھی خان صاحب کرتے ہیں۔