اقتصادی راہداری کی نگرانی کے لئے پاک چین مشترکہ سیارچے کی تیاری

کراچی: سندھ کے وزیرِ مواصلات سید نثار حسین شاہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور چین اقتصادی راہداری کی مسلسل نگرانی کےلئے ایک مشترکہ سیارچے کی تیاری پر کام کررہے ہیں۔

جامعہ کراچی کے ’’انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ پلینٹری آسٹروفزکس‘‘ (ISPA) میں خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کی چوتھی قومی کانفرنس میں افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران نثار حسین شاہ نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی سے ہماری زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں انقلاب انگیز تبدیلیاں آئی ہیں۔ آج خلائی ٹیکنالوجی کا اطلاق صرف دفاعی شعبے تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ اسے مواصلاتی نظام سے لے کر بندرگاہوں کی مینجمنٹ (انتظام کاری) اور طب و صحت جیسے میدانوں تک میں استعمال کیا جارہا ہے۔

پاکستان میں خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر بات کرتے ہوئے وزیرِ مواصلات نے انکشاف کیا کہ پاکستان اور چین مشترکہ طور پر ایک ایسے مصنوعی سیارچے (سٹیلائٹ) پر کام کررہے ہیں جو بطورِ خاص صرف سی پیک (پاک چین اقتصادی راہداری) پر نظر رکھے گا۔ اس بیان کی روشنی میں اتنا تو اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ سیارچہ ’’ارض ساکن‘‘ (جیو اسٹیشنری) مدار میں، پاکستان کے عین اوپر خلاء میں موجود رہے گا تاہم وزیرِ مواصلات سندھ نے یہ نہیں بتایا کہ اس سیارچے کی تکمیل میں کتنا وقت لگے گا، اسے کب تک خلاء میں بھیجا جائے گا اور اس کی تیاری میں چین کے ساتھ کون کون سے پاکستانی ادارے تعاون کر رہے ہیں۔

اس موقعے پر جامعہ کراچی میں شعبہ جغرافیہ (جیوگرافی) کے پروفیسر ڈاکٹر جمیل حسن کاظمی نے بھی خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خلاء سے کئے گئے زمینی مشاہدات (ریموٹ سینسنگ) کی بنیاد پر بتایا کہ کراچی ایک ’’حرارتی جزیرے‘‘ (heat island) میں تبدیل ہوچکا ہے جبکہ اس وقت ملیر اور ڈیفنس/ کلفٹن کے درمیان صرف دولت ہی کا فرق نہیں بلکہ درجہ حرارت کا فرق بھی 5 ڈگری تک پہنچ چکا ہے۔

فلکیات و ریاضی کے ماہر اور ’’اِسپا‘‘ کے سابق نگراں، ڈاکٹر شاہد قریشی نے واضح کیا کہ اگرچہ فلکیاتی حساب کتاب کی روشنی میں تیار کئے گئے قمری کیلنڈر (چاند کے کیلنڈر) صدیوں سے ہندوؤں اور یہودیوں میں استعمال ہوتے آرہے ہیں لیکن مسلمان اپنے عقیدے کی رُو سے (یعنی رویتِ ہلال یا چاند کو آنکھ سے دیکھنے کی شرط کے باعث) ان میں سے کسی کیلنڈر کو مذہبی مقاصد میں استعمال نہیں کرسکتے۔ علاوہ ازیں، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلمانوں کےلئے ایک ’’مشترکہ عالمی کیلنڈر‘‘ بھی سائنسی، سماجی اور مذہبی نقطہ ہائے نگاہ سے عملاً ممکن نہیں۔