پُرانے حربے

ندیم تابانی
ماشاء اللہ بلاول زرداری کو بھی آہستہ آہستہ پاکستان کی سیاست سمجھ میں آرہی ہے اور موصوف کو اس میں خوب مزا آنے لگا ہے۔ سیاست میں سب سے اہم بات موقع کی مناسبت سے پینترے بدلنا ہے، نو عمر بلاول نے یہ پینترا بازی سیکھ لی ہے، شایداس کی وجہ یہ ہو کہ بلاول کو پارٹی کے سینئر رہ نما جو بتاتے اور سکھاتے ہیں، وہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ہٹ دھرمی اور میں نہ مانوں کی رٹ انہوں نے چھوڑ دی ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گیلری میں بیٹھے زرداری زادے نے خورشید شاہ کو شاباش دینے کے لیے تالی بجائی تو ان کے ایک سینئر جیالے نے انہیں بتایا کہ یہاں تالی بجانا پارلیمنٹ کے آداب کے خلاف ہے، چناں چہ بلاول نے اثبات میں سر ہلایا اور دوبارہ تالی بجانے کی غلطی نہیں کی، گزشتہ روز بلاول زرداری اپنی پارٹی کے سینئر رہ نماؤں کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کے گھر پہنچ گئے، اس جانے کو مبصرین کی جانب سے اچھے موقع پر ایک درست سیاسی شاٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

***

عمران خان ایک بڑی اور مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، لیکن اب تک سیاسی داؤ پیچ نہیں سیکھ سکے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جو بات ان کی دل کو بھاتی اور دماغ میں آتی ہے وہی کرتے ہیں، مشورے کو ڈکٹیشن سمجھتے ہیں۔ ایک سو فی صد ٹھیک بات بھی غلط موقع پر کرتے ہیں، موقع ٹھیک ہوتا ہے تو طریقہ غلط، لہٰذا نتیجہ ہمیشہ ان کی خواہش کے خلاف نکلتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شیخ رشید کے مشورے انہیں اس لیے بھاتے ہیں کہ شیخ رشید ان کے دماغ کی کیفیت سے واقف ہو گئے ہیں، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بائیکاٹ کا مشورہ شیخ جی نے دیا، فوراً مان گئے، اپنی جماعت کے لوگوں کی رائے نہیں مانی۔ اب اسلام آباد کے گھیراؤ، اس کو بند کرنے اور حکومت سے بڑھ کر ریاستی نظام کو معطل کرنے جا رہے ہیں، یقیناًیہ بھی کسی سر پھرے کا مشورہ ہو گا، خان صاحب کی اپنی رائے بھی ہو سکتی ہے، ان کے دماغ میں ایسی ہی چیزیں آتی ہیں۔

***

تیس اکتوبر ایک اور سیاسی دنگل کی تاریخ طے پائی ہے، خان صاحب نے اعلان کیا ہے کہ نواز شریف یا تو استعفاء دیں گے یا خود کو احتساب کے لیے پیش کر دیں گے، ورنہ وہ انہیں حکومت نہیں کرنے دیں گے۔ اس پر سوچنا کہ خان صاحب اسلام آباد بند کر سکتے ہیں یا نہیں، نظام معطل کر سکتے ہیں یا نہیں، ایک فضول سی بحث ہے، عمران خان کسی مذہبی جماعت کے سربراہ نہیں ایک آزاد سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، ان کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات وہ بھی جانتے ہیں، اس لیے اپنی حیثیت سے فائدہ اٹھانے جا رہے ہیں، ان کے پاس وسائل بھی ہیں اور لوگ بھی۔ سب کچھ بند کر سکتے ہیں، سوال یہ نہیں، سوال صرف یہ ہے کہ اس سے ریاست کو کیا فائدہ ہوگا؟

***

الطاف حسین سخت غصے میں ہیں، ان کے اس وقت کے غصے کو نیم پاگل پن کا نام دیا جا رہا ہے، ایسا پاگل کافی خطر ناک ہوتا ہے۔ وہ دوسروں سے زیادہ خود کو نقصان پہنچاتا ہے اور یہی حرکت الطاف حسین کرنے جا رہے ہیں۔ در اصل انہیں ڈاکٹر فاروق عبد الستار پر پہلے سے شک تھا کہ یہ شخص خطر ناک ہے، کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے، تبھی انہیں مضبوط نہیں ہونے دے رہے تھے، حالاں کہ مسٹر الطاف جانتے تھے کہ پارٹی میں ان کے بعدسب سے مضبوط شخصیت اور حیثیت ڈاکٹر فاروق عبد الستار ہی کی ہے، قانونی طور پر بھی اور عملاً بھی۔ 22 اگست کو الطاف حسین نے ایک بھاری بھر کم غلطی کی، بالکل اپنے بھاری جسم کی طرح، جس کا بوجھ اب متحدہ پر بھاری ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر فارو ق ایسے ہی موقع کی تلاش اور انتظار میں تھے، چناں چہ وہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ بن گئے اور الطاف حسین کو متنازع بنا دیا۔

***

الطاف حسین نے پہلے ارکان اسمبلی اور سینیٹ کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی، جب ناکامی ہوئی تو پرانے حربے آزما رہے ہیں، براہ راست سیکٹر اور یونٹ انچارجوں کو ہدایت دینے لگے ہیں اور ایسے لوگوں کو بھی جوکسی عہدے پر نہ ہوتے بھی خطر ناک اور دہشت کا نشان ہیں، چناں چہ اب متحدہ لندن کے کارندے ڈاکٹر فاروق کی متحدہ پاکستان کے خلاف میدان میں آنے لگے ہیں، لیکن ایسے نہیں کہ جلسہ جلوس کریں، مظاہرے کریں، بلکہ گم نام اور پردے میں رہ کام کررہے ہیں، مطلب خدا نخواستہ ڈاکٹر فاروق عبد الستار کو ڈاکٹر عمران فاروق اور عظیم طارق بھی بنایا جاسکتا ہے۔