تاریخی کالم۔۔۔آپ کی رائے

محمد اسماعیل ریحان
تاریخی کالم سے میری مراد تاریخی موضوعات پر لکھے جانے والے کالم ہیں۔ روزنامہ اسلام کے پرانے قارئین جانتے ہیں کہ راقم نے 2001ء میں جب اس روزنامے کے اجراء کے ساتھ، اس میں کالم نگاری کاآغاز کیا، تودیگر کالم نگاروں کی طرح میرا موضوعِ سخن بھی حالاتِ حاضرہ ہی تھے۔

یہ سلسلہ2010ء تک جاری رہا۔ اپریل 2011ء میں راقم نے اپنی کالم نگاری کا انداز تبدیل کیا اور تاریخ کے مختلف گوشوں کو بنیاد بناکرکالم لکھناشروع کیے۔ اگرچہ بیچ میں کبھی کبھار حالاتِ حاضرہ پر بھی لکھ دیتا ہوں بلکہ ہفت روزہ ضربِ مومن میں تو اکثر وبیشتر تازہ حالات ہی کو موضوعِ سخن بناتاہوں، تاہم روزنامہ اسلام کے کالموں میں تاریخی رنگ غالب ہوگیا۔ یہ طرز اختیار کرنے کی کچھ وجوہ تھیں۔ ابتدائی وجہ یہ بنی کہ روزنامہ اسلام میں ایک کالم چھپا،جس کے مندرجات کسی تاریخ پر نہیں بلکہ تاریخی ناول پر مبنی تھے۔ کالم نگار یقیناًاسے حرف بحرف سچ سمجھ رہے تھے، اس لیے ناول کے اس قصے کوجو شروع سے آخر تک من گھڑت تھا، انہوں نے اپنے استدلال کی بنیاد بنالیا۔ کالم نگار اچھی علمی استعداد کے حامل اور پختہ دین دارہیں مگر ان کی تحریر تاریخ سے دلچسپی کے باوجود، اصل تاریخ کے مطالعے میں کمی کی عکاسی کررہی تھی۔ اس سے راقم کو بڑی شدت سے خیال ہواکہ اس وقت اپنے نوجوان ساتھیوں کو تاریخی حقائق سے آگاہ کرنے کی شدید ضرور ت ہے۔ تاریخ راقم کی دلچسپی اور تحقیق کاخاص میدان ہے۔ اگرچہ اس میدان کے اصل شہ سواروں یعنی پرانے علماء اور اکابر کے سامنے راقم طفلِ مکتب ہے اور بلاشبہ تاریخ کے وسیع سمندرمیں اب تک میں خود کوایک طالب علم یقین کرتا ہوں، تاہم اس کے ساتھ میں اس ذمہ داری سے بھی زیادہ مدت تک بے اعتنائی نہ برت سکاکہ ماضی کے حقائق کو قدیم مآخذ اور اصل عبارات سے کشید کرکے دلچسپ اور مفید انداز میں قارئین کے سامنے لاناچاہیے اور وہ بھی اس طرح کہ وہ اس سے موجودہ حالات اور پیش آمدہ قضایا میں درست فیصلے کرنے کی استعدادحاصل کرسکیں۔

تاریخی موضوعات پر کالم لکھنے کی ایک دوسری وجہ ادارتی صفحے کے تنوع کو بہتر کرناتھا۔ ادارتی صفحے پر حالاتِ حاضرہ کے تقریباً تمام اہم موضوعات پر بحث ہوجاتی ہے۔ اداریے، شذرے اور کالموں میں اکثر ایک ہی قضیے کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل بات ہوجاتی ہے۔ اہم واقعے یاحادثے پر متعددکالم آجاتے ہیں۔ تاہم تاریخی پہلو رکھنے والے کالم بہت کم ہوتے ہیں، یعنی ایسے کالم جو ماضی کے آئینے میں حال کے خدوخال واضح کرسکیں۔ تاریخی کالم لکھنے سے راقم کی ایک غرض یہ بھی تھی کہ ادارتی صفحے کا تنوع بہتر ہواور ہرذوق کے قارئین اس میں زیادہ دلچسپی لیں۔

یہاں یہ عرض کردوں کہ حالاتِ حاضرہ پرلکھنا میرے لیے تاریخی کالموں کی نسبت آسان ہے۔ وجہ یہ ہے کہ حالاتِ حاضرہ پرلکھنے کے لیے کسی کتاب کا مطالعہ نہیں کرنا پڑتا۔ آدھ گھنٹے میں دو چار تازہ اخبارات دیکھ کر ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ایک پوراکالم لکھ دینا آسان سی بات ہے۔ ضربِ مومن کے لیے کالم لکھنے میں اب بھی راقم کا تقریباً اتنا ہی وقت صرف ہوتا ہے، مگر جب تاریخ کے کسی پہلوپر لکھناہو، تو کتابوں کی طرف رجوع کرناہی پڑتاہے۔ باوجوداس کے کہ راقم تین عشروں سے تاریخی کتب کا مطالعہ کرتاچلاآیاہے، سب کچھ حافظے میں من وعن محفوظ نہیں ہوتا۔ احتیاط بھی اسی میں ہے کہ اصل کتب کودیکھے بغیر نہ لکھاجائے۔ اس لیے راقم کے جو کالم روزنامہ اسلام میں لگ رہے ہیں، ان میں سے اکثر کالموں کے لکھنے میں چاہے کم وقت لگاہو، مگراس سے پہلے مطالعہ کرنے میں خاصا وقت لگ جاتاہے۔ راقم شروع میں عبارت کے ساتھ محولہ کتب کی جلد نمبر اور صفحہ نمبر سمیت پورے پورے حوالے بھی دیتا تھا مگر پھر بعض صحافی دوستوں نے کہاکہ اس سے ’’کالم‘‘ کالم نہیں رہتاجس میں ہلکاپھلکاہونا شرط ہے، بلکہ کسی علمی جریدے کا بھاری بھرکم تحقیقی مضمون بن جاتا ہے۔ ان دوستوں کے مشورے پر عبارات کے بیچ میں حوالہ جات کاسلسلہ ختم کردیا گیا، البتہ عموماً اختتام پر بعض مآخذکی طرف اشارہ کردیاجاتاہے۔
اپریل 2011ء سے اب تک روزنامہ اسلام میں جو تاریخی کالم شایع ہوئے ہیں، انہیں جمع کیا جائے تو ایک پوری کتاب بن جائے گی۔ ان میں بہت سے کالم ایسے ہیں جن میں تاریخ کو بحیثیتِ تاریخ بیان نہیں کیا گیا، بلکہ ماضی اور حالاتِ حاضرہ میں تطبیق کے بعد اسباق وعبر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، مگر بہت سے کالم ایسے بھی ہیں جن میں کسی تاریخی واقعے کی تحقیق ہی مقصودتھی، جس کے متعلق قارئین شکوک وشبہات کا شکارتھے۔ بعض کالم ایسے موضوعات پرلکھے گئے جن پر کسی سیکولر یا نادان صحافی نے غلط اور خلافِ تحقیق طبع آزمائی کی تھی۔ راقم انہیں آئینہ دکھانے پر مجبور ہوگیا۔ بہت سے موضوعات ایسے تھے کہ جن کے متعلق قارئین ہی کی جانب سے استفسارکیاگیاکہ اس بارے میں تاریخی حقائق سے ہمیں آگاہ کیا جائے۔ اس قسم کے کالموں میں چونکہ متعلقہ کئی پہلو سامنے لاناہوتے ہیں، اس لیے قدرتی طورپر یہ کالم کئی کئی قسطوں پر پھیل گئے۔

قارئین کے خطوط اور برقی پیغامات سے ہی معلوم ہواکہ کالموں کے اس سلسلے میں تاریخ کے بہت سے ایسے گوشے ان کے سامنے آئے ہیں جن سے وہ بالکل ناواقف تھے یااس بارے میں ان کی معلومات سطحی تھیں۔ بہت سے قارئین ایسے بھی تھے جو سیکولر اور گمراہ قسم کے مصنفین کی کتب پڑھ کر بہت سے تاریخی واقعات کے بارے میں غلط ذہنیت اختیار کیے ہوئے تھے۔ الحمدللہ ان سب کو ان کالموں سے بہت فائدہ ہوا۔ اگرچہ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو بعض کالموں پر معترض ہوئے مگرایسی مثالیں کم ہیں۔ بعض مخلصین کی طرف سے اب ایک رائے یہ دی جارہی ہے کہ آپ اپنے پرانے رنگ پر آجائیں اور حالاتِ حاضرہ کوہی موضوع بنائیں۔ ا س سے لوگوں کوزیادہ فائدہ ہوگا، کیونکہ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے کم ہیں اور حالاتِ حاضرہ کے بارے میں تبصرے پڑھنے والے زیادہ۔ میرے لیے اپنے تمام قارئین قابلِ احترام ہیں اور سب کی رائے میرے لیے اہم ہے۔ تاہم اس فیصلے کے لیے کہ آیا تاریخی رنگ کوباقی رکھا جائے یاحالاتِ حاضرہ کو ترجیح دی جائے، راقم اپنے تمام قارئین سے بطورِ خاص استصوابِ رائے کرنا چاہتا ہے تاکہ فیصلہ کرناآسان ہو۔ ایسانہ ہوکہ طرز تبدیل ہوتے ہی دیگر قارئین کی طر ف سے اصرارہوکہ ہم تو تاریخی کالم پڑھناچاہتے ہیں اور یہ کہ فلاں فلاں تاریخی موضوع پرلکھاجائے۔

اپنی قیمتی رائے سے آگاہ کرنے کے لیے درج ذیل فون نمبر پر صرف میسج بھیجیں۔ نمبر میرا نہیں، ایک دوست کاہے۔ اس پر فون نہ کریں، ورنہ انہیں زحمت ہوگی:0322-5758344

نیز پیغام اس ایڈرس پر ای میل بھی کیا جاسکتا ہے:
rehanbhai@gmail.com