چمک اور گرج

ندیم تابانی

جنرل راحیل شریف کا دبنگ دور مکمل ہونے میں کچھ دن کم دو ماہ رہ گئے ہیں، اس میں دو رائے نہیں کہ میاں نواز شریف آرمی چیف کی مدت میں اضافے کے قائل نہیں، یہ بھی صحیح ہے کہ جنرل راحیل شریف اب سے چھ ماہ پہلے یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ مدت میں اضافے پر یقین نہیں رکھتے، مدت پوری ہونے پر چلے جائیں گے، بعض لوگ خواہ مخواہ مصر ہیں کہ وزیر اعظم نے جنرل راحیل کو پیش کش کی تھی اضافے کی، انہوں نے انکار کر دیا، یہ بھی کہا جا رہا ہے فوج تو ایک دبنگ چیف ہی چاہے گی، لیکن نواز شریف کسی کمزور کا انتخاب کریں گے۔ پتا نہیں ایسے لوگ یہ کہہ کر نواز شریف کے خلاف دل کی بات زبان پر لا رہے ہیں یا منتخب ہونے والے آرمی چیف کی عزت کم کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ بھی ہے، اگر انڈیا کو جنگ کی خارش نہ ہوئی تو نئے آرمی چیف کا اعلان نومبر کے آخر میں ہی ہوگا عین وقت پر، میاں نواز شریف کم از کم اس پتے کو اپنے ہاتھ میں ہی رکھنا چاہیں گے۔ البتہ اس وقت کم از کم ایک صاحب اور ان کے طفیل کچھ اور صاحبان اس کوشش میں ہیں کہ میاں نواز شریف کا دھڑن تختہ ہو جائے اور وہ نئے آرمی چیف کا تقرر نہ کر سکیں۔ پتا نہیں یہ میاں نواز شریف سے نفرت کا اظہار ہے یا فوج کو متنازع بنانے کا ذوق، شوق ہے، کیوں کہ ایسے لوگوں کی یہ بھی خواہش ہے کہ افراتفری پھیلے اور بوٹوں والی سرکار کو موقع ملے۔

***

ہندوستان کا پاکستان میں گھس کر کارروائی کا دعویٰ تو ٹھس ہو گیا، کسی نے نہیں مانا، خود ان کی چھوٹی موٹی سرکاریں نہیں مان رہیں، کہہ رہی ہیں وڈیو دکھاؤ اگر سچے ہو تو! بلکہ بڑی سرکار کے سانجھے دار بھی نہیں مان رہے، یہی نہیں اس سرکار کے امّاں ابا بھی نہیں مان رہے۔ اس کی صرف یہی وجہ نہیں کہ ہندوستان کے پاس اس طرح گھس کر حملے کا ثبوت نہیں، بلکہ ماہرین کہتے ہیں ہندوستان کے پاس یہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ پاکستان میں گھس کر حملہ کرسکے، اتنا تو وہ بھی جانتے ہیں کہ اگر کبھی اس نے گُھسنے کی کوشش کی تو پاکستانی اسے گِھس کررکھ دیں گے۔

***

عدالت عالیہ اسلام آباد نے محترمہ شیریں مزاری کی وہ درخواست خارج کر دی، جس میں موصوفہ نے خواجہ آصف کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، یاد رہے کہ خواجہ آصف نے محتر مہ کو ٹریکٹر ٹرالی کا نام دیا تھا، عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت پارلیمنٹ کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ تو۔۔۔؟ کیا مطلب خواجہ آصف کو اجازت مل گئی کہ وہ موصوفہ کو اسی نام سے پکارتے رہیں، عدالت دخل نہ دے گی۔ خواجہ جی اس کو لائسنس مت سمجھ لیجیے گا، اگر چہ محترمہ کو یہ نام بہت پسند آیا ہے، مگر آپ سوری کر چکے تو سوری پر قائم رہیے گا!

***

کل جماعتی کانفرنس کے متفقہ اعلامیہ میں ہندوستان کو جس طرح آنکھیں دکھائی گئیں، وہ عمران خان کو پسند نہیں آیا، لہٰذا انہوں نے مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائی کاٹ کر دیا، یہ بات عجیب ہی نہیں عجیب و غریب سمجھی جا رہی ہے کہ عمران خان دن رات میاں نواز شریف کو مودی کا یار کہتے نہیں تھکتے، لیکن جو اجلاس کشمیر یوں کے ساتھ یک جہتی اور مودی جارحیت کے خلاف بلایا گیا، اس اجلاس کا خان صاحب نے بائی کاٹ کر دیا، تاکہ پارلیمنٹ کی متفقہ رائے سامنے نہ آسکے اور ہندوستان کو بغلیں بجانے کا موقع مل سکے کہ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف پارلیمنٹ کے ساتھ نہیں۔

***

بلاول زرداری نے پی پی چھوڑ کر جانے والے کارکنوں اور راہ نماؤں سے واپسی کی اپیل ہے، بلاول زرداری پنجاب میں پارٹی کو واقعی متحرک اور مقبول بنانا چاہتے ہیں تومحض اپیل کافی نہیں سمجھنی چاہیے، بلکہ جانے والوں اور روٹھنے والوں کے پاس جرگے بھیجنے چاہییں۔ سب سے پہلے تو شاہ محمود قریشی کے پاس وفد بھیجنا چاہیے، بے چارے تحریک انصاف میں یرغمال بنتے جا رہے ہیں، سننے میں یہی آرہا ہے کہ موصوف وہاں سخت پریشان ہیں، ان کے بارے میں کبھی یہ گمان کیا جاتا تھا کہ وہ تحریک انصاف کو ہائی جیک کر لیں گے، شاید کبھی ان کا پروگرام پارٹی پر قبضے کا رہا ہو، مگر موجودہ صورت حال تو یہ ہے کہ جہاں گیر ترین کی ’’چمک‘‘ کے سامنے ان کی ’’گرج ‘‘ناکام سی لگ رہی ہے۔ امید کی جاتی ہے ان کی واپسی پی پی میں جان ڈال دے گی۔