پرانے شکاریوں کا نیا جال اور بیداری کی ضرورت

عبد القدوس محمدی

عالمی استعماری اور سامراجی قوتوں کی طرف سے اسلام، مسلمانوں، اسلامی تعلیمات، اسلامی تہذیب وتمدن کے خلاف مدتوں سے جو جال بنے جارہے ہیں، جس قسم کی منصوبہ بندی ہورہی ہے اور جس طرح محاذ بدل بدل کر دشمن یلغا رکر رہا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں خاص طور پر کچھ عرصے سے پرکشش نعروں، خوبصورت عنوانات اور گمراہ کن منصوبوں کی شکل میں مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اسی قسم کی ایک کوشش کے لیے ان دنوں راہ ہموار کی جارہی ہے اور نئے شکاری پرانے جال لے کرگھات لگائے بیٹھے ہیں اور مسلمانوں کے مستقبل کے لیے ایک ایسا بھیانک منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے جس کی آڑ میں اسلام، اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب وتمدن کی عالیشان اور بلند وبالا عمارت کو زمین بوس کرنے کی کوشش کی جائے گی اور ہر جہت سے اسلامی تہذیب وتمدن پر حملے کیے جائیں گے۔ بظاہر اسے غربت مٹانے اور لوگوں کا معیار زندگی بہتر اور بلند کرنے کا عنوان دیا گیا ہے لیکن اس کی تفصیل میں جھانکیں تو اندازہ ہوتا ہے توہین رسالت سے لے فحاشی وعریانی تک، ہم جنس پرستی سے لے کر خاندانی نظام کی تباہی وبربادی تک کوئی پہلو بھی ایسا نہیں جسے ہدف بنانے کی کوشش نہ کی جارہی ہو۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ استعماری اور سامراجی قوتوں کے دباؤپر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے عالمی سطح پر غربت مٹانے اور لوگوں کے معیارزندگی کوبہتر بنانے کے نام نہاد پائیدار عالمی ترقی کے ایجنڈا 2030ء کوحتمی شکل دینے کے لیے اگلے ماہ اکواڈور میں عالمی کانفرنس منعقد کرنے کااعلان کیاگیا ہے۔ اس موضوع پر 25جولائی 2016ء کو انڈونیشیا کے شہر سورابائی میں ایک اجلاس منعقد ہواتھا جس میں اکواڈور میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس سے متعلق ابتدائی بات چیت ہوئی تھی۔ اس موقع پر یہ طے کیا گیا تھا کہ جنوبی امریکاکے ملک اکواڈور میں 17تا20اکتوبر کو عالمی کانفرنس منعقد ہوگی جس میں دنیابھرکے 193 ممالک کے سربراہوں اور نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والے ممالک کے سربراہوں اور نمائندوں کو عالمی ادارے کی وضع کردہ پائیدارعالمی ترقی کے ایجنڈا کے مسودے پر دستخط کرنا ہوں گے جس کے بعد اس ایجنڈے کو عالمی سطح پر نافذ کیاجائے گا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس ایجنڈے کی منظوری 25ستمبر2015ء کو دی تھی۔ اس ایجنڈے کے 17 بڑے اورنمایاں اہداف ہیں جن میں غربت کاخاتمہ، معیاری نظامِ تعلیم، صحت، عدل ومساوات، جنسی تفریق کا خاتمہ، اظہار رائے کی آزادی بالخصوص خواتین کی ہرقسم کی آزادی جیسے عنوانات قابل ذکر ہیں۔ اس خفیہ شیطانی منصوبے پر پوری دنیا میں ایک سکوت طاری تھا اس دوران عالم اسلام کے موقر ادارے رابطہ عالم اسلامی کی بین الاقوامی علما کونسل نے اس معاملے کی سنگینی کا بروقت ادراک کرتے ہوئے اس پر غور وخوض کیا اور عالم اسلام کو اس کے مضمرات واس کے پس پردہ خطرات سے آگاہ کیا۔
رابطہ عالم اسلامی کی بین الاقوامی علماء کونسل نے اپنے مشترکہ بیان میں اس ایجنڈے کو اقوام عالم بالخصوص اسلامی ممالک کے لیے عالمی قوتوں کاایک جال قرار دیا ہے۔ بیان میں کہاگیاہے کہ اس ایجنڈے میں شامل شقوں میں سے چند نکات نہ صرف اسلامی شریعت کے متصادم ہیں بلکہ اسلام کے علاوہ باقی آسمانی مذاہب کی تعلیمات اورانسانی فطرت کے بھی منافی ہیں۔ ایسے نکات میں نام نہاد آزادی کے نام پرمذاہبِ عالم کے خلاف گستاخی اور دریدہ دہنی کی اجازت دینا، کم عمر افراد کے لیے جنسی تعلیم کولازمی قراردے کر جنسی بے راہ روی کو ہوادیناشامل ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کو شخصی آزادی کے نام پر اُکساکر انہیں صنعتی زندگی کا حصہ بناناتاکہ وہ بچوں کی پرورش اورتربیت چھوڑکر محفوظ خاندانی زندگی کے بجائے آوارگی کی زندگی گزاریں جس سے اسلام کے خاندانی تصور کاخاتمہ ہو۔ اس ایجنڈے میں نوجوانوں کو ہرقسم کی جنسی آزادی کے حقوق کامطالبہ کرکے ہم جنس پرستی جیسے شرمناک اورگھناؤنے عمل کوقانونی تحفظ دینے کا نکتہ بطورخاص شامل ہے۔ اکواڈور کانفرنس میں اس ایجنڈے کو عالمی سطح پر نافذکرنے کے لیے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے دستخط لئے جائیں گے۔ رابطہ عالمِ اسلامی نے عالمی سطح پر اس کانفرنس کے بائیکاٹ کرنے کے لیے آگاہی مہم شروع کی ہے اس ضمن میں اسلامی ممالک کے حکومتی اداروں، خاندانی امور کی وزارتوں، تنظیموں اور سرکردہ سیاسی وسماجی شخصیات سے رابطے کئے جارہے ہیں اوران پرزوردیاگیاہے کہ وہ اکواڈور کانفرنس میں شرکت کرنے والے وفودکو قائل کریں کہ وہ اس نام نہاد پائیدارعالمی ترقی کے ایجنڈے پر دستخط کرنے کے بجائے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قائم معاشرتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متنازع حصوں پراپنے تحفظات سے عالمی ادارے کوآگاہ کریں۔

اسلامی ممالک میں سعودی عرب پہلا ملک ہے جس نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس ایجنڈے پر اپنے تحفظات ظاہرکئے ہیں۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی موجودگی میں عالمی برادری کو مخاطب کرکے ایسے ایجنڈے پرجس سے اسلامی ممالک کی خودمختاری اورخاندانی و معاشرتی نظام زندگی کے متاثر ہونے کاخدشہ ہو، اپنے تحفظات ظاہرکئے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے اس ایجنڈے کا نشانہ افریقااورایشیا کے زیادہ تراسلامی ممالک بنیں گے۔ الجزائرسے شائع ہونے والے جریدے نے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ اکواڈورکانفرنس سے پہلے ہی الجزائر، مراکش، موریتانیہ، تیونس اوردیگر ہمسایہ عرب ممالک میں یورپی این جی اوز نے خواتین کی آزادی کے نام پر فنڈنگ کاسلسلہ شروع کردیاہے۔ یورپی یونین کے تحت کام کرنے والے ایک ادارے نے الجزائر میں خواتین کی آزادی کے نام پر کام کرنے والے اداروں کو 1لاکھ 30 ہزاریورو کی رقم دی ہے۔ الجزائر میں خواتین کے لیے سرگرم کارکن نے میڈیاکو بتایاکہ اس فنڈ کا مقصد الجزائر اورہمسایہ اسلامی ملکوں میں خواتین کو آزادی کے نام پر گمراہ کرنے کی سازش کاحصہ ہے۔ عرب جریدے نے انکشاف کیاہے کہ اکواڈورکانفرنس میں اسلامی ممالک سے متوقع پر شرکت کرنے والے وفود کو یورپی یونین کی جانب سے فنڈنگ کاسلسلہ شروع کردیاگیاہے تاکہ کانفرنس میں شریک وفود پائیدار عالمی ترقی کے ایجنڈے کے مسودے پر تحفظا ت ظاہرکئے بغیر دستخط کریں۔

مذکورہ بالا تفصیل سے معاملے کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن ہمارے لیے اس سے زیادہ افسوسناک امر یہ ہے پاکستان کے حکومتی، صحافتی اور مذہبی حلقوں میں تاریخ کے اس نازک ترین موڑ اور اتنے سنگین معاملے پرکسی قسم کی فکر مندی، شعور، بیداری اور احساس تک دکھائی نہیں دے رہااس صورت حال میں پاکستان کے علماء کرام، مذہبی تنظیموں کے قائدین اور درد دل رکھنے والے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ رابطہ عالم اسلامی کی بین الاقوامی علماء کونسل کے موقر علما ء کرام کی آواز میں اپنی آواز شامل کرکے آنے والی نسلوں کو ایک ایک طوفان بلاخیز سے بچانے کی سعی کریں اور صحافتی دنیامیں موجود اہل دل سے التماس ہے کہ اپنی اپنی سطح پر اس حوالے سے صدائے احتجاج بلند کریں، اس حوالے سے شعور اجاگر کریں اور بالخصوص حکومتی حلقے کسی بھی دام ہمرنگ زمین میں آنے سے قبل قومی سطح کی مشاورت اور تمام اسٹیک ہولڈر ز کو اعتماد میں لینے کا ضرور اہتمام کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ چند حکومتی بابوؤں پر مشتمل کوئی وفد بھیج دیا جائے جو اس منصوبے کے پس منظر سے ناواقف ہو اور مروت میں رسم دنیا سمجھ کر یا ترقی کا پرکشش عنوان اور معیار زندگی کی بہتری کا سبز باغ دیکھ کر اس ایجنڈے پر دستخط کر آئے اور اسلام کے نام اور کلمہ طیبہ کے نعرے پر معرض وجود میں آنے والی مملکت خدادادمیں مقیم کروڑوں اسلامیانِ پاکستان اور ان کی آنے والی نسلوں کو کسی دلدل میں دھنسا آئے ۔۔۔ جاگتے رہیے اور دوسروں کو جگاتے رہیے۔