پاکستان کے دفاعی جوہری منصوبے کی امریکی مخالفت

پروفیسر شمیم اختر

امریکا کے رسوائے زمانہ اور جنسی جرائم کے مرتکب صدر بل کلنٹن کی بیوی جو اس وقت صدارتی انتخاب کی مہم میں اپنے حریف ڈونلڈٹرمپ کی ذاتی زندگی پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہے، پاکستان کے دفاعی نزدیک مار کرنے والے جوہری بم سازی کے پروگرام پر نیش زنی سے باز نہ آئی۔ اس نے 28، 29 ستمبر کو بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر کے علاقے بکسر (بھمبر سیکٹر) اور مندول (HOT SPRINGS) پر حملے کے دعوے پر سرزنش کرنے کی بجائے پاکستان پر میدان جنگ تک محدود مار کرنے والے جوہری میزائلوں کی تیاری اور استعمال پر نہ صرف شدید اعتراض کیا، بلکہ اس خدشے کا خاص کر اظہار کیا کہ کل پاکستان میں انتہاپسند جنگجو اقتدار پر قابض ہوجائیں گے اور جوہری خودکش بمبار بن کر عالمی امن کو تہہ وبالا کردیں گے۔ (ڈان، اتوار، 2 اکتوبر 2016ء)

جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے نائب سرجان مارک ٹونز نے آزاد کشمیر پر بھارت کے مذکورہ حملے میں دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے اڈوں کے قلع قمع کرنے کے دعوؤں پر رائے زنی سے گریز کرتے ہوئے پاکستان کو بزرگانہ انداز میں ایٹمی آداب کا درس دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ جوہری اسلحہ بردار طاقتوں کو بڑے ’’ضبط وتحمل‘‘ (RESTRAINT) کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے صرف پاکستان کی جانب سے جوہری بموں کے استعمال کی دھمکیوں کا ذکر کیا۔ جبکہ انہوں نے دس سال سے بھارت کی جانب سے پاکستان کی سرزمین پر حملہ کرکے محدود اور مخصوص مقامات پر رفتہ رفتہ قبضہ کرنے کے توسیع پسندانہ منصوبے COLD START پر کسی تشویش کا کبھی اظہار نہ کیا، شاید اس لیے کہ امریکی استعمار پاکستان پر قبضہ کے بھارتی منصوبے کا حامی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نریندرمودی نے بنگلادیش کے سرکاری دورے کے دوران مشرقی پاکستان پر حملہ کرکے اسے بنگلادیش کی علیحدہ ریاست بنانے کا فخریہ دعویٰ کیا تو مغربی طاقتوں بشمول امریکا اور اس کی رکھیل سلامتی کونسل نے اس کی مذمت نہیں کی۔

اگر ایک بار بھارت کے ہاتھوں ڈسے جانے کے بعد بھی اہل پاکستان اپنے دفاع کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بناتے تو یہ شتر مرغ کی طرح اس کا لقمہ بننے کے لیے تیار رہتے۔ کسی یورپی رہنما کا زریں قول ہے کہ اگر امن چاہتے ہوتو جنگ کے لیے تیار رہو۔ کیا پینٹاگون نے 1980ء کی RAND CORPORATION رپورٹ نہیں پڑھی، جس میں ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین روایتی اسلحے کے عدم توازن اور پاکستان کی ناکافی تزویراتی عمق کے باعث اس کی بقا کو بھارت کی جانب سے ہمیشہ خطرہ لاحق رہے گا، جس کے سدباب کے لیے پاکستان کے لیے جوہری اسلحہ کا حصول ناگزیر ہوجائے گا۔ اسی لیے مذکورہ رپورٹ میں پینٹاگون کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ پاکستان کو ایٹم بم بنانے سے نہیں روک سکیں گے، البتہ اس عمل (Nuclear Weapon making) میں تاخیر کرسکتے ہیں۔ یعنی اسے جدید ترین جنگی طیارے، ٹینک، بحری جہاز سے لیس کردیں تاکہ وہ سرحد پار سے بھارت کی یورش کو روک سکے۔ رپورٹ میں پینٹاگون کو انتباہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ پاکستان پر پابندیاں عاید کرے گا تو وہ جلد سے جلد ایٹم بم بنالے گا۔ چنانچہ یہی ہوا۔

امریکا اور استعماری ٹولے کی لاکھ پابندیوں کے باوجود پاکستان نے جوہری بم بنالیا۔ اگر بھارت اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو مشتعل کرنے کی بجائے متنازع مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی مخلصانہ کوشش کرتا تو کوئی وجہ نہیں کہ دونوں کے مابین تعلقات معمول پر نہ آگئے ہوتے۔ لیکن اس کے برعکس بھارت نے نزدیک، درمیان اور دوردراز فاصلوں تک مار کرنے والے میزائلوں کے تجربات کرکے پاکستان کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا۔ مارک ٹونر بے چارہ تو چھوٹا موٹا اہلکار ہے، اسے تو اتنا ہی بولنے کا اختیار ہے جتنا اوپر سے اسے لکھ کر دے دیا جاتا ہے۔ ہم اس’’ بڈھی گھوڑی لال لگام‘‘ والی ہلیری کلنٹن سے سوال کرتے ہیں کہ اگر بھارت پاکستان پر جراحی ضرب (SURGICAL STRIKE) دوبارہ لگاتا ہے اور خدانخواستہ سیالکوٹ سرحد کو پار کرکے سیالکوٹ شہر پر قبضہ کرلیتا ہے تو کیا پاکستان کو اس سے نہ ختم ہونے والے اور بیچ بیچ میں معطل ہوجانے والے مذاکرات کرنا چاہیے؟

ہم یہی سوال ہلیری کلنٹن سے کرتے ہیں: اگر روس نے کیوبا سے درمیانے فاصلے پر مار کرنے والے میزائل نہ ہٹالیے ہوتے اور کیوبا جانے والے اپنے جہاز نہ روک لیے ہوتے تو صدر کینڈی کیا کرتے؟ اسی طرح جب بھارت کا وزیر دفاع منوہر پریکر پاکستان کے زیر انتظام علاقے پر حملے کا باربار ذکر کرکے اسے آیندہ بھی جاری رکھنے کا اعلان کرتا ہے تو قطع نظر اس کے کہ وہ دعویٰ سچ ہے یا جھوٹ، پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ضرور ہے،جس کا اسے جواب دینا پڑے گا۔ ابھی تو پاکستان نے اس کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرکے بڑی خوش اسلوبی سے ٹال دیا، لیکن اگر آیندہ واقعی پاکستان کی سرزمین پر بھارت جراحی ضرب لگاتا ہے تو پاکستان ویسی ہی ضرب اس پر لگانے پر حق بجانب ہوگا، کیونکہ اب اسے مذاق میں نہیں ٹالا جاسکتا۔ اگر پاکستان کے حکمران فاٹا، کاکول اور بلوچستان میں امریکی ڈرون حملوں پر نیم رضا والی خاموشی یا بناوٹی غم وغصے کے اظہار پر اکتفا نہ کرتے اور اس کے خلاف سلامتی کونسل میں کارروائی کرتے تو آج بھارت کو پاکستان پر جراحی عمل کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔

دراصل جراحی وار امریکا کا طریقۂ واردات ہے، جو امریکا ایک عشرے سے پاکستان پر کرتا رہا ہے۔ بعینہٖ وہی حربہ بھارت نے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس پر لال پری (ہلیری کلنٹن) پاکستان میں جنگجوؤں کے برسراقتدار آنے کے اندیشے کی بجائے بھارتی گجرات کے مسلمانوں کے قاتل نریندرمودی کے برسراقتدار آنے پر واویلا کرتیں کہ اب وہ (مودی) دو سو ایٹم بم ہاتھ میں لیے پاکستان اور چین کو دھمکی دے رہا ہے۔ کیا ہلیری کلنٹن کو نریندرمودی کی انتہاپسندی اور مہم جوئی کو علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ نہیں سمجھتیں؟ کیا بھارت نے گزشتہ سال اور 70،80 کے عشروں میں نیپال کی ناکہ بندی نہیں کی؟ کیا اس نے سری لنکا پر فوج کشی نہیں کی؟ہلیری کلنٹن کو بھارت کے میزائلوں سے خطرہ نہیں محسوس ہوتا، لیکن بھارت کے SURGICAL STRIKES سے بچاؤ کے لیے پاکستان کے نزدیک مار کرنے والے جوہری میزائلوں سے ڈر لگتا ہے!

اگر نزدیک مار کرنے والے جوہری میزائل بنانا ناجائز ہے تو امریکا نے کیوں ایسے لاتعداد میزائل بنائے ہیں؟ علاوہ ازیں امریکا نے DEPLETED URANIUM سے ٹینک کے گولے، بم اور راکٹ بنائے اور انہیں عراق میں بے دردی سے استعمال کیا۔ ان سے فضا میں تابکاری پھیلتی ہے اورجو لوگ سانس لیتے ہیں ان میں زہر سرایت کرجاتا ہے، جس سے لوگ پھیپھڑوں اور ہڈیوں کے سرطان اور گردے کی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کی رائے ہے کہ DEPLETED گولوں اور گولیوں کے پھٹنے سے فضا مسموم ہوجاتی ہے اور یہ زہر ہوا کے ذریعے 25 میل تک پھیل جاتا ہے۔ اس بم کو امریکی حملہ آوروں نے 91 ء میں عراق پر بے دریغ استعمال کیا، جس سے ہزاروں عراقی مہلک امراض میں مبتلا ہوکر یا تو مرگئے یا ایڑیاں رگڑ رگڑکر مررہے ہیں۔ امریکی فوجی جنرل تو اتنے سنگ دل ہیں کہ انہوں نے عراق پر اپنی حملہ آور فوج کو DEPLETED URANIUM کے مہلک اثرات سے بے خبر رکھا اور جب انہوں نے عراقی فوج کے ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنایا تو ان میں موجود سپاہی اور افسران تو ہلاک ہوگئے، لیکن فتح کے جوش میں جن امریکی فوجیوں نے ان گاڑیوں اور ٹینکوں پر قبضہ کرلیا اور ان پر سوار ہوگئے، سو وہ سب تابکاری کی زد میں آگئے۔انجمن OPERATION DESERT STORM / SHIELD نے تحقیقات کے بعد دریافت کیا کہ دس ہزار اکیاون (1051) امریکی سپاہیوں میں سے 82 فیصد جو عراقی فوجیوں کی گاڑیوں اور ان کے ٹینکوں میں داخل ہوگئے تھے، سب کے سب مہلک امراض میں مبتلا ہوکر مررہے ہیں (THE NATION، 21 اکتوبر 1996ء، صفحات 12، 13)قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ جو حکومت اپنے فوجیوں کے ساتھ ایسی دغا کرتی ہے کہ انہیں ایسے مہلک ہتھیاروں کے اثرات سے تحفظ نہیں فراہم کرتی، وہ بھلا عراق، فلسطین، افغانستان، پاکستان، ویتنام، لاؤس، کمبوڈیا، چین اور کیوبا کے باشندوں کی زندگیوں کا کیا خیال رکھے گی؟

ابھی ہم نے ہلیری کلنٹن کو صرف عراق کی مثال دی ہے، جہاں امریکا نے نسل کش اسلحہ استعمال کیا اور ممنوعہ اسلحے کا بے محابا استعمال کیا۔ آیندہ کالموں میں ایسے دیگر اسلحہ جات کے استعمال کا ذکر کروں گا جو قانوناً تو ممنوع ہیں، لیکن امریکا کے اسلحہ خانے میں موجود ہیں جو وہ متحاربین کو فروخت کرتا رہتا ہے یا خود استعمال کرتا ہے۔ مثلاً CLUSTER BOMB جو برطانیہ اور امریکا نے وافر مقدار میں سعودی عرب کو فروخت کیا ہے، جسے وہ اندھادھند استعمال کررہا ہے۔

یہ بڑی ستم ظریفی ہے کہ مسماۃ ہلیری جو لال پری کے روپ میں پاکستان کے جوہری اسلحہ کے جنگجوؤں کے ہاتھ لگنے پر واویلا کررہی ہیں، انہیں کون بتائے کہ امریکا کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے جنگجو سے پاکستان کے جوہری اسلحہ خانے کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر اس پر کسی نے ہاتھ ڈالا تو وہ امریکا کا ہی ہاتھ ہوگا۔ لیکن وہ کاٹ دیا جائے گا، کیونکہ حدود میں چوری کی یہی سزا ہے۔